أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـقَدۡ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِىۡ مَوَاطِنَ كَثِيۡرَةٍ‌ ۙ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ‌ ۙ اِذۡ اَعۡجَبَـتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡكُمۡ شَيۡئًـا وَّضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّـيۡتُمۡ مُّدۡبِرِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ نے بہ کثرت مواقع پر تمہاری مدد فرمائی اور (غزوہ) حنین کے دن (بھی) جب تمہاری کثرت نے تمہیں گھمنڈ میں مبتلا کردیا تھا (حالانکہ) اس کثرت نے تم سے کسی چیز کو دور نہیں کیا اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پھیرتے ہوئے لوٹے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ نے بکثرت مواقع پر تمہاری مدد فرمائی اور (غزوہ) حنین کے دن (بھی) جب تمہاری کثرت نے تمہیں گھمنڈ میں مبتلا کردیا تھا، (حالانکہ) اس کثرت نے تم سے کسی چیز کو دور نہیں کیا اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پھیرتے ہوئے لوٹے پھر اللہ نے اپنے رسول پر طمانیت قلب نازل فرمائی، اور ایمان والوں پر (بھی) اور اس نے ایسے لشکر اتارے جن کو تم نے نہیں دیکھا، اور کافروں کو عذاب دیا اور کافروں کی یہی سزا ہے پھر اس کے بعد اللہ جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد مہربان ہے (التوبہ : ٢٧۔ ٢٥ )

آیات سابقہ سے ارتباط :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ مسلمانوں پر یہ واجب ہے کہ وہ اپنے مشرک باپ، بیٹوں، بھائیوں، بیویوں اور قریبی رشتہ داروں سے احتراز کریں اور اپنے اموال، تجارت، مکانوں اور کاروبار کو دین کے مفاد کے لیے ترک کردیں اور چونکہ یہ امر طبعی طور پر مسلمانوں کے لیے مشکل اور دشوار تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے غزوہ حنین کی مثال سے یہ بیان فرمایا کہ جو شخص دین کی خاطر دنیا کو ترک کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیاوی مطلوب بھی عطا فرماتا ہے، کیونکہ غزوہ حنین میں جب مسلمانوں نے اپنی کثرت پر اعتماد اور بھروسہ کیا تو وہ شکست کھا گئے، پھر جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف گڑگڑا کر رجوع کیا تو انہوں نے کفار کے لشکر کو شکست دے دی اور کافی مال غنیمت ان کے ہاتھ آیا، اس سے معلوم ہوا کہ جب انسان دنیا پر اعتماد کرتا ہے تو دین اور دنیا دونوں اس کے ہاتھ سے جاتے رہتے ہیں اور جب وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور دین کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے تو اللہ اس کو دین اور دنیا دونوں عطا فرماتا ہے۔

وادی حنین کا محل وقوع :

مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر ایک وادی ہے جس کا نام حنین ہے۔ (کتاب المغازی للواقدی ج ٢ ص ٨٨٥، طبقات ابن سعد ج ٢ ص ١٤٩) حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ ذوالمجاز کے پہلو میں طائف کے قریب یہ وادی ہے۔ عرفات کی جہت میں یہ مکہ سے دس بارہ میل ہے، ابوعبید بکری نے کہا ہے کہ حنین بن قابشہ بن مہلابل کے نام پر اس وادی کا نام حنین پڑگیا۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٢٧ ) ۔

اہل حنین کی مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری :

ہرچند کہ مسلمانوں کی فتوحات کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا لیکن جب تک مکہ فتح نہیں ہوا تھا، قبائل عرب مطمئن تھے، ان کا خیال تھا کہ اگر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کرلیا تو وہ واقعی سچے نبی ہیں، اور جب مکہ فتح ہوگیا تو بہت سے قبائل نے اسلام قبول کرلیا، لیکن ہوازن اور ثقیف دو قبیلے بہت جنگجو اور فنون حرب کے ماہر تھے، انہوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ اس وقت مسلمان مکہ میں جمع ہیں اس لیے سب مل کر ان پر حملہ کردیں، ان کے لشکر میں ہوازن اور ثقیف کی تمام شاخیں شریک تھیں لیکن کعب اور کلاب ان سے الگ رہے۔ ان کے لشکر کے سپہ سالار مالک بن عوف تھے۔ (یہ بعد میں طائف میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے دمشق کو فتح کیا اور جنگ قادسیہ میں شہید ہوئے۔ الاصابہ رقم : ٧٦٨٩)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اہل حنین سے جہاد کی تیاری :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب مکہ میں ہوازن اور ثقیف کی جنگی تیاریوں کی خبر پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن ابی حدرد (رض) کو تحقیق کے لیے حنین بھیجا۔ انہوں نے حنین میں کئی دن جاسوسی کی پھر آ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حالات سے مطلع کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقابلہ کی تیاری کی، مکہ میں صفوان بن امیہ امیر شخص تھا اور اس کے پاس کافی اسلحہ تھا۔ وہ اس وقت تک اسلام نہیں لایا تھا، آپ نے اس سے اسلحہ مستعار لیا، امام ابودائود نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : اے صفوان ! کیا تمہارے پاس ہتھیار ہیں ؟ اس نے پوچھا : آپ عاریتاً لینا چاہتے ہیں یا غصب کرنا چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! میں عاریتاً لینا چاہتا ہوں۔ اس نے آپ کو تیس چالیس زرہیں عاریتاً دیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ حنین میں گئے۔ جب مشرکین شکست کھا گئے تو صفوان کی زرہیں جمع کی گئیں تو اس نے کئی زرہیں گم پائیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفوان سے فرمایا : ہم سے تمہاری کئی زرہیں گم ہوگئیں، کیا ہم تم کو ان کا تاوان ادا کریں ؟ ا نے کہا : نہیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیونکہ میرے دل میں جو اب (آپ کی محبت) ہے وہ اس وقت نہیں تھی۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٥٦٣، سیرت ابن ہشام مع الروض الانف ج ٤ ص ٢٠٨، البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٥٢٧ طبع جدید) ۔ اسماعیل بن ابراہیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ حنین کے لیے گئے تو ان سے تیس یا چالیس ہزار درہم قرض لیے، پھر جب آپ واپس آئے تو آپ نے وہ سب قرض ادا کردیا، پھر ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تمہارے اہل اور مال میں برکت دے۔ قرض کی جزا یہ ہے کہ اس کو واپس کیا جائے اور (قرض خواہ کا) شکریہ ادا کیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٤٢٤ ) ۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غزوہ حنین کے لیے روانہ ہونا :

امام ابن اسحٰق نے کہا ہے کہ ان تیاریوں کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوازن کے مقابلہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ دس ہزار وہ صحابہ تھے جو مدینہ سے آپ کے ساتھ فتح مکہ کے لیے آئے تھے اور دو ہزار وہ نو مسلم صحابہ تھے جو مکہ میں مسلمان ہوگئے تھے۔ ان کو طلقاء کہا جاتا ہے۔ (البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٥٢٧) نیز امام محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ بیس رمضان آٹھ ہجری کو مکہ فتح ہوا تھا، اور پانچ شوال آٹھ ہجری کو آپ ہوازن کی طرف روانہ ہوئے، اس طرح ان کا گمان یہ ہے کہ فتح مکہ کے پندرہ دن بعد آپ ہوازن کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت ابن مسعود سے یہی روایت ہے اور عروہ بن الزبیر کا بھی یہی قول ہے۔ امام احمد کا اور امام ابن جریر کا بھی یہی مختار ہے اور امام واقدی نے یہ کہا ہے کہ آپ چھ شوال کو روانہ ہوئے اور دس شوال کو حنین پہنچ گئے۔ بارہ ہزار کا کثیر تعداد لشکر دیکھ کر حضرت ابوبکر (رض) نے یہ کہا کہ آج ہم لشکر کی قلت کی وجہ سے شکست یاب نہیں ہوں گے، تو مسلمانوں کو شکست ہوئی، پہلے بنو سلیم کو شکست ہوئی، پھر اہل مکہ کو، پھر تمام مسلمانوں کو۔ (البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٥٢٤، طبع جدید، ١٤١٨ ھ)

بعض نو مسلم صحابہ کا حنین کے راستے میں ذات انواط کی تمنا کرنا :

امام ابن اسحاق نے اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ حارث بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین کی طرف گئے۔ ہم اس وقت زمانہ جاہلیت سے نئے نئے نکلے ہوئے تھے۔ کفار قریش اور دیگر عرب کے لیے ایک سرسبز درخت تھا جس کو ذات انواط کہتے تھے۔ وہ ہر سال اس درخت پر آتے اور اس پر اپنا اسلحہ لٹکاتے اور وہاں جانور ذبح کرتے اور وہاں ایک دن اعتکاف کرتے۔ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین کی طرف جا رہے تھے تو ہم نے بیری کا ایک بہت بڑا سرسبز درخت دیکھا، ہم نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس درخت کو ہمارے لیے ذات انواط کر دیجئے جیسے ان کا ایک درخت ذات انواط ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر ! تم نے ایسی بات کہی ہے جیسی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان سے کہی تھی : ہمارے لیے بھی ایک ایسا معبود بنا دیجئے جیسے ان کے معبود ہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : تم جاہل لوگ ہو۔ (الاعراف : ١٣٨) یہ ان لوگوں کی عادتیں تھیں اور تم میں بھی ان کی عادتیں سرایت کریں گی۔ (سیرت ابن ہشام مع الروض الانف ج ٤ ص ٢١٢) ۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٢١٨، المعجم الکبیر ج ٣ ص ٢٧٥، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٧٦٣، مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٨٢٨ )

