أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ كَانُوۡۤا اَشَدَّ مِنۡكُمۡ قُوَّةً وَّاَكۡثَرَ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ؕ فَاسۡتَمۡتَعُوۡا بِخَلَاقِهِمۡ فَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِخَلَاقِكُمۡ كَمَا اسۡتَمۡتَعَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ بِخَلَاقِهِمۡ وَخُضۡتُمۡ كَالَّذِىۡ خَاضُوۡا‌ ؕ اُولٰۤئِكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ‌ ۚ وَاُولٰۤئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(اے منافقو ! تم) ان لوگوں کی مثل ہو جو تم سے پہلے تھے، وہ تم سے زیادہ قوت والے تھے، اور تم سے زیادہ مال دار اور اولاد والے تھے، سو انہوں نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا تو تم نے بھی اپنے حصہ سے فائدہ حاصل کرلیا۔ جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے سے فائدہ حاصل کیا تھا اور تم بھی فضول کاموں میں مشغول ہوگئے جیسا کہ وہ فضول کاموں میں مشغول ہوگئے تھے، ان لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے منافقو ! تم) ان لوگوں کی مثل ہو جو تم سے پہلے تھے، وہ تم سے زیادہ قوت والے تھے، اور تم سے زیادہ مالدار اور اولاد والے تھے، سو انہوں نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا تو تم نے بھی اپنے حصہ حصہ سے فائدہ حاصل کرلیا، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصہ سے فائدہ حاصل کیا تھا، اور تم بھی فضول کاموں میں مشغول ہوگئے جیسا کہ وہ فضول کاموں میں مشغول ہوگئے تھے، ان لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں (التوبہ : ٦٩ )

منافقین کی پہلے زمانہ کے کافروں کے ساتھ مشابہت :

اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کو ان کفار کے ساتھ تشبیہہ دی ہے جو ان سے پہلے زمانہ میں تھے۔ وہ بھی برائی کا حکم دیتے تھے اور نیکی سے منع کرتے تھے۔ اور خیرات کرنے سے اپنے ہاتھ بند رکھتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ وہ کافر ان منافقین سے زیادہ قوت والے تھے اور ان سے زیادہ مال دار اور اولاد والے تھے۔ پھر انہوں نے اس فانی زندگی سے چند روز فائدہ اٹھایا اور پھر بالآخر دائمی عذاب کی طرف لوٹ گئے۔ اور تم جبکہ ان کی بہ نسبت کمزور ہو اور تمہارے پاس دنیاوی اچھائیاں بھی ان کی بہ نسبت کم ہیں تو تمہارا دائمی عذاب کی طرف لوٹنا زیادہ لائق ہے۔

دوسری وجہ تشبیہ یہ ہے کہ منافقین نے دنیاوی عیش و آرازم اور لذتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اعراض کیا تھا۔ جس طرح ان سے پہلے زمانہ کے کافروں نے دنیاوی لذتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے عدول کیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مال اور اولاد کی کثرت اور قوت کو بیان کرکے فرمایا : انہوں نے اپنے حصے کی دنیاوی بھلائی سے فائدہ اٹھایا اسی طرح منافقو ! اب تم بھی اپنے حصہ کی دنیاوی لذتوں سے فائدہ اٹھا لو۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہوگئے۔ یعنی ان کی، کی ہوئی نیکیاں ان کے مرنے کے بعد باطل ہوگئیں۔ کیونکہ مرنے کے بعد کافر کو اس کی نیکیوں پر کوئی اجر نہیں ملتا۔ پھر فرمایا : سو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ کیونکہ ان منافقوں اور کافروں نے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور رسل عظام کا رد کرنے میں اپنے آپ کو سخت مشقت میں ڈالا لیکن اس کے عوض میں انہوں نے دنیا اور آخرت کی نیکیوں کے ضائع ہونے کے سوا اور کچھ نہیں پایا۔ اور دنیا اور آخرت میں جو عذاب ان کو ملا وہ اس پر مستزاد ہے۔

اس مثال سے مقصود یہ ہے کہ ان سے پہلے کے کافروں کو اعمال ضائع ہونے اور رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا جبکہ وہ کافر ان منافقوں سے زیادہ طاقتور تھے اور ان کے اموال اور اولاد بھی بہت زیادہ تھی۔ تو یہ منافقین اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ یہ دنیا اور آخرت کے فوائد سے محروم ہوں اور دنیا اور آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 69