أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ اَرَادُوۡا الۡخُـرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَهٗ عُدَّةً وَّلٰـكِنۡ كَرِهَ اللّٰهُ انۢبِعَاثَهُمۡ فَثَبَّطَهُمۡ وَقِيۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر وہ (جہاد کے لیے) نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے زاد راہ کی تیاری کرتے، لیکن اللہ کو ان کا نکلنا ناپسند تھا تو اس نے ان کو پست ہمت کردیا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں (بیماروں اور عورتوں) کے ساتھ بیٹھے رہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر وہ (جہاد کے لیے) نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے زاد راہ کی تیاری کرتے، لیکن اللہ کو ان کا نکلنا ناپسند تھا تو اس نے ان کو پست ہمت کردیا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں (بیماروں اور عورتوں) کے ساتھ بیٹھے رہو (التوبہ : ٤٦) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر منافقین کا جہاد کرنے کا ارادہ ہوتا تو وہ اس کے لیے زاد راہ کی تیاری کرتے اور سامانِ سفر جمع کرتے اور ان کا سامانِ سفر کی تیاری نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ غزوہ تبوک میں شامل ہونا نہیں چاہتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے جہاد میں نکلنے کو ناپسند کرتا تھا تو اس نے ان پر بزدلی طاری کرکے ان کو جہاد میں شامل ہونے سے روک دیا، تشبیط کے معنی ہیں کسی شخص کو اس کے ارادہ پر عمل کرنے سے روک دینا، اور ان سے کہا گیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھ جائو، بیٹھنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو جہاد میں شامل ہونے سے معذور ہوں، جیسے اندھے، اپاہج، بیمار، عورتیں اور بچے، اس میں اختلاف ہے کہ ان سے یہ کہنے والا تھا، ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے خود ایک دوسرے سے یہ کہا تھا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھ جائو، دوسرا قول یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے ناراض ہو کر فرمایا تھا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھ جائو، انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول کو حجت بنا لیا اور کہا ہمیں بیٹھنے کی اجازت مل گئی ہے اور تیسرا اقوال یہ ہے کہ اللہ نے یہ بات ان کے دلوں میں ڈال دی تھی۔

