أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يَسۡتَـاۡذِنُكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ اَنۡ يُّجَاهِدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

جو لوگ اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرنے میں (کبھی رخصت کی) اجازت نہیں طلب کریں گے اور اللہ متقین کو خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرنے میں (کبھی رخصت کی) اجازت طلب نہیں کریں گے، اور اللہ متقین کو خوب جاننے والا ہے (التوبہ : ٤٤ )

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جہاد میں شامل نہ ہونے کی یا اپنے گھروں میں بیٹھنے کی اجازت طلب نہیں کریں گے، بلکہ جب بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی بات کا حکم دیں گے وہ اس کی تعمیل میں جھپٹ پڑیں گے اور اس وقت جہاد میں شامل نہ ہونے کی اجازت طلب کرنا علاماتِ نفاق سے تھا اسی لیے اس کے بعد فرمایا :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 44