أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّطۡفِـئُــوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَ فۡوَاهِهِمۡ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ وَلَوۡ كَرِهَ الۡـكٰفِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو ناگوار ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو ناگوار ہو (التوبہ : ٣٢)

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے صدق پر دلائل :

اس آیت میں یہودیوں کی ایک اور اسلام دشمنی بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہودی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے دلائل کو جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں اور آپ کی نبوت کے دلائل کی اہم پانچ قسمیں ہیں :

(١) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت ان کے معجزات سے ثابت ہوئی۔ اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نبوت کے اثبات کے لیے بیشمار معجزات پیش کیے۔

(٢) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امی تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن مجید کو پیش کیا جس کی فصاحت اور بلاغت کی نظیر آج تک کوئی نہیں لاسکا۔ اس کی دی ہوئی پیشین گوئیاں درست ثابت ہوئیں اور اس کے اس دعویٰ کو بھی کوئی رد نہیں کرسکا کہ اس میں کمی اور زیادتی نہیں ہوسکتی۔

(٣) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام تعلیم اور شریعت کا حاصل یہ ہے کہ صرف اللہ عزوجل کی عبادت کی جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو بھی علمی اور عملی کمالات ظاہر ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علم اور عمل کے ہر کمال کی اپنی ذات سے نفی کردی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے نیک اعمال کو کبھی موجب نجات قرار نہیں دیا بلکہ یہی فرمایا کہ میری نجات بھی صرف اللہ کے ٖضل سے ہوگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پوری سیرت کو دیکھ لیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نبوت اور رسالت سے اپنے لیے کوئی کبریائی، کوئی بڑائی نہیں چاہتے تھے بلکہ یہی فرماتے تھے کہ ساری کبریائی اور عظمت و جلالت صرف اللہ کے لیے ہے، اس سے معلوم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دعویٰ نبوت سچا ہے جبکہ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ چاہتا ہے لوگوں میں اس کے کمالات کا چرچا ہوا اور لوگ کہیں کہ یہ اس کے کمالات ہیں خواہ ان کمالات کا ذریعہ کوئی اور ہو !

(٤) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت سے شہر فتح کیے لیکن اپنے لیے دنیا جمع نہیں کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھانے، پینے، لباس اور گھر کے سازو سامان میں کوئی آسودگی، عیش اور تنعم نہیں تھا۔ ڈھیروں مال غنیمت آتا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو تقسیم کیے بغیر مسجد سے نہیں اٹھتے تھے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے نبی تھے اور اس دعویٰ نبوت سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقصود اپنی ذات کی منفعت نہیں تھی۔

(٥) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو جس قدر عبادت کا حکم دیا، خود اس سے زیادہ عبادت کی، لوگوں کو پانچ نمازوں کا حکم دیا خود تہجد سمیت چھ نمازیں پڑھتے تھے، لوگوں کو چالیسواں حصہ زکوٰۃ کا حکم دیا، خود پاس کچھ نہیں رکھتے تھے، لوگوں سے کہا تمہارا ترکہ وراثت ہے اور میرا ترکہ صدقہ ہے، لوگوں کو طلوع فجر سے غروب آفتاب تک روزہ کا حکم دیا اور خود وصال کے روزے رکھے جس میں سحری ہوتی ہے نہ افطار، کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہیں ہوتا تھا اور راتوں کو اتنا طویل قیام کرتے تھے کہ پائوں مبارک سوج جاتے تھے، لوگوں کو چار بیویوں میں عدل کرنے کا حکم دیا اور خود بیک وقت نو ازواج میں عدل کرکے دکھایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عبادت اور ریاضت میں اس قدر کوشاں ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دعویٰ نبوت اپنے عیش و آرام، اپنی آسودگی اور اپنی بڑائی کے لیے نہیں تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے نبی ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام سچا ہے اور جس طرح کوئی شخص سورج کے نور کو بجھانے کے لیے پھونکیں مارتا رہے تو سورج کا نور کم نہیں ہوگا، اسی طرح یہودی اور دیگر مخالفین اسلام کی اسلام دشمن کوششوں سے اسلام کی اشاعت اور فروغ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 32