أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا يَسۡتَاْذِنُكَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَارۡتَابَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ فَهُمۡ فِىۡ رَيۡبِهِمۡ يَتَرَدَّدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ سے وہی لوگ (جہاد میں رخصت کی) اجازت طلب کرتے ہیں جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دلوں میں (اسلام کے متعلق) شکوک ہیں پس وہ اپنے شکوک میں حیران ہوتے رہیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ سے وہی لوگ (جہاد میں رخصت کی) اجازت طلب کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دلوں میں (اسلام کے متعلق) شکوک ہیں، پس وہ اپنے شکوک میں حیران ہوتے رہیں گے (التوبہ : ٤٥ )

اس آیت میں فرمایا ہے : ان کے دلوں میں شکوک ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ شکوک کا محل قلب ہے اور جب شک کا محل قلب ہوگا تو معرفت اور ایمان کا محل بھی قلب ہوگا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اولئک کتب فی قلوبھم الایمان۔ (المجادلہ : ٢٢) ترجمہ : یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان کو ثبت فرما دیا ہے۔ نیز فرمایا ہے : وہ اپنے شکوک میں حیران ہوتے رہیں گے، کیونکہ جس شخص کو کسی مسئلہ میں شک ہوتا ہے وہ نہ اس کی مخالف جانب کوئی حکم لگا سکتا ہے نہ موافق جانب اور وہ نفی اور اثبات کے درمیان متردد اور حیران رہتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 45