أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمۡ لَمِنۡكُمۡؕ وَمَا هُمۡ مِّنۡكُمۡ وَلٰـكِنَّهُمۡ قَوۡمٌ يَّفۡرَقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ بیشک وہ ضرور تم میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں لیکن وہ تقیہ کرتے ہیں (کہ تم ان سے مشرکوں جیسا سلوک نہ کرو)

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ بیشک وہ ضرور تم میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں لیکن وہ تقیہ کرتے ہیں (کہ تم ان سے مشرکوں جیسا سلوک نہ کرو) اگر انہیں کوئی پناہ کی جگہ مل جائے یا تہہ خانے یا دخول کی کوئی بھی جگہ تو وہ اس میں تیزی سے رسیاں تڑاتے ہوئے گھس جائیں (التوبہ : ٥٧۔ ٥٦ )

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ منافقین دنیا اور آخرت کی زندگی میں نقصان اٹھانے والے ہیں اور ان کے لیے آخرت میں کوئی اجر وثواب نہیں ہے اور اس آیت سے پھر ان کے قبیح اوصاف اور برے کام بیان کرنے شروع فرمائے ہیں۔ چناچہ فرمایا کہ وہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں۔ یعنی تمہارے دین اسلام پر ہیں اور حالانکہ وہ دین اسلام پر قائم نہیں ہیں، وہ صرف اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے پوشیدہ کفر کو ظاہر کردیا تو ان کے ساتھ مشرکین جیسا سلوک ہوگا، ان کو قتل کردیا جائے گا اور ان کا مال بطور مال غنیمت کے ضبط کرلیا جائے گا۔ دوسری آیت میں ملجاء سے مراد قلعے، اور مغارات سے مراد ہے پہاڑوں میں غار اور مدخل سے مراد ہے زمین کے تہہ خانے……اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں سے اس قدر خوف زدہ ہیں کہ وہ جلد سے جلد مسلمانوں کی پہنچ اور ان کی گرفت سے نکلنا چاہتے ہیں، انہیں کوئی قلعہ مل جائے، یا کسی پہاڑ میں غار یا زمین کے نیچے کوئی تہہ خانہ تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس میں گھس جائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 56