حنین میں ابتدائی شکست، شکست کے اسباب اور آپ کو چھوڑ کر بھاگنے والوں کی تعداد :

ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت براء (رض) سے کہا : اے ابو عمارہ ! کیا تم جنگ حنین کے دن بھاگ پڑے تھے، انہوں نے کہا نہیں خدا کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیٹھ نہیں پھیری تھی، بلکہ امر واقعہ یہ تھا کہ آپ کے اصحاب میں سے چند جلد باز اور نہتے نواجوان آگے نکلے اور ان کا مقابلہ ہوازن اور بنو نضر کے تیراندازوں سے ہوا جن کا کوئی تیر خطا نہیں جاتا تھا۔ انہوں نے اس طرح تاک تاک کر تیر برسائے کہ ان کا کوئی تیر خطا نہیں گیا، پھر یہ جوان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہٹ آئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفید خچر پر سوار تھے، اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اس کے آگے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خچر سے اترے اور اللہ سے مدد طلب کی، اس وقت آپ یہ فرما رہے تھے : میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٩٣٠، صحیح مسلم مغازی : ٧٨، (١٧٧٦) ٤٥٣٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٦٨٨، مسند احمد ج ٤ ص ٢٨٠) ۔ ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ قیس کے ایک شخص نے حضرت براء (رض) سے سوال کیا، کیا تم غزوہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ حضرت براء نے کہا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمنوں کے سامنے سے نہیں ہٹے۔ ہوازن کے جوان اس دن تیراندازی کر رہے تھے، ہم نے جب ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ گئے، اور جب ہم مال غنیمت لوٹنے لگے تو انہوں نے ہمیں تیروں پر رکھ لیا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور حضرت ابو سفیان بن حارث اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ (صحیح مسلم، مغازی : ٨٠، (١٧٧٦) ٤٥٣٧) ۔ امام عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ لکھتے ہیں : جب ہوازن کی تیراندازی سے بھگدڑ مچی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائیں جانب ہوگئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگ کہاں ہیں ؟ میرے پاس آئیں، میں اللہ کا رسول ہوں اور میں محمد بن عبداللہ ہوں، کچھ نہیں ہوا، اونٹ ایک دوسرے پر حملہ کر رہے تھے، اور مسلمان بھاگ گئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مہاجرین اور انصار اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل بیت میں سے چند لوگ تھے۔ مہاجرین میں سے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ثابت قدم رہے وہ حضرت ابوبکر (رض) اور عمر (رض) تھے اور اہل بیت میں سے حضرت علی بن ابی طالب، حضرت عباس بن عبدالمطلب، حضرت ابوسفیان بن الحارث (رض) اور ان کے بیٹے، اور حضرت فضل بن عباس اور ربیعہ بن الحارث اور حضرت اسامہ بن زید اور ایمن بن عبید تھے اور ایمن اس دن شہید ہوگئے تھے۔ (سیرت ابن ہشام مع الروض الانف ج ٤ ص ٢١٢، البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٥٢٩ طبع جدید، سیرت ابن کثیر ج ٣ ص ٢٦٦، بیروت) ۔ امام محمد بن عمر بن واقد متوفی ٢٠٧ ھ لکھتے ہیں : روایت ہے کہ جب مسلمان شکست کھا گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حارثہ بن النعمان سے فرمایا : اے حارثہ ثابت قدم رہنے والے کتنے ہیں ؟ تو انہوں نے دائیں بائیں دیکھ کر کہا ایک سو ہیں، حتیٰ کہ جس دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے دروازے پر حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) سے کلام کر رہے تھے اس وقت وہاں سے حضرت حارثہ گزرے تو حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ حارثہ بن النعمان ہے، تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : یہ ان سو مسلمانوں میں سے ہیں جو یوم حنین میں ثابت قدم رہے اور روایت ہے کہ ان سو میں سے تنیتیس مہاجرین تھے اور باقی انصار تھے۔ (کتاب المغازی للواقدی ج ٣ ص ٩٠١۔ ٩٠٠ ملخصاً ، مطبوعہ عالم الکتب بیروت، ١٤٠٤ ھ)

