أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنْفِرُوۡا خِفَافًا وَّثِقَالًا وَّجَاهِدُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(اللہ کی راہ میں) نکلو خواہ ہلکے ہو کر خواہ بوجھل ہو کر اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اللہ کی راہ میں) نکلو خواہ ہلکے ہو کر خواہ بوجھل ہو کر اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو تو (التوبہ : ٤١ )

خفافا وثقالا کے معانی :

اس آیت میں پھر مسلمانوں کو جہاد کی جانب متوجہ کیا ہے اور فرمایا ہے : تم خفیف ہو یا ثقیل جہاد کے لیے نکلو، خفیف اور ثقیل کے مفسرین نے متعدد معانی بیان کیے ہیں۔

(١) تمہارے لیے نکلنے میں خواہ آسانی ہو یا مشقت ہو

(٢) اہل و عیال کی کمی ہو یا زیادتی ہو

(٣) ہتھیاروں کی زیادتی ہو یا کمی ہو

(٤) سوار ہو کر نکلو یا پیادہ

(٥) جوان ہو یا بوڑھے

(٦) طاقتور ہو یا کمزور

(٧) تندرست ہو یا بیمار

(٨) خوشی سے نکلو یا ناخوشی سے

(٩) خواہ غنی ہو یا فقیر

(١٠) کاروبار دنیا سے فارغ ہو یا اس میں مشغول ہو

(١١) کھیتی باڑی سے فارغ ہو یا مشغول ہو

(١٢) بہادر ہو یا بزدل۔

خلاصہ یہ ہے کہ جب تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہاد کے لیے بلائیں تو خواہ تم کسی حال میں ہو یا کسی کیفیت میں ہو، تم پر جہاد کے لیے جانا واجب ہے۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت لیس علی الاعمی حرج۔ (الفتح : ١٧) ” اندھے پر کوئی گناہ نہیں “ سے منسوخ ہے اور بعض نے کہا یہ آیت اس آیت سے منسوخ ہے : وما کان المومنون لینفروا کافۃ۔ (التوبہ : ١٢٢) اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب مسلمان ایک ساتھ نکل کھڑے ہوں۔ اور تحقیق یہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں ہے اور اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ تمام مسلمان جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوں خواہ وہ معذور ہوں یا غیر معذور بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب جن مسلمانوں کو جہاد کے لیے بلائیں تو ان کا جہاد کے لیے جانا واجب ہے خواہ وہ کسی حالت یا کسی صفت پر ہوں۔ 

جہاد کی اقسام نیز اس آیت میں فرمایا ہے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، اس آیت کا محمل یہ ہے کہ جس کے پاس مال بھی ہو اور اس کا بدن بھی تندرست اور قوی ہو تو وہ اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرے اور جس کے پاس مال نہ ہو لیکن وہ توانا اور تندرست ہو تو وہ اپنی جان کے ساتھ جہاد کرے اور جس کا بدن کمزور ہو یا وہ بیمار ہو یا معذور ہو لیکن مالدار ہو تو وہ اپنے مال کے ساتھ جہاد کرے، حدیث میں ہے : حضرت زید بن خالد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی غازی کو اللہ کی راہ میں سامان دیا تو اس نے بھی جہاد کیا، اور جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کسی غازی کے پیچھے اس کے گھر کی دیکھ بھال کی اور ان کے ساتھ نیکی کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٨٤٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٩٥، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٥٠٩، سنن الترمذی : ١٦٢٧ ) ۔

جہاد کی پہلی قسم فرض عین ہے، اور یہ اس وقت ہے کہ جب دشمن اسلام مسلمانوں کے کسی شہر پر حملہ کرکے اس پر غلبہ حاصل کرے، اس وقت اس شہر کے تمام لوگوں پر جہاد کرنا فرض عین ہے خواہ نہتے ہوں یا مسلح، جوان ہوں یا بوڑھے، اگر اس شہر کے لوگ دشمن سے مقابلہ کے لیے ناکافی ہوں تو اس سے متصل شہر کے مسلمانوں پر دشمن سے جہاد کرنا فرض عین ہے۔ وعلی ھذا القیاس۔ جہاد کی دوسری قسم فرض کفایہ ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے امیر پر واجب ہے کہ وہ سال میں ایک مرتبہ تبلیغ اسلام کے لیے جہاد کرے حتیٰ کہ مخالفین اسلام میں داخل ہوں یا ذلت کے ساتھ جزیہ دیں۔ الانفال : ٧٠۔ ٦٠ میں ہم نے جہاد سے متعلق تمام امور پر مفصل گفتگو کی ہے، اس موضوع کو وہاں دیکھ لیا جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 41