أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ عُزَيۡرُ ۨابۡنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ اللّٰهِ‌ؕ ذٰ لِكَ قَوۡلُهُمۡ بِاَ فۡوَاهِهِمۡ‌ ۚ يُضَاهِئُونَ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ‌ ؕ قَاتَلَهُمُ اللّٰهُ ‌ۚ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور یہودیوں نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے، یہ محض ان کے منہ سے کہی ہوئی (بےسروپا) باتیں ہیں، یہ اپنے سے پہلے کافروں کی کہی ہوئی باتوں کی مشابہت کرتے ہیں، ان پر اللہ کی پھٹکار یہ کہاں اوندھے جا رہے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہودیوں نے کہا کہ عزیز اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا کہ مسییح اللہ کا بیٹا ہے، یہ محض ان کے منہ سے کہی ہوئی (بےسروپا) باتیں ہیں، یہ اپنے سے پہلے کافروں کی کہی ہوئی باتوں کی مشابہت کرتے ہیں، ان پر اللہ کی پھٹکار یہ کہاں اوندھے جا رہے ہیں (التوبہ : ٣٠)

حضرت عزیر کا نام و نسب،

ان کا تعارف اور ان کو ابن اللہ کہنے کا سبب : حافظ ابوالقاسم علی بن الحسن المعروف بابن العساکر المتوفی ٥٧١ ھ لکھتے ہیں : حضرت عزیرکانام و نسب یہ ہے : عزیر بن جروہ (ایک قول ابن شویرق ہے) بن عرباء بن ایوب بن درتنا بن عزی بن بقی بن ایشوع بن فنحاس بن الغارز بن ہارون بن عمران۔ اور ان کو عزیر بن سروخا بھی کہا جاتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ دمشق میں ان کی قبر ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے کہا کہ حضرت عزیرانبیاء کی اولاد میں سے ہیں۔ انہوں نے تورات کو محکم کیا تھا، اور ان کے زمانہ میں تورات کا ان سے بڑا عالم کوئی نہیں تھا۔ ان کا انبیاء کے ساتھ ذکر کیا جاتا تھا۔ جب انہوں نے اللہ سے تقدیر کے متعلق سوال کیا تو اللہ نے ان کا نام مٹا دیا۔ جب یہ نو عمر لڑکے تھے تو ان کو بخت نصر نے قید کرلیا تھا اور جب یہ چالیس سال کی عمر کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت عطا فرمائی۔ (یہ ضعیف روایت ہے، ابن کثیر) نیز حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں (از خود) نہیں جانتا کہ عزیر نبی تھے یا نہیں۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٧٤، البدایہ والنہایہ ج ١ ص ٤٩٥، طبع جدید) ۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا عزیر بن سروخا ہی وہ شخص ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اوکالذی مر علی قریۃ وھی خاویۃ علی عروشھا قال انیٰ یحیٖ ہٰذہ اللہ بعد موتھا فاماتہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہٗ ۔ الایہ۔ (البقرہ : ٢٥٩) یا اس شخص کی طرح جو ایک بستی پر گزرا درآنحالیکہ وہ بستی اپنی چھتوں پر گری ہوئی تھی، اس نے (تعجب سے) کہا، اللہ اس بستی والوں کو مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا ؟ تو اللہ نے سو برس تک اس پر موت طاری کردی، پھر اس کو زندہ کرکے اٹھایا۔

