أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـقَدِ ابۡتَغَوُا الۡفِتۡنَةَ مِنۡ قَبۡلُ وَقَلَّبُوۡا لَكَ الۡاُمُوۡرَ حَتّٰى جَآءَ الۡحَـقُّ وَظَهَرَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَهُمۡ كٰرِهُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک انہوں نے پہلے بھی (اوائل ہجرت میں) فتنہ پھیلانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے آپ کے لیے کئی تدبیریں الٹ پلٹ کی تھیں حتیٰ کہ اللہ کی مدد آگئی اور اللہ کا دین غالب آگیا اور وہ (اس کو) ناپسند کرنے والے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک انہوں نے پہلے بھی (اوائل ہجرت میں) فتنہ پھیلانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے آپ کے لیے کئی تدبیریں الٹ پلٹ کی تھیں حتیٰ کہ اللہ کی مدد آگئی اور اللہ کا دین غالب آگیا اور وہ (اس کو) ناپسند کرنے والے تھے (التوبہ : ٤٨ )

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ منافقین اس سے پہلے بھی ایسی سازشیں کرتے تھے جس کے نتیجہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے دین سے پھرجائیں، جیسے جنگ احد میں عبداللہ بن ابی عین معرکہ کے وقت اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر میدانِ کارزار سے نکل گیا، اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مہم کو ناکام کرنے کے لیے مختلف سازشیں کرتے رہے ہیں حتیٰ کہ اللہ کی مدد آگئی اور اللہ کا دین غالب آگیا، اسی طرح اب بھی اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو رومیوں کے مقابلہ میں فتح اور نصرت عطا فرمائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک سے کامیاب و کامران ہو کر واپس آئے اور تبوک کی عیسائی ریاستوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا باج گزار بننا قبول کرلیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 48