دنیا کی مصیبتوں کا صبر سے سامنا کریں..!!!

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

“مَا يَزَالُ البَلَاءُ بِالمُؤْمِنِ وَالمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ”

مومن مرد اور عورت پر اس کی جان مال اور اولاد کے معاملے میں مصبتیں نازل ہوتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملاقات کریں گے کہ ان پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔

[جامع الترمذی ج 4 ص 602 رقم الحدیث 2399]

امام ترمذی علیہ الرحمہ نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔

[جامع الترمذی ج 4 ص 602 رقم الحدیث 2399]

امام حاکم اور امام ذہبی علیہما الرحمہ نے اس حدیث کو امام مسلم علیہ الرحمہ کی شرط پر صحیح کہا ہے لیکن متن حدیث میں “نفسہ” کی جگہ “جسدہ” کے الفاظ ہیں۔

[المستدرک للحاکم مع التلخیص للذہبی ج 4 ص 350]

امام ابن حبان علیہ الرحمہ نے بھی اسے روایت کیا ہے اور اس میں بھی “نفسہ” کی جگہ “جسدہ” کے الفاظ ہیں۔

[صحیح ابن حبان ج12 ص 337 رقم 2986]

اس روایت کو امام بیہقی علیہ الرحمہ نے بھی روایت کیا ہے کچھ الفاظوں کے تغیر کے ساتھ

[شعب الایمان للبیہقی ج 7 ص 158 رقم 9836]

فقیر کے علم کے مطابق جامع الترمذی، المستدرك للحاکم اور صحیح ابن حبان کی سند میں محمد بن عمرو بن علقمہ اللیثی راوی ہے جس پر کچھ جرح ہے جو تطبیق کے ساتھ کے حسن الحدیث کے درجہ پر فائز ہے لیکن شعب الایمان [ج 7 ص 158 رقم 9836] میں ابو الحباب سعید بن یسار المدنی (ثقہ) نے اس روایت میں اس کی متابعت کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہ روایت درجہ صحیح پر پہنچ جاتی ہے۔ الحمدللہ

کرونا وائرس وبا بھی ایک دنیاوی مصیبت ہے اس کا سامنا بھی صبر اور ذکر اللہ کے ساتھ کریں اللہ عزوجل اس کے ذریعے بھی آپ کے گناہ معاف فرمائے گا اور آپ کے آخرت میں درجات بلند فرمائے گا۔

اللہ عزوجل ہمیں ایسی ہر اس مصیبت و آسائش سے دور رکھے جس سے بندہ دین سے دور ہو جائے۔

آمین

عسقلانی غفراللہ لہ

30 مارچ 2020ء