أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّلۡمِزُكَ فِى الصَّدَقٰتِ‌ ۚ فَاِنۡ اُعۡطُوۡا مِنۡهَا رَضُوۡا وَاِنۡ لَّمۡ يُعۡطَوۡا مِنۡهَاۤ اِذَا هُمۡ يَسۡخَطُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات کی تقسیم میں آپ پر اعتراض کرتے ہیں، اگر ان کو ان صدقات سے دے دیا جائے تو وہ راضی ہوجاتے ہیں اور اگر ان کو ان صدقات سے نہ دیا جائے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ف اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات کی تقسیم میں آپ پر اعتراض کرتے ہیں، اگر ان کو ان صدقات سے دے دیا جائے تو یہ راضی ہوجاتے ہیں اور اگر ان کو ان صدقات سے نہ دیا جائے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں (التوبہ : ٥٨) 

لمز کے معنی ہیں کسی کو طعنہ دینا اور اس کے منہ پر اس کی برائی بیان کرنا اور ہمز کے معنی ہیں کسی کے پسِ پشت اس کی برائی بیان کرنا اور اس کی غیبت کرنا اور توسعاً ان کا ایک دوسرے پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ منافقین صدقات کی تقسیم میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض کیا کرتے تھے۔ بکثرت احادیث میں ان منافقین کا ذکر کیا گیا ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تقسیم پر اعتراض کرنے والوں کے متعلق احادیث :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین سے واپسی پر جعرانہ میں تھے، اسی اثناء میں ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا درآنحالیکہ حضرت بلال (رض) کے کپڑوں میں چاندی تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے مٹھی بھر بھر کر لوگوں کو دے رہے تھے، ایک شخص نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عدل کیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں عذاب ہو اگر میں عدل نہیں کروں گا تو کون عدل کرے گا، اگر میں عدل نہ کرتا تو میں (اپنے مشن میں) ناکام اور نامراد ہوجاتا۔ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس شخص کو قتل کر دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معاذ اللہ ! کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ میں اپنے اصحاب کو قتل کرتا ہوں، یہ شخص اور اس کے اصحاب قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترتا اور یہ لوگ قرآن سے اس طرح صاف نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے۔ (صحیح مسلم، الزکوٰۃ : ١٤٢ (١٠٦٣) صحیح البخاری رقم لحدیث : ٣١٦٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٧٢، سنن کبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨٠٨٧، مسند احمد ج ٣ ص ٣٥٤۔ ٣٥٣ ) ۔

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ بنو تمیم سے ذوالخویصرہ نامی ایک شخص آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عدل کرو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے عذاب ہو اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون عدل کرے گا ! اگر میں عدل نہیں کروں گا تو میں (اپنے مشن میں) ناکام اور نامراد ہو جائوں گا۔ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہنے دو ، کیونکہ اس کے ایسے ساتھی ہیں جن کی نمازوں کے مقابلہ میں تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے، اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں تم اپنے روزوں کو حقیر گردانو گے، یہ لوگ قرآن مجید پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا، اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے اس طرح نکل جاتا ہے کہ تیر انداز تیر کے پھل کو دیکھتا ہے اور اس میں خون کا اثر نہیں ہوتا پھر پھل کی جڑ کو دیکھتا ہے تو اس میں بھی خون نہیں ہوتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو اس میں بھی کچھ نہیں ہوتا، حالانکہ تیر شکار کی بیٹ اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے، ان لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ ان میں کالا آدمی ہوگا جس کا ایک شانہ عورت کے پستان کی طرح ہوگا، یا جیسے ہلتا ہوا گوشت کا لوتھڑا۔ یہ گروہ اس وقت ظاہر ہوگا جب لوگوں میں تفرقہ ہوگا۔ حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی (رض) نے ان سے قتال کیا اور میں اس وقت حضرت علی (رض) کے ساتھ تھا۔ حضرت علی (رض) نے اس آدمی کو تلاش کرنے کا حکم دیا۔ وہ مل گیا اور اس کو حضرت علی کے پاس لایا گیا اور میں نے اس شخص کو ان ہی صفات کے ساتھ پایا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی تھیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١٦٣، صحیح مسلم، الزکوٰۃ : ١٤٨ (١٠٦٤) ٢٤١٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦٩، سنن کبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨٠٨٩) ۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں یمن سے کچھ سونا بھیجا جس میں کچھ مٹی بھی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم فرما دیا۔ اقرع بن حابس، حنظلی، عیینہ بن بدر انفزاری اور علقمہ بن علاثہ العامری، پھر بنو کلاب کے ایک شخص کو اور زیی الخیر الطائی کو، پھر بنو نبہان کے ایک شخص کو۔ حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ قریش ناراض ہوگئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نجد کے سرداروں کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ میں ان لوگوں کی تالیف قلب کروں۔ پھر ایک شخص آیا جس کی داڑھی گھنی تھی، گال ابھرے ہوئے تھے اور آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں، پیشانی اونچی تھی اور سر منڈا ہوا تھا۔ اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ سے ڈرو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر کون اللہ سے ڈرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے زمین پر امین بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے امین نہیں مانتے، پھر وہ شخص پشت پھیر کر چل دیا۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے اس کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی۔ راوی کا گمان ہے وہ حضرت خالد بن ولید تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی نسل سے ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جو قرآن پڑھے گی اور قرآن اس کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا، یہ لوگ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور کافروں کو چھوڑ دیں گے اور یہ لوگ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اگر میں ان لوگوں کو (یعنی ان کا زمانہ) پا لیتا تو قوم عاد کی طرح ان کو قتل کر ڈالتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٣٥١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٦٤، الزکوٰۃ : ١٤٤، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٦٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤١١٢، مسند احمد ج ٣ ص ٤)

