شوہر کے لئے والدہ کا حق بڑا 

بیوی کے لئے والدین سے بڑا حق اس کے شوہر کا بتایا گیا،اس لئے کہ بیوی کو اپنی پوری زندگی اس کی رفاقت میں گزارنی ہے،اسے اپنے والدین کے گھر نہیں شوہر کے گھر رہنا ہے،جس کے گھر رہنا ہے اسی کا حق اس پر زیادہ ہونا بالکل ظاہر بات ہے، اور شوہرکو اپنے والدین سے الگ ہونا ضروری نہیں بلکہ والدین کو خدمت کی حاجت ہو تو خدمت کرنا ضروری ہے،اس لئے والدہ کا حق اسکے لئے بڑا ہے اور پھر والد کا ،اور یہ اس لئے بھی ہے کہ بیوی کوجب معلوم ہے کہ میرے لئے سب سے بڑا حق میرے شوہر کا اور میرے شوہر کے لئے سب سے بڑا حق اسکے والدین کا تو اگر میں شوہر کے والدین کو ناراض کروں گی تو میرا شوہر مجھ سے ناراض ہوگا،اس لئے مجھے اپنے شوہر کی رضا اور خوشنودی کے حصول میںاسکے والدین کا بھی خیال رکھنا ہوگا،تو بیوی کبھی اپنی ساس اور سسر کو ناراض نہ ہونے دے گی،اور اس لئے بھی کہ بیوی گھر آباد کرنے کے کئے لائی گیٔ ہے،اگر وہ شوہر کے والدین کو برداشت نہ کرے تو اس سے آبادی کہاں رہی؟ اس لئے یہ فرمایا گیا کہ شوہر پر بیوی کا نہیں اسکے والدین کا حق بڑا ہے اورشوپر بیوی کے حکم پر والدین کے حکم کو ترجیح دے گا

یہ پہلے ہی بتایا جا چکا کہ بیوی کو اپنے شوہر سے اتنی محبت کرنی چاہیئے کہ گویا دو قالب میں ایک جان،جب شوہر کو اپنا محبوب بنا لیا جائے تو پھر میرے تیرے کی بات درمیان میں آتی ہی نہیں ہے،شوہر کی رضا کے تمامی کام یونہی انجام پاجائیں گے،محبوب کی ہر چیز محبوب ہو جاتی ہے،تو اسکے والدین گویا اپنے والدین،اسکے بھائی بہن گویا اپنے بھائی بہن پھر کہاں کی لڑائی اور کہاں کا جھگڑا،اس لئے فرمایا گیا کہ بیوی کے لئے اس کے شوہر کا حق سب سے بڑا ہے اسے ہر ممکن اپنے شوہر کی مدد کرنی چاہیئے