جب منافقین کا جہاد کے لیے نکلنا اللہ کو ناپسند تھا تو ان کی مذمت کیوں کی گئی ؟

حافظ محمد بن ابی بکر ابن القیم الجوزیہ متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر منافقین جہاد کے لیے نکلتے تو ان کا یہ فعل اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور عبادت ہوتا، تو اللہ عزوجل نے اپنی اطاعت کو کیسے ناپسند فرمایا، اور جب ایک چیز مکروہ ہو تو اس کی ضد محبوب ہوتی ہے، اور جب منافقین کا جہاد کے لیے نکلنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکروہ تھا تو اس کی ضد یعنی جہاد کے لیے نہ نکلنا اور مدینہ میں بیٹھے رہنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب قرار پایا اور جب ان کا جہاد کے لیے نہ جانا اور بیٹھے رہنا اللہ کے نزدیک محبوب تھا تو اللہ تعالیٰ ان کو جہاد کے لیے نہ نکلنے پر کیونکر عذاب دے گا، یہ بہت اہم سوال ہے اور مختلف فرقوں نے اس کے مختلف جواب دیئے ہیں : جبریہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال کسی حکمت اور مصلحت پر موقوف نہیں ہوتے اور ہر ممکن اللہ کے لیے جائز ہے، اس لیے یہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس فعل پر عذاب دے جو اللہ کے نزدیک محبوب اور پسندیدہ ہو اور اس فعل پر عذاب نہ دے جو اس کے نزدیک مبغوض اور غیر پسندیدہ ہو، اور اللہ کے اعتبار سے سب کچھ جائز ہے۔ اور قدریہ (معتزلہ) نے اپنے قواعد کے مطابق یہ جواب دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لیے نکلنے سے حقیقتاً منع نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ کو جہاد کے لیے نکلنے سے منع کیا اور روکا اور وہ کام کیا جو اللہ کا ارادہ نہ تھا، اور جب کہ ان کے نکلنے میں خرابی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کے لیے نکلنے کی کراہت اور ناپسندیدگی ڈال دی اور اللہ تعالیٰ کا ان کے دلوں میں کراہت کا ڈالنا اس کی مشیت کی کراہت ہے اور خود اللہ تعالیٰ کو ان کا نکلنا ناپسند نہیں تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا تھا، اللہ تعالیٰ ان کو اس چیز کا حکم کیسے دے گا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ” لیکن اللہ کو ان کا نکلنا ناپسند تھا “ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نکلنے کی ناپسندیدگی اور کراہت ڈال دی جب کہ اللہ تعالیٰ کو ان کا نکلنا پسند تھا۔ جس شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ نے علم کی نورانیت رکھی ہو اس پر ان دونوں جوابوں کا فساد مخفی نہیں ہے، اور اس اعتراض کا صحیح جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کو جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا اور ان کا جہاد کے لیے نکلنا اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت تھا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع تھا، اور آپ کی اور مومنین کے لے نصرت تھی، اور ان کا یہ عمل محبوب اور پسندیدہ تھا، لیکن اللہ سبحانہ کو یہ علم تھا کہ اگر یہ جہاد کے لیے نکلے تو ان کی نیت اللہ کی رضا جوئی، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اور مسلمانوں کی نصرت نہیں ہوگی، بلکہ ان کا نکلنا اس لیے ہوگا کہ وہ راستہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں، ادھر کی ادھر لگائیں اور مسلمانوں میں فساد ڈالنے کی کوشش کریں اور ان کا مطمح نظر یہ ہوگا کہ کسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشن کو ناکام کیا جائے اور اس جہاد میں مسلمانوں کو شکست سے دوچار کیا جائے، اس لیے ان کا جہاد کے لیے نکلنا اگرچہ بظاہر اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع تھا لیکن درحقیقت ان کا نکلنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کی بدخواہی پر مبنی تھا اور ان کا نکلنا اس چیز کو مستلزم تھا جو اللہ کے نزدیک مکروہ اور مبغوض تھی سو ان کا نکلنا اس اعتبار سے اللہ کے نزدیک مکروہ اور ناپسندیہ تھا اور جس اعتبار سے مسلمان جہاد کے لی نکلے تھے اس اعتبار سے ان کا نکلنا محبوب اور پسندیدہ تھا، اور اللہ کو علم تھا کہ منافقین نے اسی اعتبار سے جہاد کے لیے نکلنا تھا جو اللہ کو ناپسندیدہ اور مبغوض ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کو ان کا نکلنا ناپسند تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس لیے مذمت کی کہ جس طرح ان کو جہاد کے لیے نکلنا چاہیے تھا وہ اس طرح جہاد کے لیے نہیں نکلے اور ان کے اس طرح نہ نکلنے اور بیٹھے رہنے کی وجہ سے ان کو عذاب دے گا۔ اس بناء پر جواب میں یہ کہا جائے گا کہ ان کو جہاد کے لیے جس طرح نکلنا چاہیے تھا اس طرح ان کا نہ نکلنا اللہ کو مبغوض اور ناپسندیدہ ہے اور اس کی ضد ہے جہاد کے لیے اس طریقہ سے نکلنا یہ اللہ کو پسندیدہ ہے لیکن وہ اس طرح نہیں نکلنا چاہتے تھے، وہ بر بناء فساد جہاد کے لیے نکلنا چاہتے تھے اور یہ نکلنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض اور ناپسندیدہ تھا، غرض یہ کہ ان کا جہاد کے لیے نکلنا بھی ناپسندیدہ تھا، اور نہ نکلنا بھی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی اور موجبِ عذاب تھا۔

تمام مخلوق میں نیکی کی صلاحیت کیوں نہیں پیدا کی گئی :

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ نے ان کو ایسی توفیق کیوں نہ دی کہ وہ جہاد کے لیے اس طرح نکلتے جس طرح نکلنا اللہ کو محبوب اور پسندیدہ تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ غیر محل اور غیر اہل میں اپنی توفیق نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ کو خوب علم ہے کہ اس نے اپنی ہدایت، اپنی توفیق اور اپنے فضل کو کہاں رکھنا ہے اور ہر محل اس کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر محل میں ہدایت اور توفیق کی صلاحیت کیوں نہ پیدا کردی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کمال ربوبیت اور عالم خلق اور امر میں اس کے اسماء اور صفات کا ظہور اس بات سے انکار کرتا ہے اور اگر اللہ سبحانہٗ ایسا کرتا تو یہ اس کو محبوب ہوتا کیونکہ وہ اس کو پسند کرتا ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے، اس کی توحید بیان کی جائے اور اس کی عبادت کی جائے لیکن ایسا کرنا اس سے زیادہ محبوب چیز کے فوت ہونے کا باعث تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس کے دشمنوں سے جہاد کیا جائے اور ان سے انتقام لیا جائے اور اس کے اولیاء کے مرتبہ اور شرف کا اظہار کیا جائے اور ان کے فضل کی تخصیص کی جائے اور وہ اپنی جانوں کو اللہ کے دشمنوں سے جنگ میں خرچ کریں اور اللہ کی عزت، قدرت اور سطوت کا ظہور ہو اور اس کی زبردست پکڑ اور اس کے دردناک عذاب کا اظہار ہو، اس کے علاوہ اور بیشمار حکمتیں ہیں جن تک مخلوق کے علم اور عقل کی رسائی نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جبراً ہر شخص میں ہدایت اور توفیق نہیں پیدا کی۔ (بدائع التفسیر ج ٢ ص ٣٥٧۔ ٣٥٥، مطبوعہ دار ابن الجوزیہ ریاض، ١٤١٤ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 46