لاک ڈاؤن کا نبوی فارمولا پس منظروپیش منظر

اختر نور

عالم گیر وبا یعنی کرونا وائرس کی وجہ سے جو گلوبل لاک ڈاؤن یعنی عالمی تعطل و جمود ہے اور جگہ جگہ اس کے متاثرین کو قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے وہ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ بیماریوں کے پھیلنے کے وقت اور وباؤں کے نزول کے وقت کسی ایک مقام پر جم کر ٹھہر جانا اور اپنے آپ کو اور اپنے ارد گرد رہنے والوں کو اس بیماری یا وبا میں ملوث ہونے سے بچانا یا سماج میں اس وبا کو پھیلنے سے روکنا یہ خالص ایک اسلامی عمل اور نبوی فارمولا ہے جس کی قرآن و حدیث سے بھی تائید ہوتی ہے اور اس سلسلے میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی واضح تعلیمات ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔

جان بچانے کے تعلق سے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ “ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ” یعنی اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو بلکہ ایسی جگہوں سے پرہیز کرو جہاں جانے سے ہلاکت میں پڑنے کا اندیشہ ہو

یوں ہی سورہ نمل میں اللہ رب العزت نے حضرت سلیمان علیہ السلام اور ایک چيونٹی کی گفتگو تفصیل کے ساتھ ارشاد فرمائی ہے ۔جب سلیمان علیہ السلام کا لشکر اس مقام سے گزرتا ہے جہاں چیونٹیوں کا مسکن ہوتا ہے تو چیونٹیوں کی سردار اپنی ساتھیوں سے کہتی ہے کہ “یاایہا النمل ادخلو مساکنکم لایحطمنکم سلیمان و جنودہ”

یعنی اے چیونٹیو! اپنے اپنے مسکن میں گھس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ بے خبری میں سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں روند دے اور تم اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھو

یہاں بھی جان کی حفاظت کے لیے لاک ڈاؤن کا تصور پیش کیا گیا ہے کہ اگر مصیبتوں کے آنے کے وقت کوئی بھی جاندار اپنی جان کی حفاظت چاہتا ہے تو وہ اپنے گھروں کو اپنا مسکن بنا لے اور جم کر بیٹھ جائے جب تک کہ مصیبت وہاں سے ٹل نہ جائے ورنہ ایسے وقت باہر نکلنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے

اب آئیے حدیث پاک کی روشنی میں لاک ڈاؤن اور کوورنٹین کے تصور کو سمجھنے کی کوشش کریں، ہم اس باب میں طاعون کے تعلق سے وارد روایات کو پیش کریں گے کیونکہ زمانہ نبوی اور اس سے ماقبل طاعون ہی ایک ایسی وبا یا بیماری تھی جس کا حدیث پاک میں ذکر ملتا ہے اور اس سے بچنے اور بچانے کا حکم ملتا ہے

جیسا کہ فرمان مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ہے کہ “إذا سمعتم بالطاعون فلا تدخلوھا وإذا وقع بارض وأنتم بھا فلا تخرجوا منھا”(صحیح البخاری ۔٥٧٢٨)

یعنی جب کسی علاقے میں طاعون پھوٹ پڑنے کی خبر سنو تو پھر اس علاقے میں نہ جاؤ یوں ہی اگر تم ایسے علاقے میں ہو جہاں طاعون پھیل جائے تو پھر وہاں سے باہر نہ نکلو ۔اس حدیث پاک سے صراحتاً ہمیں لاک ڈاؤن کا تصور ملتا ہے کہ جب وباؤں کا زور ہو تو ایسے علاقوں میں آنے جانے سے مکمل اجتناب برتو تاکہ کہیں تم بھی ان وباؤں میں نہ گھر جاؤ

یوں ہی طاعون کے زمانے میں اپنے شہروں اور گھروں کو لازم پکڑ لینے کے تعلق سے متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں جیسا کہ بخاری کتاب الانبیا باب حدیث الغار میں حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا “لیس من احد یقع الطاعون فیمکث فی بلدہ صابرا محتسبا”

