سیدنا امام أبو حنیفہ علیہ الرحمہ کی اہل بیت سے محبت

از: افتخار الحسن رضوی

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جب مدینہ گئے تو سیدنا امام محمد الباقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا:

فَاِنَّ لَکَ عِنْدِی حُرْمَةً کَحُرْمَةِ جَدِّکَ ﷺ فِيْ حَيَاتِهِ عَلٰی اَصْحَابِهِ.

’’آپ کی حرمت اور تعظیم و تکریم میرے اوپر اس طرح واجب ہے جس طرح صحابہ کرام پر تاجدار کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم واجب تھی‘‘۔

(المناقب للموفق المکی صفحہ 168)

فقہی مسائل میں امام اعظم علیہ الرحمہ نے سب سے زیادہ ائمہ اہل بیت سے فیض پایا۔ امام ابوحنیفہ سے پوچھا گیا کہ اس پوری روئے زمین پر جتنے اکابر آئمہ علماء کو آج تک آپ نے دیکھا سب سے زیادہ فقیہ کس کو پایا؟آپ نے جواب دیا:

مَارَاَيْتُ اَفْقَهَ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمّد الصَّادِق.

“میں نے روئے زمین پر امام جعفر محمد الصادق سے بڑھ کر کوئی فقیہ نہیں دیکھا‘‘۔

اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ رسول اکرم ﷺ کی شریعت کا مزاج ائمہ اہل بیت سے بہتر کوئی نہ سمجھ سکا۔ یہی وجہ ہےکہ امام اعظم سیدنا أبو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے کمال محبت اور ادب سے ائمہ اہل بیت سے شاگردی کا شرف حاصل کیا، آپ علیہ الرحمہ کے چند سادات مشائخ درجِ ذیل ہیں؛

امام زید بن علی (یعنی امام زین العابدین کے بیٹے اور امام حسین کے پوتے)

امام عبداللہ بن علی (یعنی امام زین العابدین کے بیٹے اور سیدنا امام حسین کے پوتے)

امام عبداللہ بن حسن المثنیٰ (امام عبداللہ الکامل)

امام حسن المثلث (امام حسن مجتبیٰ کے پڑپوتے)

امام حسن بن زید بن امام حسن مجتبیٰ

حسن بن محمد بن حنفیہ (سیدنا علی شیر خد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے)

امام جعفر بن تمام بن عباس بن عبدالمطلب (حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس کے پوتے)

آئے ہم سب اپنے امام علیہ الرحمہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اہل بیت سے محبت کریں، سادات علماء تلاش کریں، ان سے فیض حاصل کریں، ان کی خدمت کریں اور انہیں اپنے معاشرے میں عزت و شرف سے نوازیں۔

سیدوں کی برکت سے امت کو عطا ہونے والے امام احمد رضا قادری برکاتی علیہ الرحمہ انہی سادات کے متعلق فرماتے ہیں

؎ تیری نســـل پـــاک میں ہے بچــہ بچـــہ نـــور کا

تو ہے عیــنِ نــور تیــرا سب گھــــرانہ نــــور کا