أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ اَنَّهُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۙ وَقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰهُ سَيُؤۡتِيۡنَا اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ وَ رَسُوۡلُهٗۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر وہ اس چیز پر راضی ہوجاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول نے دی ہے، اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے، عنقریب اللہ اور اس کا رسول ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمائیں گے اور ہم اللہ ہی کی طرف رغبت کرنے والے ہیں (تو یہ ان کے لیے بہت بہتر ہوتا) ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر وہ اس چیز پر راضی ہوجاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول نے دی ہے اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے، عنقریب اللہ اور اس کا رسول ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمائیں گے اور ہم اللہ ہی کی طرف رغبت کرنے والے ہیں (تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا) (التوبہ : ٥٩) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت سے جتنا ان کو عطا فرمایا تھا، اگر یہ لوگ اسی پر راضی ہوجاتے اور خواہ وہ مال کم ہوتا، لیکن وہ اس پر خوش ہوتے اور یہ کہتے کہ ہمیں یہ مالی کافی ہے، اور عنقریب ہمیں اللہ تعالیٰ کسی اور مال غنیمت سے عطا فرمائے گا، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو دوبارہ اس مرتبہ سے زیادہ عطا فرمائیں گے اور ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے فضل و کرم کی طرف رغبت کرتے ہیں۔ تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہوتا۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص دنیا کی لذات کی وجہ سے دنیا کو طلب کرتا ہے یا دنیا برائے دنیا طلب کرتا ہے۔ تو وہ نفاق کے خطرہ میں ہے۔ اور جو شخص دنیا اس لیے طلب کرتا ہے کہ اس سے عبادات کی انجام دہی میں آسانی ہو، دین کی زیادہ اور موثر طریقہ سے تبلیغ کرسکے تو یہ مستحسن اور محمود ہے۔ نیز اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو جو کچھ عطا فرمائیں انہیں اس پر اور قضاء و قدر پر راضی رہنا چاہیے اور اپنی رضا کا زبان سے بھی اظہار کرنا چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور عبادات میں اس کا مقصود صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔

عذاب کے خوف، ثواب کے شوق اور محض رضا الٰہی کے لیے عبادت کرنے کے تین مراتب امام رازی نے نقل کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ایک جماعت سے گزرا ہوا جو اللہ کا ذکر کر رہی تھی۔ آپ (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہیں اللہ کے ذکر پر کس نے برانگیختہ کیا ؟ انہوں نے کہا : اللہ کے عذاب کے خوف نے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : تمہاری نیت درست ہے، پھر ایک اور جماعت کے پاس سے گزر ہوا جو اللہ کا ذکر کر رہی تھی، ان سے پوچھا کہ تم کو اس ذکر پر کس نے ترغیب دی ؟ انہوں نے کہا : حصولِ ثواب نے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : تمہاری نیت صحیح ہے۔ پھر ایک تیسری قوم کے پاس سے گزر ہوا جو اللہ کا ذکر کر رہی تھی۔ آپ (علیہ السلام) نے ان سے اس ذکر کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا : ہم عذاب کے خوف سے ذکر کر رہے ہیں نہ ثواب کے شوق میں ذکر کر رہے ہیں، ہم محض ذلت عبودیت کی وجہ سے اور عزت ربوبیت کی وجہ سے ذکر کر رہے ہیں اور اپنے دل کو اس کی معرفت سے مشرف کرنے کے لیے اور اپنی زبان کو اس کی صفاتِ قدسیہ کے الفاظ سے مکرم کرنے کے لیے اس کا ذکر کر رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : تم ہی حقیقت میں حق رسیدہ ہو۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٧٧، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

اس حکایت سے یہ مطلب نہیں اخذ کرنا چاہیے کہ انسان عذاب کے خوف اور ثواب کے شوق سے بالکل عبادت نہ کرے اور صرف اظہار عبودیت اور حصول رضا کے لیے عبادت کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن اور حدیث میں جو دوزخ کے عذاب کی دشت اور ہولناکی بیان کی ہے وہ عبث نہیں ہے اور قرآن اور حدیث میں جنت کی نعمتوں کا جو بکثرت ذکر فرمایا ہے وہ بھی بےفائدہ نہیں ہے اور بشمول ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب نبیوں نے دوزخ کے عذاب سے نجات اور جنت کے حصول کی دعائیں کی ہیں، اس لیے انسان کو خدا کے سامنے بےباک اور جری نہیں بننا چاہیے اور نہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مستغنی ہونا چاہیے اور جنت کی طلب کے لیے بھی عبادت کرنا چاہیے اور کبھی کبھی اس کے دل میں یہ کیفیت بھی ہونی چاہیے کہ ثواب اور عذاب سے قطع نظر کرکے وہ اللہ کی عبادت صرف اس لیے کرے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے اور بندگی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے مولیٰ کی خدمت میں لگا رہے خواہ اس کو مولیٰ کچھ دے یا نہ دے اور اس کا مطمح نظر صرف یہ ہونا چاہیے کہ اس کا مولیٰ اس سے راضی رہے، یہی صراط مستقیم ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف عطا کرنے کی نسبت اس آیت کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دینے اور عطا کرنے کی نسبت درست ہے اور اس کو شرک کہنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کی ترغیب دی ہے کہ یوں کہنا چاہیے کہ عنقریب اللہ اور اس کا رسول ہمیں اپنے فضل سے عطا کریں گے اور اللہ اور رسول کے دینے میں فرق ہے۔ اللہ بالذات عطا فرماتا ہے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی دی ہوئی طاقت، اس کے اذن اور اس کے حکم سے عطا فرماتے ہیں۔ قرآن مجید کی اور آیات میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف عطا کرنے کی نسبت کی گئی ہے : وما نقموآ الآ ان اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہٖ ۔ (التوبہ : ٧٤) ترجمہ : اور ان کو صرف یہ بات بری لگی کہ ان کو اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے غنی کردیا۔ واذ تقول للذیٓ انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ۔ (الاحزاب : ٣٧) ترجمہ : اور جب آپ اس شخص سے کہتے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے (بھی) اس پر انعام کیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 59