أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلَّا تَـنۡفِرُوۡا يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ۙ وَّيَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ وَلَا تَضُرُّوۡهُ شَيۡئًــا‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

اگر تم (اللہ کی راہ میں) نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں درد ناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا اور تم اس کو بالکل نقصان نہیں پہنچا سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تم (اللہ کی راہ میں) نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں درد ناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا اور تم اس کو بالکل نقصان نہیں پہنچا سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے (التوبہ : ٣٩)

جہاد کے لیے نکلنے کا وجوب :

اس آیت سے مسلمانوں کو یہ تنبیہہ کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ دشمنان اسلام کی سرکوبی کرنے اور ان سے جنگ کرنے والوں کی مدد کرنے کے لیے خود کافی ہے، اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد کے مسلمانوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طلب کرنے پر جہاد کے لیے جانے میں سستی کی تو اللہ تعالیٰ کو کوئی کمی نہیں ہے وہ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کے لیے کوئی اور قوم لے آئے گا، اس لیے وہ یہ گمان نہ کریں کہ دین کا غلبہ صرف ان ہی سے ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم اللہ کو بالکل نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اس سے مراد یہ ہے کہ تم اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو نقصان پہنچانا تو متصور ہی نہیں ہے۔ اس آیت میں فرمایا ہے : اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا، اس سے معلوم ہوا کہ جہاد کرنا واجب ہے، نیز اس سے پہلی آیت میں ان مسلمانوں کا امیر مسلمانوں کو جہاد کے لیے بلائے تو ان پر واجب ہے کہ وہ اس کی دعوت پر لبیک کہیں، نیز اس آیت میں جہاد نہ کرنے پر عذاب کی وعید سنائی ہے اور جس طرح جہاد فرض ہے اسی طرح نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج بھی فرض ہیں اور جب جہاد نہ کرنے پر عذاب کی وعید ہے تو باقی فرائض کے ادا نہ کرنے پر بھی عذاب ہوگا، کیونکہ بہ حیثیت فرض ان عبادات میں کوئی فرق نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 39