أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّهٗ مَنۡ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَـنَّمَ خَالِدًا فِيۡهَا‌ ؕ ذٰ لِكَ الۡخِزۡىُ الۡعَظِيۡمُ ۞

ترجمہ:

کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو بیشک اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں ہمیشہ رہے گا یہ بہت بڑی رسوائی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو بیشک اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یہ بہت بڑی رسوائی ہے (التوبہ : ٦٣ )

اس آیت میں بھی منافقین کی برائیوں کا بیان ہے کہ واضح دلائل سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صدق ظاہر ہوچکا ہے۔ وہ کتنے عرصے سے آیات اور معجزات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود منافقین اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کر رہے ہیں۔ منافقین اگرچہ اللہ کو مانتے تھے اور اپنے گمان میں وہ اللہ کی مخالف نہیں کرتے تھے۔ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرنا ہی درحقیقت اللہ کی مخالفت کرنا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 63