کام کرو اجیر نہ بنو 

خاندان بنانے کے لئے صرف ضرورتوں کا خیال نہ کیا جائے ،ذمہ داری پر بنیاد مزدوروں کی ہوتی ہے،وہ ٹائم سے کام کرتے ہیں اور ڈیوٹی سے زیادہ کچھ نہیں کرتے اس لئے کہ اجیر ہیں غیر کا سمجھ کر کرتے ہیں اپنا سمجھ کر نہیں،بیوی شوہر کی اجیر نہیں اپنی ہے،غیر نہیں گھر کی مالکہ ہے،گھر دوسرے کا نہیں اپنا ہے،فیملی دوسرے کی نہیں اپنی ہے،اس کی شناخت شادی کے بعد اپنے والدین سے نہیں شوہر کے خاندان سے ہے،پھر یہ کہنا کہ میرا یہ ذمہ ہے میں اتنا ہی کرونگی،تمہارے بھائی بہن اور والدین سے مجھے کیا مطلب،میرا کام صرف تمہاری خدمت اسکے آگے مجھے کچھ پتہ نہیں،یہ اپنوں کی زبان نہیں اجیروں کی زبان ہے ،ایسی بیوی خدمت سے غیر کی دعا تو نہیں لے سکتی بلکہ اپنے شوہر کے لئے بھی درد سر بن جاتی ہے،بیوی اس کی مدد نہ کرے گی تو اسے اپنے حقوق کے کام خود پورے کرنے ہونگے،اسکا دماغ اس میں لگا رہے گا ،بیوی کی چاہیئے ایسی محبت اسکے دل میں نہ آ سکے گی اس لئے کہ وہ جانتا ہے یہ صرف مطلبی ہے،عورت کو شوہر کے گھر کامیاب ہونا ہے اور اسکے دل میں جگہ بنانی ہے تو مطلب پرستی ختم کرنی ہوگی،اجیروں کے رویہ سے توبہ کرنی ہوگی،شوہر کی رضا کو اپنی رضا بنا لینی ہوگی،اس لئے فرمایا گیا کہ شوہر کا حق اسکے لئے سب سے بڑا ہے ،یعنی اسکی رضا میں راضی رہنا ہے،جتنا بڑا خلوص آپکا ہوگا اس سے بڑا خلوص غیر کا آپکے ساتھ ہوگا،ہم اپنی ذمہ داری پر اٹک جائیں گے تو غیر بھی ذمہ سے آگے آنا نہ چاہے گا،ہم تیرا میرا کرنے لگ جائیں تو غیر کا رویہ ہمارے ساتھ ایسا ہی ہوگا،دوسرے کو جتنا اچھا دیکھنا چاہتے ہو پہلے اتنا اچھا اس کے حق میں خود بن جاؤ،شوہر کے گھروالوں کو تم غیر سمجھوگی تو وہ بھی تمہیں غیر سمجھںگے،ہمارا عمل غیر کواس طرح کے بدلے کی دعوت دیتا ہے،دوسریے اچھے بن جائیں گے پہلے خود اچھا بننا سیکھ لو