أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنۡ كَانَ اٰبَآؤُكُمۡ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ وَاِخۡوَانُكُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ وَعَشِيۡرَتُكُمۡ وَ اَمۡوَالُ ۨاقۡتَرَفۡتُمُوۡهَا وَتِجَارَةٌ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَ جِهَادٍ فِىۡ سَبِيۡلِهٖ فَتَرَ بَّصُوۡا حَتّٰى يَاۡتِىَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

(اے رسول مکرم ! ) آپ کہیے کہ اگر تمہارے باپ دادا اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے رشتہ دار اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور تمہاری تجارت جس کے گھاتے کا تمہیں خطرہ ہے اور تمہارے پسندیدہ مکان تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہوں تو تم انتظار کرو حتیٰ کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے رسول مکرم ! ) آپ کہئے کہ اگر تمہارے باپ دادا اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے رشتہ دار اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور تمہاری تجارت جس کے گھاٹے کا تمہیں خطرہ ہے اور تمہارے پسندیدہ مکان، تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہوں تو تم انتظار کرو حتیٰ کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (التوبہ : ٢٤ )

اپنے باپ، بیٹے، بھائی، بیوی، قریبی اعزہ، وطن، تجارت اور مال و دولت سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا محبوب ہونا :

انسان کو فطری طور پر اپنے باپ دادا، بیٹے، بیویاں اور دیگر قریبی رشتہ دار بہت محبوب ہوتے ہیں، اسی طرح اس کو اپنا کمایا ہوا مال اور اپنا کاروبار بھی بہت مرغوب ہوتا ہے اور اپنے رہائشی مکان بھی اس کو بہت پسند ہوتے ہیں اور ان سب کو چھوڑ کر کسی دوسرے شہر میں چلے جانا اس کے لیے بہت دشوار ہوتا ہے اس لیے ہجرت کرنا اس پر طبعاً گراں ہوتا ہے اور اپنی جان بھی اس کو بہت پیاری ہوتی ہے اس لیے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اس پر بہت شاق ہوتا ہے، اور شیطان بھی اس کو ہجرت کرنے اور جہاد کرنے سے ورغلاتا ہے۔ حدیث میں ہے : حضرت سبرہ بن ابی فاکہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان ابن آدم کے راستوں میں بیٹھ جاتا ہے، وہ اسلام کے راستہ میں بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے تم اپنے دین اور اپنے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑ رہے ہو ؟ ابن آدم شیطان کی بات رد کرکے اسلام قبول کرلیتا ہے، پھر وہ اس کی ہجرت کے راستہ میں بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم ہجرت کرکے اپنے وطن کی زمین اور آسمان کو چھوڑ رہے ہو، مہاجر کی مثال تو اس گھوڑے کی طرح ہے جو رسی سے بندھا ہوا ہو (یعنی تم ایک اجنبی شہر میں جا کر مقید ہو جائو گے اور کسی جگہ آجا نہیں سکو گے) ابن آدم شیطان کی اس بات کو بھی رد کرکے ہجرت کرتا ہے، پھر شیطان اس کے جہاد کے راستہ میں بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم جہاد کرنے جا رہے ہو، تم اپنی جان اور مال کو خطرہ میں ڈلو گے، تم جہاد میں مارے جائو گے، تمہاری بیوی دوسرا نکاح کرلے گی، تمہارا مال تقسیم ہوجائے گا۔ ابن آدم اس کی اس بات کو بھی رد کرکے جہاد کے لیے چلا جاتا ہے۔ جس مسلمان نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کر دے……الحدیث : (سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١٣٤) ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مسلمانوں پر یہ واجب کیا ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں، مال و دولت، اپنے مکانوں بلکہ خود اپنی جانوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محبوب رکھیں، اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں اپنے وطن سے ہجرت کریں اور اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ اللہ کی محبت کا کیا معنی ہے، اللہ بندوں سے کس طرح محبت کرتا ہے اور بندے اس سے کس طرح محبت کریں، اس کی پوری تفصیل ہم نے آل عمران : ٣١ میں بیان کردی ہے، اس کو وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کا کیا معنی ہے، آپ سے محبت کی کیا وجوہات ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کی کیا علامات ہیں، اس کو ہم نے شرح صحیح مسلم ج ١ ص ٤٥١۔ ٤٢٥، میں بیان کردیا ہے۔ وہاں ملاحظہ فرمائیں اور تبرکاً چند حدیثیں یہاں بھی ذکر کی جاتی ہیں : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوگا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٠١٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٧، مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٨١٤، طبع جدید) ۔ زہرہ بن معبد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن الخطاب (رض) کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنی جان کے سوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوگا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوں۔ پھر حضرت عمر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب اے عمر (رض) ! (مسند احمد ج ٤ ص ٣٣٦، طبع قدیم)

