أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوۡلُهٗ وَلَا يَدِيۡنُوۡنَ دِيۡنَ الۡحَـقِّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ حَتّٰى يُعۡطُوا الۡجِزۡيَةَ عَنۡ يَّدٍ وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ  ۞

ترجمہ:

ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر اور نہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے حرام کیے ہوئے کو حرام قرار دیتے ہیں اور نہ وہ دین حق کو قبول کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو کتاب دی گئی (تم ان سے قتال کرتے رہو) حتیٰ کہ وہ ذلت کے ساتھ ہاتھ سے جزیہ دیں ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر اور نہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے حرام کیے ہوئے کو حرام قرار دیتے ہیں اور نہ وہ دین حق کو قبول کرتے ہیں، یہ لوگ ہیں جن کو کتاب دی گئی (تم ان سے قتال کرتے رہو) حتیٰ کہ وہ ذلت کے ساتھ ہاتھ سے جزیہ دیں 

ربط آیات اور مناسبت :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے احکام بیان فرمائے تھے کہ نو ہجری کے بعد ان کو مسجد حرام میں حج اور عمرہ کے لیے آنے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ مشرکین کے لیے مساجد کو بنانا جائز ہے، اور یہ کہ مشرکین جہاں پائے جائیں ان کو قتل کرنا واجب ہے، اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ اہل کتاب کا حکم بیان فرما رہا ہے کہ اہل کتاب اگر ایمان نہ لائیں تو ان سے قتال کرو حتیٰ کہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ اد اکریں۔

جزیہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی :

علامہ ابو عبیدالقاسم بن سلام ہر وی متوفی ٢٢٤ ھ نے لکھا ہے کہ جزیہ کا لغوی معنی ہے اکتفا۔ (غریب الحدیث ج ١ ص ٤٣، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت) اور

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے کہ جزیہ وہ رقم ہے جو اہل ذمہ سے لی جاتی ہے اور وہ رقم ان کی جان کی حفاظت کے لیے کفایت کرتی ہے۔ (المفردات ج ١ ص ١٢١، مطبوعہ بیروت……)

امام رازی نے واحدی سے نقل کیا ہے کہ جزیہ جزی سے بنا ہے اور اس کا معنی ہے کسی واجب کو ادا کرنا اور اصطلاح میں جزیہ اس رقم کو کہتے ہیں جو ذمی اپنی حفاظت کے لیے ادا کرتا ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٥ ص ٢٥ ) ۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی الحصکفی الحنفی المتوفی ١٠٨٧ ھ لکھتے ہیں : جزیہ کا لغوی معنی ہے الجزاء یعنی بدلہ اور یہ قتل کا بدل ہے، کیونکہ جب کوئی ذمی جزیہ ادا کردیتا ہے تو اس سے قتل ساقط ہوجاتا ہے اور الجزاء سزا کو بھی کہتے ہیں اور جزیہ کی رقم ذمی کے کفر کی سزا ہے۔ جزیہ کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ قسم ہے جو صلح سے لی جاتی ہے اس کی کوئی مقدار معین نہیں ہے اور نہ اس میں تغیر کیا جاتا ہے جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجران سے اس پر صلح کی کہ وہ ہر سال دو ہزار حلے ادا کیا کریں گے (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٠٤١) مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ، طبع جدید)

جزیہ کن سے وصول کیا جائے گا :

امام شافعی، امام احمد اور امام ابوحنیفہ کا یہ مذہب ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت کی رو سے جزیہ صرف اہل کتاب سے لیا جائے گا خواہ وہ عربی ہوں یا عجمی اور سنت کی رو سے بھی جزیہ لیا جائے گا، اور

امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ مرتد کے سوا ہر کافر اور مشرک سے جزیہ لیا جائے گا خواہ اس کا کفر اور شرک کسی قسم کا ہو۔ (الجامع لاحکم القرآن جز ٨ ص ٤٥ ) ۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی الحصکفی الحنفی المتوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : جزیہ اہل کتاب پر مقرر کیا جائے گا، ان میں یہود السامرہ بھی داخل ہیں کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کو مانتے ہیں، اور نصاریٰ پر مقرر کیا جائے گا ان میں افرنگی اور رومی بھی داخل ہیں اور رہے الصائبہ تو امام ابوحنیفہ کے ندیک ان پر بھی جزیہ مقرر کیا جائے گا کیونکہ وہ یہودی ہیں یا عیسائی، اس لیے وہ اہل کتاب میں داخل ہیں اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک وہ ستارہ پرست ہیں اور اہل کتاب میں داخل نہیں ہیں اس لیے ان پر جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا اور مجوسی پر بھی جزیہ مقرر کیا جائے گا خواہ وہ عربی ہوں کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجر کے مجوسیوں پر جزیہ مقرر کیا تھا۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل بحرین میں سے اسبذیین (بحرین کا ایک شہر) کا ایک شخص آیا اور وہ اہل ہجر (یمن کی زمین) کا ایک مجوسی تھا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چند دن ٹھہر کر چلا گیا۔ میں نے اس سے پوچھا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے متعلق کیا فیصلہ کیا۔ اس نے کہا برا فیصلہ کیا۔ میں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا یا اسلام لائو ورنہ قتل کردیا جائے گا، اور

حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے کہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے جزیہ قبول فرما لیا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا پھر مسلمانوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کے قول پر عمل کیا اور اس کے قول کو ترک کردیا جو میں نے خود اس السبذی سے سنا تھا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٠٤٤) اور حضرت عمرو بن اوس اور حضرت ابوالشعثاء بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اس وقت تک مجوس سے جزیہ قبول نہیں کیا جب تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے یہ شہادت نہیں دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجر کے مجوس سے جزیہ وصول کیا تھا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٠٤٣، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٥٦، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٨٦) اور

