أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ بَعۡضُهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ‌ۘ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمُنۡكَرِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمَعۡرُوۡفِ وَيَقۡبِضُوۡنَ اَيۡدِيَهُمۡ‌ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ‌ؕ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

منافق مرد اور منافق عورتیں (نفاق میں) سب ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں، انہوں نے اللہ کو بھلا دیا سو اللہ نے ان کو بھلا دیا بیشک منافقین ہی فاسق ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : منافق مرد اور منافق عورتیں (نفاق میں) سب ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں، انہوں نے اللہ کو بھلا دیا سو اللہ نے ان کو بھلا دیا بیشک منافقین ہی فاسق ہیں (التوبہ : ٦٧ )

اللہ تعالیٰ کے بھلانے کا معنی :

اس آیت سے اللہ تعالیٰ منافقین کی ایک اور قسم کی خرابیاں بیان فرما رہا ہے اور اس آیت سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ ان کی عورتیں بھی ان کے مردوں کی طرح نفاق کی خرابیوں میں ملوث ہیں۔ نیز فرمایا ہے کہ منافق برائی کا حکم دیتے ہیں۔ یعنی وہ لوگوں کو کفر کرنے اور معصیت کا حکم دیتے ہیں۔ اس سے مراد ہر قسم کی برائی اور معصیت ہے اور خصوصیت کے ساتھ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی تکذیب کا حکم دیتے ہیں اور ہر قسم کے نیک کاموں سے منع کرتے ہیں اور خصوصاً سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر ایمان لانے سے منع کرتے ہیں اور فرمایا وہ اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔ یعنی ہر خیر سے اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔

ایک قول یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ، صدقات اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔ اور اس سے یہ بھی مراد ہے کہ وہ ہر اس نیک کام کو نہیں کرتے جو فرض یا واجب ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف فرض یا واجب کے ترک پر ملامت فرماتا ہے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ وہ جہاد میں شریک نہیں ہوتے۔ نیز اس آیت میں فرمایا ہے : انہوں نے اللہ کو بھلا دیا اس پر اعتراض ہے کہ بھول پر تو مواخذہ نہیں ہوتا اور نہ اس پر ملامت کی جاتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کا فسق فرمایا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھلانے کا لازمی معنی مراد ہے اور وہ ہے اللہ کے احکام پر عمداً عمل نہ کرنا اور ان کو اسی وجہ سے فاسق فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ہے : سو اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا، اس پر یہ اعتراض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بھولنا محال ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی بھلانے سے اس کا لازمی معنی مراد ہے یعنی ان پر لطف و کرم نہ فرمانا اور ان کو عذاب میں مبتلا کرنا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 67