عام لوگوں کے لیے ایک غیر مقلد عالم کی طرف سے نصیحت..!!
ایک غیر مقلد عالم ابو عمار عمر فاروق سعیدی صاحب نے ڈاکٹر محمود الطحان مصری کی کتاب تیسیر مصطلع الحدیث کا اردو ترجمہ تیسیر اصول حدیث کے نام سے کیا
اسی کتاب میں ڈاکٹر محمود الطحان مصری کی کتاب کی ایک عبارت “کسی صحفی سے حدیث نہ لی جائے ” کی وضاحت ڈاکٹر محمود الطحان مصری سے کچھ ہٹ کر کرتے ہیں
انہوں نے اس طرح وضاحت کی:
“کسی صحفی سے حدیث نہ لی جائے ” …یعنی جو شخص محض صحیفے اور کتب (یا ان کے تراجم) پڑھ کر حدیث کا علم حاصل کرتا ہے اس سے احتراز کیا جائے۔”
[تیسیر اصول حدیث ص 139]
نوٹ : صحفی سے مراد وہ راوی ہے جو احادیث کے الفاظ میں اپنی طرف سے یا غلطی سے تغیر و تبدیل کر دیتا ہو.
آج کل کے فیس بکی محدثین حضرات کا بھی یہی حال ہے ایسے لوگوں سے دور رہیں جو صرف سکین پیجز بنا کے عام لوگوں کو پریشان و گمراہ کرتے ہیں اس طرح کے مسائل کے لیے کسی جید عالم جو علم حدیث کا ماہر ہو اس کی طرف رجوع کیا جائے.
واللہ اعلم