غزوہ حنین میں ابتدائی شکست کے بعد فتح و کامرانی :

حضرت ابن عباس (رض) ٗ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین میں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا، میں اور حضرت سفیان بن الحارث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ساتھ رہے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بالکل الگ نہیں ہوئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سفید رنگ کی خچر پر سوار تھے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فروہ بن نفاثہ جذامی نے ہدیہ کی تھی۔ جب مسلمانوں اور کفار کا مقابلہ ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خچر کو کفار کی جانب دوڑا رہے تھے، حضرت عباس (رض) ٗ نے کہا میں خچر کی لگام تھام کر اس کو تیز بھاگنے سے روک رہا تھا اور حضرت ابو سفیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رکاب پکڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عباس اصحاب سمرہ کو آواز دو ، حضرت عباس بلند آواز شخص تھے۔ وہ کہتے ہیں میں نے بہ آواز بلند پکارا اصحاب سمرہ کہاں ہیں (سمرہ وہ درخت ہے جس کے نیچے صحابہ (رض) نے بیعت رضوان کی تھی، اس کا معنی یہ ہے کہ ان مسلمانوں کو آواز دو جنہوں نے حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کی تھی) حضرت عباس نے کہا بخدا یہ آواز سنتے ہی وہ اس طرح پلٹے جیسے گائے اپنے بچوں کی طرف پلٹتی ہے۔ وہ یالبیک ! یا لبیک ! کہتے ہوئے دوڑے آئے اور انہوں نے کافروں سے لڑنا شروع کردیا۔ انہوں نے انصار کو بلایا وہ کہتے تھے اے انصار کی جماعت ! اے انصار کی جماعت ! پھر بنو حارث بن خزرج کو بلایا گیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گردن اٹھاکران کی طرف دیکھا۔ درآنحالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خچر پر سوار تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی جنگ کا منظر دیکھ رہے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وقت تنور گرم ہے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چند کنکریاں اٹھائیں اور کفار کے چہروں کی طرف پھینکیں اور فرمایا : رب محمد کی قسم ! یہ شکست کھا گئے۔ حضرت عباس (رض) ٗ کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ لڑائی اسی تیزی کے ساتھ جاری تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چند کنکریاں اٹھا کر کفار کے چہروں پر ماریں (اس باب کی آخری روایت میں ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” ان کا منہ کالا ہوگیا) بخدا میں نے دیکھا کہ ان کا زور ٹوٹ گیا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے۔ (صحیح مسلم، مغازی : ٧٦ (١٧٧٥) ٤٥٣٢، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨٦٥٣، تفسیر عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٠٦٤ )

یوم حنین میں فرشتوں کا نزول :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : پھر اللہ نے اپنے رسول پر طمانیت قلب نازل فرمائی اور ایمان والوں پر (بھی) اور اس نے ایسے لشکر اتارے جن کو تم نے نہیں دیکھا۔ ہوازن کی تیراندازی سے جو مسلمان اچانک گھبرا گئے تھے اور مسلمانوں کے بھاگنے سے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تشویش لاحق ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے کفار کو مغلوب کردیا اور اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشویش دور ہوگئی اور مسلمانوں کے دل مطمئن کریں۔ (تفسیر کبیر، ج ٦ ص ٢٠، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت) علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ فرشتوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ فرشتے پانچ ہزار تھے، ایک قول ہے آٹھ ہزار تھے اور ایک قول ہے سترہ ہزار فرشتے تھے۔ (بیضاوی علی ہامش الخفاجی ج ٤ ص ٣١٥) علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ فرشتوں کا نزول حنین میں اس لیے ہوا تھا کہ وہ مسلمانوں کے دل مضبوط کریں اور کافروں کے دل کمزور کریں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٨ ص ٣٧)