صحابہ کرام (رض) محبت کے اس معیار کا کامل نمونہ تھے :

اس آیت میں فرمایا ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے باپ دادا اور اولاد سے زیادہ محبوب ہوں اور جنگ بدر میں جب عتبہ بن ربیعہ نے مبارزت کی اور مسلمانوں کو مقابلے کے لئے للکارا تو حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ (رض) مقابلہ کے لیے آگے بڑھے لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : تم بیٹھ جائو۔ (کتاب المغازی للواقدی ج ١ ص ٧٠، مطبوعہ عالم الکتب بیروت، ١٤٠٤ ھ) ۔ ابن شوذب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن حضرت ابوعبیدہ (رض) کے باپ ان کو اپنے بت دکھا رہے تھے اور حضرت ابوعبیدہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا اور پھر ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی :

لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوآدون من حآد اللہ ورسولہ ولو کان اٰبآء ھم او ابنآئھم آو اخوانھم او عشیرتھم ط اولٓئک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ ط ویدخلھم جنٰت تجری من تحتھا الانھر خٰلدین فیھا رضی اللہ عنھم ورضو عنہ اولىک حزب اللہ ط الآ ان حزب اللہ ھم المفلحون (المجادلہ : ٢٢ )

ترجمہ : (اے رسول مکرم ! ) جو لوگ اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے محبت کرنے والا نہ پائیں گے خواہ (وہ دشمن) ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا ان کے قریبی رشتہ دار ہوں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان کو جاگزین کردیا ہے اور اپنی طرف کی پسندیدہ روح سے ان کی تائید فرمائی ہے، اور وہ ان کو ان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے، یہی لوگ اللہ کا لشکر ہیں۔ سنو ! اللہ کے لشکر کے لوگ ہی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔

(المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٦٠، المستدرک ج ٣ ص ٢٦٥۔ ٢٦٤، حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ امام طبرانی کی سند جید ہے، الاصابہ ج ٣ ص ٤٧٦، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، حافظ ابن کثیر نے اس روایت کو حافظ بیہقی کے حوالہ سے ذکر کیا ہے، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٣٨٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٨ ھ) ۔ نیز اس آیت میں فرمایا ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے رشتہ داروں سے زیادہ محبوب ہوں اور حدیث میں ہے کہ جنگ بدر میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے بیٹے جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے مسلمانوں کو لڑنے کے لیے للکار رہے تھے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے ان کے مقابلہ پر جانا چاہا لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی ذات سے ہمیں فائدہ پہنچائو۔ (الاستیعاب ج ٢ ص ٣٦٨، رقم : ١٤٠٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔ حضرت عمر (رض) نے جنگ بدر میں اپنے ماموں العاص بن ہشام بن المغیرہ کو قتل کردیا تھا۔ (سیرت ابن ہشام ج ٢ ص ٣٢٤، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔ امام ابو الحسن علی بن احمد الواحدی المتوفی ٤٦٨ ھ مذکور الصدر آیت (المجادلہ : ٢٢) کے شان نزول میں لکھتے ہیں : ابن جریج نے کہا مجھے یہ حدیث بیان کی گئی ہے کہ ابو قحافہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی تو حضرت ابوبکر (رض) نے ابو قحافہ (حضرت ابوبکر (رض) کا باپ) کو اس زور سے تھپڑ مارا کہ وہ گرپڑا، پھر انہوں نے اس واقعہ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا۔ آپ نے پوچھا : کیا تم نے ایسا کیا ؟ عرض کیا : ہاں ! آپ نے فرمایا : دوبارہ ایسا نہ کرنا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میرے پاس تلوار ہوتی تو میں اس کو قتل کردیتا، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کی شان میں نازل ہوئی جب انہوں نے جنگ احد میں اپنے باپ عبداللہ بن الجراح کو قتل کردیا اور حضرت ابوبکر (رض) کی شان میں نازل ہوئی جب جنگ بدر میں ان کے بیٹے عبدالرحمن نے مسلمانوں کو جنگ کے لیے للکارا تو حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے مقابلہ میں لڑنے کی اجازت مانگی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی ذات سے ہمیں فائدہ پہنچائو۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تم میرے لیے میری آنکھوں اور میرے کانوں کے مرتبہ میں ہو۔ اور حضرت مصعب بن عمیر کی شان میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو جنگ احد میں قتل کردیا اور حضرت عمر (رض) کی شان میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنے ماموں العاص بن ہشام بن المغیرہ کو جنگ بدر میں قتل کردیا اور حضرت علی اور حضرت حمزہ (رض) کی شان میں نازل ہوئی جب انہوں نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کردیا اور یہ صحابہ اس آیت کے اس حصہ کے مصداق ہیں خواہ وہ (دشمن) ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا ان کے قریبی رشتہ دار۔ (اسباب النزول للواحدی ص ٤٣٤ رقم الحدیث : ٤١٧، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، اسباب النزول للسیوطی ص ٨٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) ۔ سورة توبہ کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ اپنے باپ دادا، اپنے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنی بیویوں اور اپنے قریبی رشتہ داروں سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت رکھیں اور ان احادیث سے واضح ہوگیا کہ مختلف جنگوں میں صحابہ کرام (رض) نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں اپنے باپ، بھائی اور دیگر قریبی رشتہ داروں کو قتل کردیا اور ہم اس سے پہلے التوبہ : ١٢ کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں کہ ایک نابینا صحابی (رض) کے ایک باندی سے دو کمسن بچے تھے لیکن وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کرتی تھی تو انہوں نے اس کو قتل کردیا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٦١) اور حضرت عمیر بن امیہ کی ایک بہن تھی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرتی تھی تو انہوں نے اس کو قتل کردیا۔ (المعجم الکبیر ج ١٧ ص ٦٥۔ ٦٤) اسی طرح صحابہ کرام (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور اپنے رشتہ داروں کے علاوہ اپنے وطن، اپنے پسندیدہ مکانوں اور اپنے جمع شدہ مال اور اپنے کاروبار اور تجارت کو چھوڑ کر مدینہ چلے آئے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : امام ابن عدی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت صہیب بن سنان سے روایت کیا ہے کہ میں بعثت سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں تھا، کہا جاتا ہے کہ جب حضرت صہیب نے ہجرت کی تو مشرکین کی ایک جماعت نے ان کا پیچھا کیا۔ حضرت صہیب نے کہا : اے قریش کی جماعت ! میں تم سب سے بڑا تیر انداز ہوں اور جب تک میرے ترکش میں ایک تیر بھی باقی ہے تو تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔ تیر ختم ہونے کے بعد میں اپنی تلوار سے تم پر وار کروں گا، سو اگر تم میرا مال چاہتے ہو تو میں تم کو اس کا پتا بتاتا ہوں۔ کفار قریش اس پر راضی ہوگئے۔ حضرت صہیب نے ان سے معاہدہ کیا اور ان کو اپنے مال کا پتا بتادیا، وہ واپس گئے اور حضرت صہیب کا مال اپنے قبضہ میں کرلیا۔ جب حضرت صہیب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری تجارت فائدہ مند رہی، اور اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :

ومن الناس من یشری نفسہ ابتغآء مرضاۃ اللہ۔ (البقرہ : ٢٠٧)

ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی رضا کی طلب میں اپنی جان کو بیچ ڈالتے ہیں۔

(الاصابہ ج ٣ ص ٣٦٥، رقم : ٤١٢٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، کامل ابن عدی ج ٧ ص ٢٦٢٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت) سو واضح ہوگیا کہ صحابہ کرام (رض) کو اپنے باپ، بیٹوں اور تمام رشتہ داروں، وطن، مکان، تجارت اور مال و دولت ہر چیز سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت تھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 24