أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَا لَـكُمۡ اِذَا قِيۡلَ لَـكُمُ انْفِرُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اثَّاقَلۡـتُمۡ اِلَى الۡاَرۡضِ‌ ؕ اَرَضِيۡتُمۡ بِالۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا مِنَ الۡاٰخِرَةِ‌ ۚ فَمَا مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا فِى الۡاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيۡلٌ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا جاتا ہے تو تم بوجھل ہو کر زمین پر چپک جاتے ہو ! کیا تم نے آخرت کے بدلہ دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ہے ؟ سو دنیا کی زندگی کا نفع تو آخرت کے مقابلہ میں بہت تھوڑا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا جاتا ہے تو تم بوجھل ہو کر زمین پر چپک جاتے ہو ! کیا تم نے آخرت کے بدلہ دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ہے ؟ سو دنیا کی زندگی کا نفع تو آخرت کے مقابلہ میں بہت تھوڑا ہے (التوبہ : ٣٨)

غزوہ تبوک کی تیاری :

یہ آیت غزوہ تبوک کے موقع پر نازل ہوئی ہے، یہ غزوہ نو ہجری میں ہوا تھا۔ تبوک ایک چشمہ ہے جو وادی قریٰ میں تھا۔ یہ مدینہ سے بارہ مرحلہ پر شام کے نزدیک واقع ہے۔ امام ابن اسحٰق نے بیان کیا ہے کہ طائف کی مہم سے فارغ ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نو ہجری میں ذوالحجہ سے رجب تک مدینہ میں قیام فرمایا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو روم کے عیسائیوں سے جہاد کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔ یہ بہت تنگی کا زمانہ تھا، گرمی بہت شدید تھی، اور شہروں میں کھجوریں پکنے والی تھیں اور لوگ چاہتے تھے کہ مدینہ میں ٹھہریں اور درختوں کے سائے اور پکی ہوئی کھجوروں سے راحت حاصل کریں، اور اس موسم میں مدینہ سے باہر نکلنا ان پر بہت شاق اور دشوار تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کبھی کسی غزوہ کے لیے نکلتے تھے تو اس کا صراحتاً ذکر نہ کرتے بلکہ اس کا کنایتاً ذکر فرماتے تھے۔ لیکن تبوک کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صراحتاً ذکر فرمایا کیونکہ یہ بہت دور کا سفر تھا، اور اس میں مشقت بہت تھی اور جس دشمن سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ کا ارادہ کیا تھا اس کی تعداد بہت زیادہ تھی، اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صراحتاً بیان فرما دیا کہ آپ رومیوں سے جنگ کے لیے جا رہے ہیں۔ منافقوں نے ایک دوسرے سے کہا اس قدر سخت گرمی میں جہاد کے لیے نہ جائو۔ اسحاق بن ابراہیم اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر پہنچی کہ منافقین سویلم یہودی کے گھر جمع ہو رہے ہیں اور وہ مسلمانوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں جانے سے منع کر رہے ہیں، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو چند اصحاب کے ساتھ بھیجا اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ سویلم کے گھر آگ لگا دیں، سو حضرت طلحہ نے ایسا ہی کیا۔ امام ابن اسحاق کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر کی تیاری شروع کی، اور مال دار مسلمانوں کو جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی۔ حضرت عثمان (رض) تعالیٰ نے غزوہ تبوک میں دل کھول کر مال خرچ کیا۔ حضرت عبدالرحمن بن خباب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک کے لیے مسلمانوں کو برانگیختہ فرما رہے تھے۔ حضرت عثمان بن عفان (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اللہ کی راہ میں ایک سو اونٹ مع کجاو وں اور کپڑوں کے پیش کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر مسلمانوں کو برانگیختہ کیا تو حضرت عثمان (رض) نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں دو سو اونٹ اللہ کی راہ میں مع ان کے کجاو وں اور کپڑوں کے پیش کرتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر مسلمانوں کو لشکر کی مدد کے لیے برانگیختہ کیا، حضرت عثمان بن عفان (رض) پھر کھڑے ہوئے اور کہا : میں اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ مع ان کے کجاو وں اور کپڑوں کے پیش کرتا ہوں۔ تب میں نے دیکھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فرماتے ہوئے منبر سے اترے : آج کے بعد عثمان جو عمل بھی کرے اس کو ضرر نہیں ہوگا، آج کے بعد عثمان جو عمل بھی کرے اس کو ضرر نہیں ہوگا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٢٠، مسند احمد رقم الحدیث : ١٦٦٩٦، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٨٥٢ ) ۔ حضرت عبدالرحمن بن السمرہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے لشکر کے لیے حضرت عثمان (رض) ایک ہزار دینار لے کر آئے، میں نے دیکھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دیناروں کو اپنی گود میں الٹ پلٹ رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ آج کے بعد عثمان جو عمل بھی کرے اس کو ضرر نہیں ہوگا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٢١، البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٥٩٧، طبع جدید) ۔ اس حدیث کا معنی یہ نہیں ہے کہ حضرت عثمان (رض) نیک کام کریں یا بد ان کو اس کا ضرر نہیں ہوگا، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ ان کو برائی سے محفوظ رکھے گا اور بشری تقاضے سے کوئی غلطی ہوگئی تو مرنے سے پہلے ان کو توبہ کی توفیق دے دے گا۔ واضح رہے کہ اس آیت میں جو فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے جہاد کے لیے نکلنے کے لیے کہا جاتا ہے تو تم زمین سے چپک جاتے ہو، اس سے مراد تمام مسلمان نہیں ہیں، بلکہ بعض مسلمان ہیں کیونکہ اکثر مسلمان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق غزوہ تبوک پر خوشی سے روانہ ہوگئے تھے جن کی تعداد تیس ہزار تھی، اور بعض مسلمان بغیر کسی عذر کے اپنی سستی کی وجہ سے رہ گئے تھے جن کو بہت سخت ملامت کی گئی اور منافقین جھوٹے حیلے بہانے کرکے رہ گئے تھے۔ (البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٥٩٣، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 38