یعنی جب کسی شخص کو طاعون آ لے تو پھر اسے چاہیے کہ وہ اپنے ہی شہر میں صبر و احتساب کرتے ہوئے فروکش ہوجائے کہیں آنے جانے کی کوشش نہ کرے صبر کرے، اللہ کی ذات پر بھروسہ کرے اس سے فضل و کرم کا طالب رہے اور یہ عقیدہ رکھے کہ جو اللہ کی جانب سے مقدر ہے وہ ہوکر رہے گا بھاگنے سے نہ وہ موت سے بچ سکتا ہے نہ اللہ کی تقدیر سے

یوں ہی ایک دوسری حدیث پاک جو مسند امام احمد بن حنبل کی ہے جسے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی روایت کرتی ہیں جس میں کچھ الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ ارشاد ہوتا ہے :

فلیس من رجل یقع الطاعون فیمکث فی بیتہ صابرا محتسبا “(مسند احمد بن حنبل حدیث نمبر ٢٦١٣٩)

اس میں” بلدہ” کی بجائے” بیتہ” کا لفظ صاف دلالت کر رہا ہے کہ وہ اپنے گھر میں محصور ہوکر بیٹھ جائے کسی اجتماعی جگہ پر نہ جائے، شوشل گیدرنگ سے پرہیز کرے، ہاں صبر و شکر اور اللہ تعالیٰ سے نیک گمان کرنا نہ چھوڑے

پھر آگے حدیث پاک میں ایسے شخص کا اس بیماری میں مرجانے پر شہادت کا درجہ دئیے جانے کا بیان ہے لیکن ہمارا جو مقصود ہے وہ یہ کہ لاک ڈاؤن کرنا یا کوورنٹین ہوجانا یہ کوئی نئی چیز نہیں نہ اس میں کوئی سائنسی کمال ہے بلکہ ان چیزون کے تعلق سے تو ہمارے آقا علیہ الصلوۃ السلام نے چودہ سو سالوں پیشتر ہی ہماری رہنمائی فرما دی تھی آج کرونا وائرس کی وجہ سے جو دنیا بھر میں لاک ڈاؤن ہے وہ ہمارے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پہلے علاج تجویز فرما دیا تھا جس پر دنیا آج عمل کر رہی ہے اور اپنے شہریوں کو سختی سے اس پر عمل درآمد کی تلقین کر رہی ہے

اس حساب سے دیکھا جائے تو لاک ڈاؤن کی ذمہ داری مسلمانوں پر کچھ اور زیادہ عائد ہوتی ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ اس کی پامالی کرنے والے مسلمان ہی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ایک طبقہ نہایت شد و مد کے ساتھ یہ آواز اٹھا رہا ہے کہ مسلمان لاک ڈاؤن کا پالن نہیں کرتے یہ سماج کے دشمن ہیں اگر کرونا وائرس پھیلتا ہے تو اس میں مسلمانوں کی گیدرنگ اور آپسی اجتماعات کا بہت بڑا ہاتھ ہے وغیرہ

گرچہ یہ سب وہ صرف مذہبی منافرت کی وجہ سے کہہ رہے ہیں لیکن انہیں موقع تو ہم ہی فراہم کر رہے ہیں

جبکہ میرے آقا کریم علیہ الصلوات والتسليم نے کتنی وضاحت کے ساتھ فرما دیا کہ ایسے وقت میں رب عزوجل کی مشئیت پر مطمئن ہوکر اور ذات باری تعالیٰ پر مکمل اعتماد و یقین کے ساتھ صبر و شکر کرتے ہوئے کسی ایک مقام پر ٹھہر جائیں تاکہ بیماریوں کے پھیلنے میں اس علاقے کے کسی فرد کا ہاتھ نہ ہو ورنہ وہ تو خود مرے گا ساتھ میں اپنے ارد گرد کے رہنے والوں کو بھی مشکلات سے دوچار کرے گا اس لیے خود کی حفاظت کیجیے اور دوسروں کی جان کی بھی کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے “من احیاھا فکانما احی الناس جمیعا”

یعنی کسی ایک شخص کی زندگی بچانا انسانیت کو زندگی بخشنے کے مترادف ہے