أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عَفَا اللّٰهُ عَنۡكَ‌ۚ لِمَ اَذِنۡتَ لَهُمۡ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا وَتَعۡلَمَ الۡـكٰذِبِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ نے انہیں (غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کی) کیوں اجازت دے دی (اگر آپ اجازت نہ دیتے) تو آپ کو معلوم ہوجاتا کہ عذر پیش کرنے میں سچے کون ہیں اور آپ جھوٹوں کو جان لیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ نے انہیں (غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کی) کیوں اجازت دے دی (اگر آپ اجازت نہ دیتے) تو آپ کو معلوم ہوجاتا کہ عذر پیش کرنے میں سچے کون ہیں اور آپ جھوٹوں کو جان لیتے (التوبہ : ٤٣ )

شانِ نزول : منافقین کی ایک جماعت نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ انہیں غزوہ تبوک میں شامل ہونے سے رخصت دی جائے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اجازت دے دی، اس موقع پر یہ آیت بصورت عتاب نازل ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو کیوں اجازت دی، اور عتاب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معاف فرمائے تاکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل مطمئن رہے۔

عفا اللہ عنک کے متعلق مفسرین سابقین کی تقاریر :

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں : منکرینِ عصمت انبیاء (علیہم السلام) نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے گناہ کا صدور ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ معاف کرنا گناہ کی فرع ہے اگر آپ نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا تو پھر معاف کرنے کا کیا معنی ہوا۔ قتادہ اور عمرو بن میمون نے کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو کام بغیر وحی کے کیے تھے : ایک منافقین کو غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کی اجازت دی اور دوسرا کام یہ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لیا۔

امام رازی نے اس اعتراض کے دو جواب دیئے ہیں : پہلا جواب یہ ہے کہ عفا اللہ عنک (اللہ آپ کو معاف فرمائے) کلام عرب میں تعظیم اور تکریم کا کلمہ ہے جس کو کلام کی ابتداء میں ذکر کیا جاتا ہے اور جو شخص متکلم کے نزدیک بہت معظم اور مکرم ہو اس کے متعلق کہتا ہے اللہ آپ کو معاف فرمائے۔ آپ نے میرے معاملہ میں کیا کیا ہے، یا اللہ آپ سے راضی ہو، میری بات کا کیا جواب ہے۔ لہٰذا اس آیت میں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ہے عفا اللہ عنک اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی گناہ کیا ہو۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منافقین کو جہاد میں شامل نہ ہونے کی اجازت دینا آیا گناہ تھا یا نہیں۔ اگر یہ گناہ تھا تو عف اللہ عنک سے اللہ نے اس کو معاف فرما دیا تھا پھر کیوں فرمایا آپ نے ان کو اجازت کیوں دی، اور اگر یہ گناہ نہیں تھا تو یہ کیوں فرمایا اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہر تقدیر آپ نے ان کو اجازت کیوں دی یہ فرمانا گناہ کو مستلزم نہیں ہے، لہٰذا اس قول کو ترک اولیٰ اور ترک اکمل پر محمول کیا جائے گا۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٥٨، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ اس آیت کے متعلق لکھتے ہیں : ابو محمد مکی نے کہا عفا اللہ عنک افتتاح کا کلمہ ہے، جیسے کہتے ہیں اصلحک اللہ واعزک اللہ (اللہ تمہاری اصلاح کرے، اللہ تمہیں عزت دے) ۔ علامہ سمرقندی نے بعض علماء سے نقل کیا ہے اس کا معنی ہے : اللہ آپ کو عافیت سے رکھے آپ نے ان کو کیوں اجازت دی اور اگر کلام اس طرح شروع ہوتا کہ آپ نے ان کو کیوں اجازت دی تو اس کا اندیشہ تھا کہ اس کلام کی ہیبت سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قلب شق ہوجاتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے پہلے یہ ذکر فرمایا اللہ آپ کو معاف کرے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل مطمئن اور پرسکون رہے۔ پھر فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جہاد میں شامل نہ ہونے کی اجازت کیوں دی حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ منکشف ہوجاتا کہ کون اپنے عذر میں سچا ہے اور کون جھوٹا ہے، اور اس اسلوب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بہت بڑا مرتبہ ہے، نطفویہ نے کہا کہ بعض علماء کا یہ مذہب ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس آیت میں عتاب کیا گیا، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عتاب کیے جانے سے بہت بعید ہیں بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اجازت دیں یا نہ دیں اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دے دی تو اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجازت نہ دیتے پھر بھی یہ اپنے نفاق کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ (الشفاء ج ١ ص ٢٨، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : اس آیت میں عف اللہ عنک فرمانا ایسے ہے جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے : مجھے یوسف (علیہ السلام) کے کرم اور صبر پر تعجب ہے اور اللہ ان کی مغفرت فرمائے جب ان سے دبلی اور موٹی گایوں کے متعلق سوال کیا گیا تھا اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں اس وقت تک ان کو خواب کی تعبیر نہ بتاتا جب تک ان سے یہ شرط نہ منوا لیتا کہ وہ مجھ کو قید سے رہا کردیں گے۔ (اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مغفرت فرمائے اور پھر جس کام پر مغفرت کا ذکر فرمایا ہے وہ کوئی گناہ نہیں ہے، اسی طرح اس آیت میں جس کام کے متعلق عفا اللہ عنک فرمایا ہے وہ بھی کوئی گناہ نہیں ہے……سعیدی) عون بن عبداللہ نے کہا : اس سے زیادہ حسین اور کون سا عتاب ہوگا جس میں اللہ تعالیٰ نے عتاب سے پہلے معاف کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔ (ہمارے نزدیک یہ حقیقتاً عتاب نہیں ہے صورتاً عتاب ہے…سعیدی غفرلہ)

