أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَنۡفِقُوۡا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا لَّنۡ يُّتَقَبَّلَ مِنۡكُمۡ‌ؕ اِنَّكُمۡ كُنۡتُمۡ قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ تم (اللہ کی راہ میں) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے، تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ تم فاسق لوگ ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ تم اللہ کی راہ میں خوشی سے خرچ کرو یا ناکوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ تم فاسق ہو ان کے خرچ کیے ہوئے کو صرف اس وجہ سے قبول نہیں کیا گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے تھے اور صرف سستی اور کاہلی کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے آتے تھے اور (اللہ کی راہ میں) صرف ناخوشی سے خرچ کرتے تھے (التوبہ : ٥٤۔ ٥٣ )

شانِ نزول

: امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے اس آیت کے شان نزول میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جد بن قیس نے کہا میں عورتوں کو دیکھ کر اپنے نفس پر ضبط نہیں کرسکتا، لیکن میں اپنے مال کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امداد کروں گا۔ اس موقع پر آیت نازل ہوئی کہ تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے، تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ تم فاسق لوگ ہو۔

کافر کی زمانہ کفر میں کی ہوئی نیکیوں پر اجر ملنے یا نہ ملنے کی تحقیق :

کافر جب دنیا میں کوئی نیک کام کرتا ہے مثلاً رشتہ داروں سے حسن سلوک کرے، کسی کے نقصان کی تلافی کرے، کسی مصیبت زدہ کی مدد کرے اور کسی بھوکے پیاسے کو کھلائے اور پلائے تو اس کو آخرت میں ان نیک کاموں کا اجر نہیں ملے گا البتہ ان نیکیوں کے عوض دنیا میں اس کو نعمتیں اور راحتیں دی جائیں گی، اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابنِ جدعان زمانہ جاہلیت میں رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتا تھا اور مسکینوں کو کھلاتا تھا، کیا یہ کام اس کو نفع دیں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (یہ کام) اس کو نفع نہیں دیں گے، اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا اے اللہ ! حساب کے دن میری خطائوں کو بخش دینا۔ (صحیح مسلم، الایمان : ٣٦٥ (٢١٤) ٥٠٧، مسند احمد ج ٦ ص ١٢٠، ٩٣) ۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کسی مومن کی نیکی میں کوئی کمی نہیں کرے گا، اس کو اس نیکی کا عوض دنیا میں بھی دے گا اور آخرت میں بھی اس کو اجر دیا جائے گا اور رہا کافر تو اس نے اللہ کے لیے جو نیکیاں دنیا میں کی ہیں ان کا تمام عوض اللہ اس کو دنیا میں دے دے گا حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اجر دیا جائے۔ (صحیح مسلم، صفات المنافقین : ٥٦، (٢٨٠٨) ٦٩٥٦۔

اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ کفر کی نیکیوں پر بھی اجر ملتا ہے :

حضرت حکیم بن حزام (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں زمانہ جاہلیت میں چند امور بطور عبادت کرتا تھا، کیا ان کا مجھ کو کچھ اجر ملے گا ؟ تو ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے پہلے جو نیکیاں کی تھیں تم نے ان کو سلامت رکھا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢٢٠، صحیح مسلم، الایمان : ١٩٤ (١٢٣) ٣١٦) ۔

امام مسلم کی دوسری روایت (١٩٥) میں ہے : وہ صدقہ کرتے تھے، غلام آزاد کرتے تھے اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو کافر کفر پر ہی مرے اس کو اس کی نیکیوں کا آخرت میں اجر نہیں ملتا اور جو کافر اسلام لے آئے اس کو زمانہ کفر کی نیکیوں کا اجر ملتا ہے۔

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کافر مسلمان ہوجائے اور مسلمان ہو کر نیک عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر پچھلی نیکی کو بھی لکھ لیتا ہے اور اس کے ہر پچھلے گناہ کو مٹا دیتا ہے اور اسلام کے بعد جو نیکی کرے گا اس کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ملے گا، اور ایک گناہ کو ایک ہی لکھا جائے گا سوا اس کے کہ اللہ اس کو معاف کر دے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١، سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٠١٣) ۔

اس پر یہ اعتراض ہے کہ بعض کافر کفر پر مرے اور ان کو نیکیوں کا پھر بھیاجر دیا گیا جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ نے ابوطالب کو کچھ نفع پہنچایا، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کرتا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کرتا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے لوگوں پر غضب ناک ہوتا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! وہ ٹخنوں تک آگ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٨٨٣، ٦٢٠٨، ٦٥٧٢، صحیح مسلم، الایمان : ٣٥٧، (٢٠٩) ٥٠٠) ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ جس کافر کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے تعلق کی وجہ سے شفاعت فرما دیں اللہ تعالیٰ اس کے عذاب میں تخفیف فرما دیتا ہے جیسا کہ ابوطالب کے معاملہ میں ہوا اور جو کافر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اظہارِ محبت کا کوئی نیک عمل کرے اللہ تعالیٰ اس کو بھی محروم نہیں کرتا۔ حدیث میں ہے :

