الٹا چاند یا کمعلمی؟

ماہر علوم فلکیات حضرت علامہ مفتی رفیق الاسلام صاحب قبلہ مد ظلہ العالی نے چاند کے الٹے ہونے کی افواہ پر مختصر مگر حقائق سے بھرپور تحریر رقم فرمائی آپ حضرات بھی ملاحظہ فرمائیں۔ آپ فرماتے ہیں:

“حضرت علامہ محمد شاہد علی صاحب مصباحی کے حکم پر چند سطور نذر احباب ہیں!

سبعہ سیاروں میں نیرین سے ہمارے تعلقات کچھ زیادہ ہیں ان میں سورج سے ہم اوقات نماز کا اور چاند سے ماہ و سال کا تعین کرتے ہیں ان دونوں میں ایک طبعی حرکت بھی ہے جو غرب سے شرق کو ہے سورج اس حرکت سے تین سو پینسٹھ دن پونے چھہ گھنٹے میں ایک دورہ پورا کرتاہے، جبکہ اس مدت میں چاند کے تیرہ مکمل دوروں سے زائد کا سفر طے ہو جاتاہے جب یہ دونوں زمین کی ایک ہی طرف ایک چوراہا میں ہوں تو وہ محاق کی صورت ہے جس میں چاند چھپ جاتا ہے کہ اس وقت چاند کا تاریک حصہ ہماری طرف ہوتاہے اور زمینی نگاہوں سے اوجھل رہتاہے، درجات و دقائق میں چاند چونکہ سریع الحرکت ہے، لہذا انتیس یا تیس تاریخ میں وہ اس حرکت میں آگے نکل جاتاہے، پھر سبق قمر اگر دس درجہ یا اس سے زائد ہوجائے تو ہلال کی صورت میں دو بارہ وہ ہمیں نظر آئےگا، اور ہر گھڑی یہ بعد بڑھتا جائےگا، یہی وجہ ہے کہ غروب آفتاب کے بعد اگر ہلال چالیس منٹ تک نظر آیا، تو دوسرے دن پہلی تاریخ میں یہ غروب آفتاب کے بعد ترانوے منٹ تک نظر آئے گا اور دونوں کے غروب میں روز بروز یہ تفاوت بڑھتا جائےگا

جیسے آج نظر آیا کہ تیسری تاریخ کا چاند تھا لہذا بعد کافی بڑھ چکا تھا، اور چاند کی روشنی چونکہ سورج کی دین ہے تو چاند کا روشن حصہ ہمیشہ سورج کی طرف ہی ہوگا،

آج جب چاند کو لوگوں نے دیکھا تو وہ سورج سے کافی مشرق میں تھا، لہذا اس کا تاریک حصہ مشرق کوہی نظر آئیگا اور روشن حصہ مغرب کو، آج نفس الامر میں ایساہی تھا، تو پھر اسے خلاف عادت قرار دینے کا کیا معنی؟،

اگر آسمان صاف رہا تو یہ چاند کل بھی نظر آ سکتا ہے، لیکن نیرین کے مابین آج کے مقابلہ میں کل کی دوری کچھ زائد ہوگی واللہ تعالی اعلم”

حضرت کی تحریر اس مغالطہ کو کماحقہ رفع کرتی ہے۔

میری آپ سے اپیل ہے کہ ایسی افواہوں میں دھیان نہ دیا کریں۔