أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّقُوۡلُ ائۡذَنۡ لِّىۡ وَلَا تَفۡتِنِّىۡ‌ ؕ اَلَا فِى الۡفِتۡنَةِ سَقَطُوۡا‌ ؕ وَاِنَّ جَهَـنَّمَ لَمُحِيۡطَةٌ ۢ بِالۡـكٰفِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ مجھے (جہاد سے رخصت کی) اجازت دیجئے اور مجھے آزمائش میں نہ ڈالئے، سنو ! یہ فتنے میں گر چکے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کو ضرور محیط ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ مجھے (جہاد سے رخصت کی) اجازت دیجئے اور مجھے آزمائش میں نہ ڈالئے۔ سنو، یہ فتنے میں گر چکے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کو ضرور محیط ہے (التوبہ : ٤٩ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کی طرف نکلنے کا ارادہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جد بن قیس سے فرمایا : اے جد بن قیس ! بنوالا صفر (زرد رو قوم) سے جہاد کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے پاس عورتیں ہیں، اور جب میں بنوالاصفر کی عورتیں دیکھوں تو تو فتنہ میں پڑ جائوں گا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے یہاں بیٹھنے کی اجازت دیں اور فتنہ میں نہ ڈالیں، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : اور ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ مجھے (جہاد سے رخصت کی) اجازت دیجئے اور فتنہ میں نہ ڈالئے۔ (المعجم الکبیر ج ١٢ رقم الحدیث : ١٢٦٥٤، مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٠) ۔

امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کرتے ہیں : جن دنوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک کی تیاری فرما رہے تھے ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو سلمہ کے بھائی جد بن قیس سے فرمایا : اے جد ! اس سال بنوالاصفر (زرد رو عیسائیوں) سے جہاد کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اس سے اجازت دیں گے ! اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیں، میری قوم کو معلوم ہے کہ میں عورتوں میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتا ہوں اور جب میں بنوالاصفر کی عورتیں دیکھوں گا تو ان سے صبر نہیں کرسکوں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اعراض فرمایا اور فرمایا : میں نے تم کو اجازت دی، تو اس موقع پر جد بن قیس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ کہتا ہے مجھے فتنے میں نہ ڈالئے، سنو یہ فتنے میں گر چکے ہیں۔ یعنی اگر واقعی وہ بنوالاصفر کی عورتوں کے فتنہ سے ڈرتا تھا تو یہ فتنہ تو اس کو لاحق نہیں ہوا لیکن وہ اس سے بڑے فتنہ میں پڑگیا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد میں شامل نہیں ہوا اور اس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مقابلہ میں اپنی رائے کو ترجیح دی اور یہ بہت بڑا فتنہ ہے۔ (جامع البیان جز ١٠ ص ١٩٢۔ ١٩١، مطبوعہ دارالفکر، بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 49