أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَّومَ يُحۡمٰى عَلَيۡهَا فِىۡ نَارِ جَهَـنَّمَ فَتُكۡوٰى بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوۡبُهُمۡ وَظُهُوۡرُهُمۡ‌ؕ هٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡنِزُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جس دن وہ (سونا اور چاندی) دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیوں کو اور ان کے پہلوئوں کو اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا، یہ ہے وہ (سونا اور چاندی) جس کو تم نے اپنے لیے جمع کرکے رکھا تھا سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس دن وہ (سونا اور چاندی) دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیوں کو اور ان کے پہلوئوں کو اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا یہ ہے وہ (سونا اور چاندی) جس کو تم نے اپنے لیے جمع کرکے رکھا تھا سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو (التوبہ : ٣٥)

اس آیت میں پیشانیوں، پہلوئوں اور پیٹھوں کو سونے اور چاندی کے ساتھ داغنے کا خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ کیونکہ یہ اشرف اعضاء ہیں۔ جو اعضاء رئیسہ دل، دماغ اور جگر پر مشتمل ہیں اور چونکہ انسان اپنے ان ہی اعضاء کی سلامتی کے لیے مال جمع کرتا ہے اس لیے ان اعضاء کو اس مال کے ساتھ جلایا جائے گا یا اس لیے کہ انسان کے بدن کی چار اطراف ہیں، اگلا حصہ اور پچھلا حصہ، چہرہ اگلے حصہ پر اور پیٹھ پچھلے حصہ پر دلالت کرتی ہے اور دو پہلو دائیں اور بائیں جانبوں پر دلالت کرتے ہیں اور مقصود یہ ہے کہ ہر جانب سے اس کو عذاب محیط ہوگا۔

ادائیگی زکوٰۃ کے بعد مال جمع کرنے میں اختلاف صحابہ (رض) :

صحابہ کرام (رض) کا اس میں اختلاف تھا کہ جس کنز (جمع شدہ مال) کی اللہ تعالیٰ نے مذمت کی ہے اور اس پر عذاب کی وعید سنائی ہے اس کا مصداق کیا ہے ؟ اکثر صحابہ کرام (رض) کا موقف یہ تھا کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا کردی گئی وہ کنز مذموم نہیں ہے۔ اور جس مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی وہ کنز مذموم ہے۔ اور بعض صحابہ (رض) کا مسلک یہ تھا کہ جس مال کو بھی جمع کیا گیا وہ کنز مذموم ہے اور موجب عذب ہے۔ خواہ اس کی زکوٰۃ ادا کی گئی یا نہ۔ ان کا استدلال اس آیت کے ظاہر سے ہے کیونکہ اس آیت میں بغیر کسی قید اور استثناء کے اللہ تعالیٰ نے مال جمع کرنے پر عذاب کی وعید فرمائی ہے کہ دوزخ کی آگ سے سونا چاندی جمع کرنے والوں کے بدنوں کو داغا جائے گا۔ نیز حدیث میں ہے :

عبداللہ بن ابی ہذیل بیان کرتے ہیں کہ میرے صاحب نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہو ! میرے والد صاحب نے کہا پھر وہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہو، پھر ہم کس مال کو حاصل کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور آخرت میں مدد کرنے والی بیوی۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٣٦٦، کنزالعمال رقم الحدیث : ٦٣١٣، ٦٣١٢، ٦١١٢) ۔

زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ میں الربذۃ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور جگہ) کے پاس سے گزرا تو وہاں حضرت ابوذر (رض) تھے۔ میں نے پوچھا آپ یہاں کس سبب سے آگئے ؟ انہوں نے کہا میں شام میں تھا، میرا اور حضرت معاویہ کا اس آیت میں اختلاف ہوا : 

الذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ۔ (التوبہ : ٣٤)

حضرت معاویہ نے کہا یہ آیت اہل کتاب کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ میں نے کہا یہ آیت ان کے اور ہمارے دونوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ پھر میرے اور ان کے درمیان بحث ہوئی۔ انہوں نے حضرت عثمان (رض) کی طرف میری شکایت لکھ کر بھیجی۔ حضرت عثمان (رض) نے مجھے مدینہ بلایا۔ میں مدینہ آگیا تو بہت زیادہ لوگ میرے گرد اکٹھے ہوگئے جیسے اس سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا ہی نہیں تھا۔ میں نے حضرت عثمان (رض) سے اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا اگر آپ چاہیں تو مدینہ کے قریب کسی اور جگہ چلے جائیں تو اس سبب سے میں یہاں آگیا اور اگر مجھ پر کسی حبشی کو بھی حاکم بنادیا جاتا تو میں اس کی (بھی) اطاعت کرتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٠٦، مسند احمد ج ٢ ص ٣٧٩، المستدرک ج ١ ص ٣٨٩، شرح السنہ ج ٥ ص ٤٨٠) ۔