سفیان بن عیینہ نے کہا کہ یہ کیسا لطف ہے کہ پہلے معافی کا ذکر فرمایا پھر اس چیز کا ذکر فرمایا جس پر معافی دی۔ اس کے بعد علامہ آلوسی نے زمحشری پر سخت رد کیا ہے جس نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جرم سے کنایہ ہے۔ (الکشاف ج ٢ ص ٢٧٤) ۔ (روح المعانی ج ١٠ ص ١٠٨، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت) ۔

علامہ احمد خفاجی نے بھی امام رازی اور قاضی عیاض کی طرح تقریر کی ہے اور قاضی بیضاوی نے زمحشری کی اتباع میں جو یہ لکھا کہ عفا اللہ عنک فرمانا اس بات سے کنایہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجازت دینا خطا تھی کیونکہ معاف کرنا خطا کی فرع ہے، علامہ خفاجی نے زمحشری اور بیضاوی دونوں کا رد بلیغ کیا ہے۔ (عنایت القاضی ج ٤ ص ٥٧٤۔ ٥٧٣، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٧ ھ) ۔

علامہ محی الدین شیخ زادہ متوفی ٩٥١ ھ نے قاضی بیضاوی کی عبارت کی توجیہ کی ہے اور کہا ہے کہ قاضی بیضاوی کی خطا سے مراد اجتہادی خطا ہے اور اجتہادی خطا گناہ نہیں ہوتی بلکہ اس پر اجر ملتا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فعل ترک اولیٰ کے قبیل سے تھا۔ (حاشیہ شیخ زادہ علی البیضاوی ج ٤ ص ٤٦٦، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ) ۔

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے لکھا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عتاب فرمایا ہے اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ترک اولیٰ صادر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس خطاب میں عفو کو مقدم کیا جو صورت عتاب میں ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٨ ص ٨٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

عفا اللہ عنک کے متعلق مصنف کی تقریر :

میرے نزدیک اس آیت کی تقریر اس طرح ہے کہ جس کام سے اللہ نے لازماً منع کیا ہو اس کام کا کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور جس کام سے اللہ نے لازماً منع نہ کیا ہو بلکہ ترجیحاً منع کیا ہو یعنی اس کا نہ کرنا راجح ہو تو اس کام کا کرنا گناہ تو نہیں لیکن مکروہ تنزیہی یا خلافِ اولیٰ ہے، اب اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منافقین کو اجازت دینے سے لازماً منع کیا ہوتا تو یہ فعل حرام اور گناہ کبیرہ ہوگا، اور اگر ترجیحاً منع کیا ہوتا تو گناہ تو نہ ہوتا مگر یہ فعل مکروہ تنزیہی یا خلافِ اولیٰ ہوتا، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منع کیا ہی نہیں تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان کو اجازت دینا، کسی قسم کا گناہ ہے نہ یہ فعل مکروہ تنزیہی یا خلافِ اولیٰ ہے، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ان کو اجازت دینا یا نہ دینا دونوں فعل مباح تھے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت آمیز خطاب فرمایا ہے کہ اللہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معاف فرمائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جہاد میں شامل نہ ہونے کی کیوں اجازت دے دی حالانکہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجازت نہ دیتے تو یہ پھر بھی جہاد میں شریک ہونے والے نہ تھے یعنی ان کے حق میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجازت دینا اور نہ دینا دونوں امر برابر تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 43