🐪 اونٹ باندھنا 🌴

سیدنا انس بن مالک کہتے ہیں:

قَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللہِ ! أَعْقِلُهَا وَأَتَوَكَّلُ ، أَوْ أطْلِقُهَا وَأَتَوَكَّلُ ۔ قَالَ :‏‏‏‏ اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ ۔

ایک‌شخص نے عرض کی:

یارسول اللہ ﷺ ! کیا میں اونٹ باندھ کر اللہ پر بھروسہ کر وں ، یا ( کُھلا ) چھوڑ کر ؟

آپ نے فرمایا: باندھ کر اللہ پر بھروسہ کرو ۔

( جامع الترمذی ، ر 2517 )

اگرچہ اس حدیث کو علمِ رجال کے امامِ اول ، حافظ یحی بن سعید القطان رحمہ‌اللہ نے مُنکَر قرار دیا ہے ( ایضاً )

پھر بھی اس سے یہ معنی‌ اخذ نہیں ہوتاکہ‌:

اونٹ کو جس رسی اور جس طریقے سے باندھ رہے ہو اس رسی اور طریقے کو ہی سب کچھ سمجھ لو ۔

بلکہ اس میں فرمایا جارہا ہے:

اونٹ باندھو ضرور ، لیکن بھروسہ بہ‌ ہر صورت اللہ پر ہی کرو ۔

ہمارے ہاں تو اس حدیث کو پڑھ کر لوگ پتا نہیں کیا کیا معنے اخذ کررہے ہیں ۔

جمعہ معطل کردو ، جماعت موقوف کردو ۔

کیوں جی ؟؟

حدیث میں جوآیا ہے: پہلے اونٹ باندھو !!

لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم

جناب! حدیث میں صرف اونٹ باندھنے کا آیا ہے ، اونٹ باندھ کر جیب میں ڈالنے کا نہیں آیا ۔

اور نہ یہ آیا ہے کہ تمھارا ایمان اتنا کمزور ہونا چاہیے کہ اونٹ باندھ کر بھی ڈرتے ہی رہو ۔

اونٹ باندھ دیا ، بات ختم !

اب ………….. اپنے دل کو کامل طور پر اپنے پیدا کرنے والے کی طرف کرلیں ، اُسی سے خیر کی امید رکھیں ، وہ آپ کی بھی حفاظت فرمائے گا اور اونٹ کی بھی ۔

✍️لقمان شاہد

30-3-20 ء