امام ابوعبید نے زہری سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل بحرین سے جزیہ وصول کیا تھا اور وہ مجوسی تھے۔ (الاموال رقم الحدیث : ٨٥) اور عجمی بت پرست پر بھی جزیہ مقرر کیا جائے گا کیونکہ اس کو غلام بنانا جائز ہے اور عربی بت پرست پر جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ اہل زبان تھے اور قرآن مجید کا معجزہ ہونا ان کے حق میں بہت ظاہر تھا۔ اس لیے ان کا عذر مقبول نہیں ہے اور نہ مرتد سے جزیہ قبول کیا جائے گا، اس سے صرف اسلام قبول کیا جائے گا یا اس کو قتل کردیا جائے گا اور اگر ہم ان پر غالب آجائیں تو ان کی عورتوں اور بچوں کو باندیاں اور غلام بنا لیا جائے گا کیونکہ حضرت ابوبکر (رض) نے بنو حنیفہ کے مرتدین کی عورتوں اور بچوں کو باندیاں اور غلام بنا لیا تھا اور ان کو مجاہدوں میں تقسیم کردیا تھا۔ (در مختار مع ردالمحتار ج ٦ ص ٢٤٢۔ ٢٤١، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ، طبع جدید) ۔ عجمی بت پرست پر جزیہ مقرر کرنے کی دلیل یہ حدیث ہے : حسن بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کی طرف یہ خط لکھا جو شخص ہماری نماز پڑھے، ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے پس وہ مسلمان ہے اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ میں ہے اور جو انکار کے اس پر جزیہ ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣٢٦٢٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)

جزیہ کی مقدار میں مذاہب فقہاء :

جزیہ کی مقدار میں فقہاء کا اختلاف ہے، امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ آزاد اور بالغ پر ہر سال ایک دینار مقرر کیا جائے گا خواہ وہ غنی ہو یا فقیر، ان کی دلیل یہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) کو یمن بھیجا تو ان کو حکم دیا کہ وہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے مساوی کپڑا وصول کریں۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٠٣٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٦٢٣، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٤٥١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٠٣)

امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ سونا رکھنے والوں سے ہر سال چار دینا وصول کیے جائیں گے، اور چاندی رکھنے والوں سے ہر سال چالیس درہم وصول کیے جائیں گے، اس میں کوئی زیادتی اور کمی نہیں ہوگی۔ حضرت عمر (رض) سے اسی طرح منقول ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ج ٨ ص ٤٧)

امام احمد بن حنبل کا مذہب یہ ہے کہ امیر آدمی سے اڑتالیس درہم سالانہ لیے جائیں گے، متوسط سے چوبیس اور فقیر سے بارہ درہم، اور اثرم نے امام اعظم سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ ان کی مالی حیثیت کے لحاظ سے اس میں کمی زیادتی بھی ہوسکتی ہے اور یہ امام وقت کے اجتہاد پر موقوف ہے۔ (زاد المسیر ج ٣ ص ٤٢٢ ) ۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن الحصکفی المتوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : فقیر سے بارہ درہم سالانہ لیے جائیں گے، متوسط سے چوبیس درہم سالانہ اور امیر سے اڑتالیس درہم سالانہ لیے جائیں گے اور جو شخص دس ہزار درہم یا اس سے زیادہ کا مالک ہو وہ غنی ہے اور جو شخص دو سو یا اس سے زیادہ درہم کا مالک ہو وہ متوسط ہے اور جو شخص دو سو درہم سے کم کا مالک ہو یا کسی چیز کا مالک نہ ہو وہ فقیر ہے۔ (در مختار مع رد المحتار ج ٦ ص ٢٤٠۔ ٢٣٩، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ طبع جدید) ۔

فقہاء احناف کی دلیل یہ حدیث ہے : محمد بن عبیداللہ الثقفی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے مردوں پر جزیہ مقرر کیا، غنی پر اڑتالیس درہم، متوسط پر چوبیس درہم اور فقیر پر بارہ درہم۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣٢٦٣٣، الطبقات الکبریٰ ج ٣ ص ٢١٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ) ۔ اس زمانہ میں درہم کی مالیت کا یہ حساب ہے : ایک درہم = ٦٢٥ ء ٠ (صفر اعشاریہ چھ دو پانچ تولہ چاندی) ، دس درہم = ٦٢٥ ء ٢ (٢ اعشاریہ چھ دو پانچ تولہ چاندی) ، بارہ درہم = ١٥ ء ٣ (تین اعشاریہ ایک پانچ تولہ چاندی) ، دو سو درہم = ٥ ء ٥٢ (باون اعشاریہ پانچ تولہ چاندی) ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : حتیٰ کہ وہ ذلت کے ساتھ ہاتھ سے جزیہ دیں۔ ہاتھ سے مراد احسان ہے، یعنی ان پر مسلمان کا احسان ہے کہ وہ ان کو قتل کرنے کے بدلہ ان سے صرف جزیہ لے رہے ہیں اور ذلت کے ساتھ کا معنی یہ ہے کہ وہ اس طرح جزیہ کی رقم نہ دیں جیسے کوئی افسر اپنے ماتحت کو انعام دیتا ہے کیونکہ اس میں دینے والے کی بڑائی ہے بلکہ وہ اس طرح جزیہ کی رقم دیں جس طرح مجرم حاکم کو جرمانہ ادا کرتا ہے اور اس میں اس پر حاکم کا احسان ہے کہ وہ جرمانہ وصول کرکے اس کی سزا معاف کر رہا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 29