احنف بن قیس بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں آیا، میں وہاں قریش کی ایک جماعت میں بیٹھ گیا۔ وہاں ایک شخص آیا جس کا جسم اور چہرہ سخت تھا۔ اور اس نے موٹا لباس پہنا ہوا تھا۔ اس نے قریش کے پاس کھڑے ہو کر کہا مال جمع کرنے والوں کو اس گرم پتھر کی بشارت دو جس کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور اس پتھر کو ان کی باریک ہڈی پر رکھا جائے گا اور ان کے پستان کے سر سے نکل جائے گا اور اس طرح حرکت کرتا رہے گا۔ لوگوں نے اس شخص کی طرف سراٹھا کر دیکھا اور میں نے کسی شخص کو اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔ پھر وہ چلا گیا۔ میں بھی اس کے پیچھے گیا، حتیٰ کہ وہ ایک ستون کے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے کہا میرا گمان ہے کہ ان لوگوں نے آپ کی بات کو ناپسند کیا ہے۔ اس نے کہا ان لوگوں کو سمجھ نہیں ہے ایک دن میرے محبوب ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا، میں حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوذر ! تم احد (پہاڑ) کو دکھ رہے ہو ؟ میں نے سورج کی طرف دیکھا اور میں یہ سمجھا کہ شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کسی کام سے بھیجنا چاہتے ہیں، میں نے کہا میں دیکھ رہا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو تو مجھے یہ پسند نہیں ہوگا کہ میں اس میں سے تین دینار سے زیادہ اپنے پاس رکھوں اور میں وہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں گا۔ پھر یہ لوگ دنیا کو جمع کر رہے ہیں ان کو عقل نہیں ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے۔ کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس جاتے ہیں نہ کوئی سوال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا : تمہارے پروردگار کی قسم ! میں ان سے دنیا کا کوئی سوال کروں گا نہ دین کا۔ حتیٰ کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جا ملوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٠٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٩٢، مسند احمد ج ٥ ص ١٦٠ ) ۔

اس قسم کی احادیث سے حضرت ابو ذر (رض) یہ استدلال کرتے تھے کہ جو شخص اپنی ضرورت سے زائد مال کو جمع کرے اس پر عذاب کی وعید ہے۔ لیکن یہ حضرت ابو ذر (رض) کی منفرد رائے تھی۔ حضرت ابو ذر (رض) کی طرف سے یہ توجیہ کی گئی ہے کہ وہ ان حکام اور سلاطین پر رد کرتے تھے جو بیت المال سے اپنے لیے مال لے لیتے تھے۔ حضرت علی (رض) ، حضرت ابو ذر (رض) ، ضحاک اور بعض اہل زہد سے منقول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ بھی مال میں حق ہے اور حضرت ابو ذر (رض) سے ایسے آثار منقول ہیں کہ جو چیز کھانے پینے اور گزر بسر سے زائد ہو اس کو جمع کرنا مذموم ہے اور اس آیت میں اسی کے متعلق وعید ہے۔ حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زیادہ مال والے قیامت کے دن سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے ماسوا ان لوگوں کے جو مال کو دائیں بائیں آگے پیچھے تقسیم کردیں۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٣٠) ۔ (الاستذکار ج ٩ ص ١٢٣، مطبوعہ مؤستہ الرسالہ بیروت ١٤١٤ ھ، المفہم ج ٣ ص ٣٤ مطبوعہ بیروت، ١٤١٧ ھ) ۔

تاہم صحیح نظریہ وہ ہے جو جمہور صحابہ (رض) کا ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد مال جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور بغیر سوال اور بغیر طلب کے مال لینا جائز ہے۔ حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے عطا فرماتے تو میں عرض کرتا جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو اس کو عطا کردیں تو آپ نے فرمایا : یہ مال لے لو، جب تمہیں اس مال سے کوئی چیز بغیر طلب اور سوال کے ملے تو اس کو لے لو اور جو اس طرح نہ ہو تو اس کے پیچھے نہ پڑو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٧٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٤٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٦٠٨، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٦٧١)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 35