جس شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تقسیم پر اعتراض کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سزا کیوں نہیں دی ؟

قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں پ جس شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا آپ نے اس کو قتل کرنے کی اجازت اس لیے نہیں دی کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں کیونکہ وہ شخص منافق تھا اور مسلمانوں کی وضع اختیار کر کے رہتا تھا آپ نے صبر کیا اور تحمل کیا اور دوسرے نو مسلموں کی تالیف کے لیے اس کو قتل نہیں فرمایا۔ اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صبر اور حلم اور مواضع تہمت سے بچنے کا ثبوت ہے۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٣ ص ٦٠٨، مطبوعہ دارالوفا بیروت ١٤١٩ ھ) جو شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب و شتم کرے یا آپ کی شان میں گستاخی کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اس پر ہم اس سے پہلے تفصیل سے لکھ چکے ہیں، اس کے لیے مطالعہ فرمائیں : الاعراف : ١٥٧، التوبہ : ١٢، شرح صحیح مسلم ج ٢ ص ١٠١٠۔ ١٠٠٠۔ 

جس شخص نے آپ کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا اسی کی نسل سے خارجی پیدا ہوئے اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ اس منافق کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو مسلمانوں کو قتل کریں گے اور کافروں کو چھوڑ دیں گے۔ علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم مالکی قرطبی المتوفی ٦٥٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : اس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیب کی خبر دیتے تھے کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو پیش گوئی کی تھی وہ حرف بہ حرف پوری ہوئی اور حضرت علی (رض) کے دورخلافت میں خارجیوں کا ظہور ہوا جو کافروں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کرتے تھے اور یہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر بہت قوی دلیل ہے۔ ان کا امام وہ شخص تھا جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ظلم اور ناانصافی کی نسبت کی، اگر اس میں ادنیٰ بصیرت ہوتی تو وہ جان لیتا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ظلم اور بےانصافی کی نسبت کرنا اسی طرح جائز نہیں ہے جس طرح اللہ کی طرف ظلم اور بےانصافی کی نسبت جائز نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا مالک ہے اور اس پر کسی کا حق نہیں ہے۔ اس لیے اللہ کے متعلق بےانصافی اور ظلم کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احکام پہنچانے والے ہیں تو جس طرح اللہ کے متعلق ظلم کا تصور نہیں کیا جاسکتا اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق بھی ظلم اور بےانصافی کا تصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر قول اور فعل وحی کے مطابق ہوتا ہے۔ ان خارجیوں کی جہالت اور گمراہی کے لیے یہ کافی ہے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان اصحاب کو کافر کہتے تھے جن کے صحت ایمان اور جنتی ہونے کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہادت دی تھی، مثلاً حضرت علی (رض) وغیرہ۔ (الفہم ج ٣ ص ١١٤)

