أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَ يُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَكُمۡ وَاِخۡوَانَـكُمۡ اَوۡلِيَآءَ اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡـكُفۡرَ عَلَى الۡاِيۡمَانِ‌ ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاُولٰۤئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو اپنے باپ دادا اور اپنے بھائیوں کو بھی دوست نہ بنائو اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیتے ہوں اور تم میں سے جو لوگ ان کو دوست بنائیں گے تو وہی لوگ ظالم ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اپنے باپ دادا اور اپنے بھائیوں کو بھی دوست نہ بنائو اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیتے ہوں، اور تم میں سے جو لوگ ان کو دوست بنائیں گے تو وہی لوگ ظالم ہیں 

کفار اور مشرکین سے محبت کا تعلق رکھنا منع ہے اور بغیر محبت کے معاملات جائز ہیں :

اس آیت میں تمام مومنین سے خطاب ہے اور اس کا حکم قیامت تک باقی ہے اور اس آیت میں مسلمانوں کو کفار کے ساتھ دوستی رکھنے سے منع فرما دیا ہے، لیکن مسلمان ملکوں میں جو کافر مسلمانوں کی اجازت سے رہتے ہیں ان کے ساتھ خریدوفروخت، مزدوری کرنے اور مزدوری کرانے اور ملکی، ملی اور سماجی امور میں ان سے تعاون کرنا جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے دوستی اور محبت رکھنے سے منع کیا ہے، اس آیت میں فرمایا ہے : تم اپنے کافر باپ دادا اور بھائیوں سے دوستی اور محبت نہ رکھو۔ اس آیت میں بیٹوں کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ بیٹے باپ کے تابع ہوتے ہیں اور فرمایا : تم میں سے جو لوگ ان کو دوست بنائیں گے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : وہ لوگ مشرک ہیں کیونکہ جو شخص شرک کے ساتھ راضی ہوا وہ مشرک ہے لیکن یہ اس پر محمول ہے کہ جب وہ ان کے شرک کی وجہ سے ان کو پسند کرے اور اس وجہ سے ان سے محبت کرے اور اگر وہ کسی اور وجہ سے ان سے دوستی اور محبت رکھتا ہے تو وہ حرام کا مرتکب ہوگا، کافر اور مشرک نہیں ہوگا۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے :

یآیھا الذین اٰمنوا لاتتخذوا الیھود والنصاریٰ اولیآء۔ (المائدہ : ٥١ )

ترجمہ : اے ایمان والو ! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بنائو۔

یہود و نصاریٰ اور دیگر کافروں سے دوستی اور محبت کا تعلق رکھے بغیر مسلمانوں کے مفاد میں ان سے دفاعی اور تجارتی معاہدے کرنے جائز ہیں، جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ کے یہودیوں سے معاہدے کیے اور حدیبیہ میں مکہ کے کافروں سے معاہدہ کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاہدہ کی پابندی فرمائی تو ضرورت کی بناء پر کافر ملکوں سے معاہدے کرنا جائز ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کے ماں باپ کافر ہیں تو ان سے صلہ رحم کرنا اور کافر رشتہ داروں سے حسن سلوک کرنا بھی جائز ہے۔ قرآن مجید میں ہے : وصاحبھا فی الدنیا معروفا۔ (لقمان : ١٥)

ترجمہ : دنیا میں مشرک ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو۔

اور حدیث شریف میں ہے : حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتی ہیں، انہوں نے کہا میرے پاس میری ماں آئیں درآنحالیکہ وہ مشرکہ تھیں اور جب قریش نے مسلمانوں سے معاہدہ کیا تھا تو وہ ان کے ساتھ تھیں، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے پاس میری ماں آئی ہیں درآنحالیکہ وہ اسلام سے اعراض کرنے والی ہیں، کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحم کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحم کرو۔ (صحیح مسلم، زکوٰۃ : ٥٠ (١٠٠٣) ٢٢٨٨، صحیح بخاری رقم الحدیث : ٢٦٢٠، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٦٦٨ ) ۔

اسی طرح جن مشرکین نے مسلمانوں کے ساتھ قتال کیا نہ کوئی اور ظلم کیا ان کے ساتھ بھی نیک سلوک کرنا جائز ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

لاینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوآ الیھم ط ان اللہ یحب المقسطین۔ (الممتحنہ : ٨)

ترجمہ : جن لوگوں نے دین میں تم سے جنگ نہیں کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، اللہ تم کو ان کے ساتھ نیکی کرنے سے اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

امام بخاری نے لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ کے ساتھ ہجرت کی۔ وہ ایک ایسی بستی میں داخل ہوئے جس میں ایک ظالم بادشاہ تھا۔ اس نے حضرت سارہ کے متعلق کہا ان کو آجر (ہاجر) دے دو ، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک زہر آلود بکری ہدیہ کی گئی، اور ابوحمید نے کہا : ایلہ کے بادشاہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک سفید خچر ہدیہ کیا، اور آپ کو ایک چادر پہنائی اور آپ نے سرزمین پر اس بادشاہ کی حکومت کے لیے لکھا۔ (صحیح البخاری باب قبول الہدیۃ من المشرکین ص ٥٤٣، مطبوعہ دارارقم بیروت) ۔

قرآن مجید کی ان آیات اور احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ کفار اور مشرکین سے دوستی اور محبت کرنا منع ہے، اور بغیر دوستی اور محبت کے ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا، ان سے تحائف لینا اور ان کو تحائف دینا، ان سے قرض اور خریدوفروخت کا معاملہ کرنا جائز ہے۔ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یہودی سے ایک ماہ کے ادھار پر طعام خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی رکھ دی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠٦٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٠٣) اور حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مشرک سے ایک بکری خریدی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٦١٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٥٦ ) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 23