أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ يَاۡتِهِمۡ نَبَاُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ  ۙ وَقَوۡمِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاَصۡحٰبِ مَدۡيَنَ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتِ‌ ؕ اَتَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ‌‌ ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلٰـكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا ان لوگوں کے پاس ان سے پہلے لوگوں کو خبر نہیں پہنچی، نوح کی قوم کی اور عاد اور ثمود کی، اور ابراہیم کی قوم کی اور اصحاب مدین کی اور (ان کی) جن کی بستیوں کو الٹ دیا گیا تھا، ان کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر آئے تھے، سو ان پر ظلم کرنا اللہ کے شایان شان نہیں تھا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا ان لوگوں کے پاس ان سے پہلے لوگوں کی خبر نہیں پہنچی، نوح کی قوم کی اور عاد اور ثمود کی اور ابراہیم کی قوم کی اور اصحاب مدین کی اور (ان کی) جن کی بستیوں کو الٹ دیا گیا تھا، ان کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر آئے تھے، سو ان پر ظلم کرنا اللہ کے شایان شان نہیں تھا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (التوبہ : ٧٠)

سابقہ قوموں کے عذاب سے منافقوں کو نصیحت فرمانا :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : کیا ان لوگوں کے پاس ان سے پہلے لوگوں کی خبر نہیں پہنچی اور پہلے لوگوں میں اللہ تعالیٰ نے چھ قوموں کا ذکر فرمایا ہے :

(١) حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم، ان کو اللہ تعالیٰ نے طوفان میں غرق کردیا تھا۔

(٢) قوم عاد، ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہولناک آندھی کے عذاب میں ہلاک کردیا تھا۔

(٣) قوم ثمود، ان کو اللہ تعالیٰ نے گرج اور کڑک کے عذاب سے ہلاک کردیا تھا۔

(٥) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم، اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہوئی نعمتیں ان سے چھین کر ان کو ہلاک کردیا تھا اور نمرود کے دماغ میں ایک مچھر مسلط کردیا تھا۔

(٥) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم، اور یہ اصحاب مدین تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مدین بن ابراہیم کی اولاد تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے یوم الظلۃ کے عذاب سے ہلاک کردیا۔ الظلۃ کے معنی ہیں سائبان۔ ان کے پاس سائبان کی طرح ابر آیا اور اس میں سے آگ برسی اور زمین میں زلزلہ آیا جس سے سخت ہولناک آواز آئی اور پوری قوم تباہ ہوگئی۔

(٦) المؤتفکات، یہ مؤتفکہ کی جمع ہے اور لغت میں الالتکاف کا معنی ہے انقلاب، اس سے مراد ہے قوم لوط۔ ان کی زمین کو اللہ تعالیٰ نے پلٹ دیا تھا۔ زمین کا نچلا حصہ اوپر اور اوپر کا حصہ نیچے کردیا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا ان لوگوں کے پاس ان سے پہلے لوگوں کی خبر نہیں پہنچی ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے ان چھ قوموں کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ عرب والوں کے پاس ان لوگوں کی خبریں آتی رہتی تھیں۔ وہ لوگوں سے بھی ان کے متعلق خبریں سنتے رہتے تھے۔ کیونکہ جن علاقوں سے متعلق یہ خبریں تھیں وہ ان کے آس پاس تھے۔ مثلاً شام اور عراق وغیرہ اور وہ ان علاقوں کے سفر میں ان کے آثار کا مشاہدہ کرتے تھے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سو ان پر ظلم کرنا اللہ کے شایان نہیں تھا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ آیت کے اس حصہ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان قوموں پر جو عذاب نازل فرمایا وہ اللہ کی طرف سے ان پر کوئی ظلم نہیں تھا۔ کیونکہ وہ اپنے ناجائز افعال کی وجہ سے اور انبیاء (علیہ السلام) کی بےحد تکذیب کرنے کی وجہ سے اس عذاب کے مستحق ہوچکے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 70