خارجیوں کے ظہور کا سبب حضرت ابوسعید خدری (رض) کی ایک روایت میں ہے، یہ لوگ مسلمانوں کے بہترین فرقے کے خلاف خروج کریں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١٦٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٦٤، الزکوٰۃ : ١٤٨) علامہ قرطبی اس کی شرح میں لکھتے ہیں : ان لوگوں نے اس وقت خروج کیا ھا جب مسلمان دو فرقوں میں بٹ گئے تھے : ایک فرقہ حضرت معاویہ (رض) کی رائے کو درست قرار دیتا تھا اور ایک فرقہ حضرت علی (رض) کی رائے کو درست قرار دیتا تھا اور ہر فریق دوسرے سے قتال کر رہا تھا اور اس گروہ نے حضرت علی (رض) کے خلاف خروج کیا اور آپ (رض) کے ساتھ اکابر صحابہ (رض) تھے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ آپ (رض) ہی امام عادل تھے اور آپ (رض) حضرت معاویہ (رض) سے افضل تھے۔ بلکہ اس زمانہ میں ہر شخص سے افضل تھے۔ اس لیے حضرت علی (رض) کے فرقہ پر یہ صادق آتا ہے کہ وہ مسلمانوں کا سب سے بہتر فرقہ تھا، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : ان سے وہ جماعت قتال کرے گی جو مسلمانوں کی دو جماعتوں میں حق کے زیادہ قریب ہوگی۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی (رض) کی جماعت نے ان سے قتال کیا۔ لہٰذا ان ہی کا فرقہ مسلمانوں کے تمام فرقوں میں بہتر تھا۔ (المفہم ج ٣ ص ١١٧۔ ١١٦)

خارجیوں کے متعلق اہلسنت کا نظریہ نیز علامہ قرطبی خارجیوں کے متعلق لکھتے ہیں : ہمارے ائمہ نے خارجیوں کو کافر قرار دیا ہے اور بعض ائمہ نے اس میں توقف کیا ہے، لیکن اس باب کی احادیث کی روشنی میں پہلا قول درست ہے۔ اس قول کی بناء پر ان سے قتال کیا جائے گا اور ان کے اموال کو ضبط کرلیا جائے گا اور دوسرے قول کی بناء پر ان میں سے بھاگنے والوں کا پیچھا نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کے قیدیوں کو قتل کیا جائے گا اور نہ ان کا مال لوٹا جائے گا، اور یہ حکم اس وقت ہے جب یہ لوگ مسلمانوں کی مخالفت کریں اور ان کے اتحاد کی لاٹھی کو توڑیں اور بغاوت کا جھنڈا بلند کریں، لیکن ان میں سے جو شخص اپنی بدعت کو مخفی رکھے اور بغاوت کا جھنڈا بلند نہ کرے، اس کی اس بدعت کو رد کرنے اور اس کو راہ راست پر لانے کی پوری کوشش کی جائے گی اور اس سے قتال نہیں کیا جائے گا۔ (المفہم ج ٣ ص ١١٠)

خارجیوں کی علامت حضرت سہل بن حنیف کی روایت میں ہے : یہ لوگ سر منڈایا کریں گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٦٨، الزکوٰۃ : ١٥٩) علامہ قرطبی اس کی شرح میں لکھتے ہیں : ان لوگوں نے سر منڈانا اس لیے اختیار کیا کہ یہ ان کی دنیا سے بےرغبتی اور زہد کی علامت ہوجائے اور ان کی شناخت اور شعار بن جائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان کے متعلق ارشاد ہے ان کی علامت سر منڈانا ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٦٦، مسند احمد ج ٣ ص ٦٤) یہ ان کی جہالت ہے کہ جس چیز میں زہد نہیں ہے یہ اس کو زہد شمار کرتے ہیں اور یہ اللہ کے دین میں بدعت ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور خلافء راشدین کا طریقہ اس کے خلاف تھا اور کسی سے یہ مروی نہیں ہے کہ اس نے سر منڈانے کو اپنی شناخت بنا لیا ہو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بال تھے جن میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مانگ نکالتے تھے، اور کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بال کانوں کی لو تک ہوتے اور کبھی اسے سے زیادہ لمبے ہوتے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : جس کے بال ہوں وہ ان کی تکریم کرے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٦٦، مسند احمد ج ٣ ص ٦٤) اور امام مالک کے نزدیک احرام سے باہر آنے کے سوا یا کسی ضروری حاجت کے سوا سرمنڈانا مکروہ ہے۔ (المفہم ج ٣ ص ١٢٢، مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت، ١٤٧٧ ھ) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 58