اہل حنین کو عذاب دینے کا معنی :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور کافروں کو عذاب دیا یعنی مسلمانوں کی تلواروں سے ہوازن اور ثقیف کو قتل کیا گیا اور ان کو قید کیا گیا۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ جنگ حنین میں حضرت علی (رض) نے اپنے ہاتھ سے چالیس کافروں کو قتل کیا، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار ہزار کو گرفتار کیا۔ ایک قول چھ ہزار کا ہے اور ایک قول بارہ ہزار اونٹ سواروں کا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٢ ص ٣٥) امام ابن اسحٰق نے کہا کہ غزوہ حنین میں ثقیف کے ستر کافر قتل کیے گئے۔ (البدایہ ج ٣ ص ٥٤٠) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ مال غنیمت جمع کیا جائے لہٰذا اونٹ، بکریوں اور غلاموں کو جمع کیا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ تمام مال غنیمت کو جعرانہ میں محفوظ کیا جائے اور مال غنیمت کی نگرانی پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت مسعود بن عمر غفاری (رض) کو مامور فرمایا۔ (البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٥٤٣، طبع جدید)

اہل حنین میں سے ہوازن اور ثقیف کا اسلام قبول کرنا :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر اس کے بعد اللہ جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا۔ یعنی حنین کے رہنے والے ہوازن اور ثقیف جو شکست کھاچکے تھے ان میں سے جس کی اللہ چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا اور ان کو اسلام کی ہدایت دے گا۔ چناچہ حنین کے رئیس مالک بن عوف نصری اور ان کی قوم نے اسلام قبول کرلیا۔ علامہ بدرالدین عینی حنفی لکھتے ہیں : امام ابن اسحاق نے مغازی میں ذکر کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین میں تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہوازن کا مال و متاع بطور غنیمت لے لیا اور ان کے لڑنے والوں کو غلام اور باندیاں بنا لیا، اور یہ مال غنیمت اور قیدی جعرانہ بھیج دیئے۔ ہوازن مسلمان ہوگئے اور ان کا وفد جعرانہ میں آیا، ادھر ہوازن کا مال غنیمت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے تقسیم ہوچکا تھا اور اس سے پہلے کہ آپ جعرانہ سے عمرہ کے لیے روانہ ہوئے، امام ابن اسحٰق نے کہا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے لوٹے اور جعرانہ پہنچے اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوازن کے بہت سے قیدی تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک شخص نے کہا تھا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ثقیف کے لیے دعاء ضرر کیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی اے اللہ ! ثقیف کو ہدایت دے اور ان کو یہاں لے آ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوازن کا وفد جعرانہ میں آیا۔ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ان کے چھ ہزار قیدی تھے اور ان کے اموال میں سے چوبیس ہزار اونٹ اور چالیس ہزار بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی تھی۔ ہوازن کے وفد کی درخواست اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جواب درج ذیل حدیث میں ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٢ ص ١٢٦ ) ۔ حضرت مسور بن مخرمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس وقت ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے، انہوں نے یہ سوال کیا کہ ان کے اموال اور ان کے قیدی ان کو واپس کردیئے جائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے نزدیک سب سے پسندیدہ بات وہ ہے جو سب سے سچی ہو، تم دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرلو۔ قیدی یا مال۔ رہا مال تو میں تمہارا انتظار کرتا رہا، اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے لوٹے تو دس پندرہ دن ان کا انتظار کرتے رہے تھے۔ جب ہوازن کو یہ یقین ہوگیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو چیزوں میں سے صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں میں کھڑے ہوئے، پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی وہ حمد وثناء کی جس کے وہ لائق ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حمد وثناء کے بعد میں یہ بتاتا ہوں کہ تمہارے یہ بھائی ہمارے پاس توبہ کرکے آئے ہیں اور میں نے یہ مناسب جانا ہے کہ ان کے قیدی ان کو واپس کر دوں، تم میں سے جس کو یہ فیصلہ پسند ہو وہ ان کے قیدی واپس کر دے اور تم میں سے جو شخص اپنا حصہ اپنے پاس رکھنا چاہتا ہو تو اس کے بعد اللہ ہمیں جو مال غنیمت عطا فرمائے گا ہم اس میں سے اس کو دے دیں گے تو وہ ایسا کرلے۔ مسلمانوں نے کہا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر ان لوگوں کو ان کے آدمی خوشی سے واپس کرتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم از خود نہیں جانتے تم میں سے کس نے (خوشی سے) اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی، تم واپس جائو اور ہمارے پاس ان لوگوں کو بھیجو جو تمہارے معاملات کی دیکھ بھال کرتے ہیں، لوگ واپس گئے اور انہوں نے اپنے مختاران کار اور اپنے وکیلوں سے مشورہ یا پھر واپس آ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دی کہ انہوں نے خوشی سے قیدی واپس کرنے کیا اجازت دے دی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٣٩٨۔ ٢٣٠٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٦٩٣، تفسیر عبدالرزاق ج ١ ص ٢٤٤ ) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 25