ہم نے تبیان القرآن جلد اول میں اس بستی کا بیان کیا ہے اور حضرت عزیر کے زندہ ہونے کی کیفیت بھی بیان کردی ہے۔ اس کی تفصیل وہاں ملاحظہ کریں۔ حضرت عزیر سو سال کے بعد جب زندہ ہوئے تو اپنے محلہ میں گئے۔ لوگ ان کے شناسا نہ تھے اور نہ یہ لوگوں کے شناسا تھے، اور اپنا مکان بھی اٹکل پچو سے تلاش کا، وہاں ایک سو بیس سال کی عمر کی ایک بڑھیا بٹھی ہوئی تھی جو فالج زدہ تھی، وہ دراصل حضرت عزیر کی باندی تھی۔ حضرت عزیر نے اس سے پوچھا اے خاتون ! کیا یہی عزیر کا گھر ہے ؟ اس نے کہا ہاں یہ عزیر کا گھر ہے۔ نیز اس نے کہا میں نے اتنے سالوں سے کسی کو عزیر کا ذکر کرتے نہیں سنا، لوگ اس کو بھول چکے ہیں۔ انہوں نے کہا میں عزیر ہوں۔ اس نے کہا سبحان اللہ ! عزیر کو تو ہم ایک سو سال سے گم کرچکے ہیں اور ہم نے کسی سے ان کا ذکر نہیں سنا۔ انہوں نے کہا میں عزیر ہوں، اللہ نے مجھ پر ایک سو سال تک موت طاری کردی تھی پھر زندہ کردیا۔ اس عورت نے کہا عزیر مستجاب الدعوات تھے ان کی دعا سے بیمار تندرست ہوجاتا تھا اور مصیبت زدہ کی مصیبت دور ہوجاتی تھی۔ آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ میری بینائی لوٹا دے تاکہ میں آپ کو دیکھ لوں، اور اگر آپ واقعی عزیر ہیں تو میں آپ کو پہچان لوں گی۔ حضرت عزیر نے دعا کی اور اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا۔ وہ تندرست ہوگئی۔ پھر حضرت عزیر نے اس فالج زدہ سے کہا تم اللہ کے حکم سے کھڑی ہو جائو۔ سو وہ بالکل تندرست ہو کر کھڑی ہوگئی۔ اس نے آپ کو دیکھ کر کہا میں گواہی دیتی ہوں کہ آپ عزیر ہیں۔ جب یہودیوں کو حضرت عزیر کا پتا چلا تو انہوں نے کہا ہم میں عزیر کے سوا کوئی تورات کا حافظ نہیں تھا، اور بخت نصر نے تورات کو جلا دیا تھا، اور اب اس کا کوئی نشان باقی نہیں ہے سو اچند سورتوں کے جو لوگوں کو حفظ ہیں۔ آپ ہمیں مکمل تورات لکھوا دیں۔ حضرت عزیر نے والدسروخا نے بخت نصر کے ایام میں ایک جگہ تورات کو دفن کردیا تھا جس کا حضرت عزیر کے سوا کسی کو علم نہیں تھا، حضرت عزیر اس جگہ لوگوں کو لے گئے اور تورات کو کھود نکالا، اس کے اوراق گل گئے تھے اور لکھائی مٹ چکی تھی۔ وہ ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے اور بنو اسرائیل ان کے گرد بیٹھ گئے۔ آسمان سے دو ستارے نازل ہوئے اور ان کے پیٹ میں گھس گئے اور ان کو تورات یاد آگئی اور انہوں نے بنو اسرائیل کے لیے ازسرنو تورات لکھوا دی۔ جب بنو اسرائیل نے حضرت عزیر سے یہ غیر معمولی امور دیکھے تو وہ کہنے لگے کہ عزیر اللہ عزوجل کے بیٹے ہیں۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ١٧، ص ٣٩۔ ٣٥، ملخصاً دارالفکر بیروت، البدایہ والنہایہ ج ١ ص ٤٩٧، طبع جدید دارالفکر بیروت)

آیا حضرت عزیر نبی ہیں یا نہیں :

حافظ عمر بن اسماعیل بن کثیر الدمشقی متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : عطا بن رباح، حسن بصری اور عثمان بن عطاء الخراسانی کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عزیر نبی نہیں تھے، کیونکہ عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ زمانہ فترت (انقطاع نبوت کا زمانہ) میں نو چیزیں تھیں : ان میں سے ایک بخت بصر کو بیان کیا اور اسحاق بن بشر نے اپنی سند کے ساتھ حسن بصری سے روایت کیا کہ عزیر اور بخت نصر کا واقعہ زمانہ فترت میں ہوا اور حدیث صحیح میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے تمام لوگوں سے زیادہ قریب ہوں، ان کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٤٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٧٥، مسند احمد ج ٣ رقم الحدیث : ١٠٩٨١، طبع جدید) اور وہب بن منبہ نے کہا کہ حضرت عزیر حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ کے درمیان تھے، اور حافظ عساکر نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عزیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بن عمران کے زمانہ میں تھے۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ١٧، ص ٤٩ ) ۔ البدایہ والنہایہ ج ١ ص ٤٩٨، طبع جدید دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) ۔ بہرحال روایات مختلف ہیں اور حضرت عزیر کا نبی ہونا حتمی اور یقینی نہیں ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت کے تمام اہم پہلو اور ان کے ابن اللہ ہونے کی بحث ہم نے آل عمران : ٥٨۔ ٤٥ میں بیان کردی ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ نیز 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ اپنے سے پہلے کافروں کی کہی ہوئی باتوں کی مشابہت کرتے ہیں۔ اس مشابہت میں تین اقوال ہیں : (١) بت پرست کہتے تھے کہ لات، منات اور عزیٰ خدا کے شریک ہیں۔ (٢) بعض کافر کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ (٣) یہ اس قول میں اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کرتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 30