عروہ بیان کرتے ہیں کہ ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی۔ ابولہب نے اس کو آزاد کردیا تھا، اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دودھ پلایا تھا۔ جب ابولہب مرگیا تو اس کے بعض رشتہ داروں نے اس کو بہت برے حال میں دیکھا۔ اس سے پوچھا تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟ ابولہب نے کہا تم سے جدا ہونے کے بعد مجھے کوئی خیر نہیں ملی البتہ مجھے اس انگلی سے پلایا جاتا ہے کیونکہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥١٠١)

محدث رزین کی روایت میں کچھ اضافہ ہے، عروہ نے کہا : ثوبیہ ابولہب کی باندی تھی، اس باندی نے جب ابولہب کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی بشارت دی تو اس نے اس کو آزاد کردیا۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دودھ پلایا تھا۔ جب ابولہب کفر پر مرا تو (حضرت) عباس (بن عبدالمطلب) نے اسلام لانے کے بعد اس کو خواب میں بری حالت میں دیکھا، اس سے پوچھا تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟ اس نے کہا : تمہارے بعد میں نے کسی بھلائی کو نہیں دیکھا، سوا اس کے کہ مجھے اس انگلی سے ہر پیر کی رات پلایا جاتا ہے، کیونکہ میں نے ثوبیہ کو اس انگلی کے اشارے سے آزاد کیا تھا۔ (جمع الفوائد ص ١٢٥۔ ١٢٤، رقم الحدیث : ٤١٩٨) ۔

ابوطالب اور ابولہب کے عذاب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اظہار محب کے نیک عمل کی وجہ سے تخفیف کی گئی ہے۔ لیکن اس پر یہ اعتراض ہے کہ یہ حدیثیں قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہیں جس میں کفار کے متلعق فرمایا ہے : خالدین فیھا لا یخفف عنھم العذاب ولاھم ینظرون (البقرہ : ١٦٢) ترجمہ : کفار دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے عذاب میں کمیت اور مدت کے اعتبار سے تخفیف نہیں کی جائے گی اور جو تخفیف کی گئی ہے وہ کیفیت کے اعتبار سے ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ بطریق عدل ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی اور جو تخفیف کی گئی ہے وہ بطریق فضل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس کافر نے زمانہ کفر میں کوئی نیکی کی ہو اور وہ پھر مسلمان ہوجائے یا وہ مسلمان تو نہیں ہوا لیکن اس کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شفاعت کی ہو یا اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں کوئی نیک عمل کیا ہو تو اس کی نیکیوں پر اجر ملتا ہے یا اس کے عذاب میں تخفیف کردی جاتی ہے، اور جو کافر کفر پر مرا ہو نہ اس کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شفاعت کی ہو اور نہ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں کوئی نیک عمل کیا ہو، تو اس کی زمانہ کفر کی تمام نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں۔ قرآن مجید میں ہے : وقدمنآ الیٰ ماعملوا من عمل فجعلنٰہ ھبآئً منثوراً ۔ (الفرقان : ٢٣) ترجمہ : ہم ان کے (نیک) کاموں کی طرف قصد فرمائیں گے پھر ہم انہیں فضا میں بکھرے ہوئے غبار کی باریک ذرے بنادیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل مقبول نہیں ہوتا : من عمل صالحاً من ذکر او انثٰی وھومومنٌ فلنحیینہٗ حیوۃً طیبۃ ولنجزینھم اجرھم یاحسن ماکانوا یعملون ترجمہ : جس نے کوئی نیک عمل کیا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے اور ہم ان کے کیے ہوئے نیک کاموں کا ان کو ضرور اجر عطا فرمائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور وہ صرف سستی اور کاہلی کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے آتے تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اگر وہ لوگوں کے ساتھ ہوتے تو نماز پڑھ لیتے اور اگر اکیلے ہوتے تو نماز نہ پڑھتے۔ ایسا شخص نماز پڑھنے پر کسی اجر کی امید رکھتا ہے اور نہ نماز نہ پڑھنے سے اس کو کسی عذاب کا خوف ہوتا ہے، اور منافق عبادت کی ادائیگی میں کاہلی اور سستی پیدا کرتا ہے۔ اس آیت کی مکمل تفسیر النساء : ١٤٢ میں بیان کی جا چکی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اللہ کی راہ میں صرف ناخوشی سے خرچ کرتے تھے کیونکہ وہ زکوٰۃ اور صدقات کو جرمانہ سمجھتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 53