أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَحۡذَرُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ سُوۡرَةٌ تُنَبِّئُهُمۡ بِمَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ‌ ؕ قُلِ اسۡتَهۡزِءُوۡا‌ ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخۡرِجٌ مَّا تَحۡذَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

منافقین اس سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر ایسی سورت نازل ہوجائے گی جو مسلمانوں کو منافقوں کے دل کی باتوں کی خبر دے دے گی آپ کہیے تم مذاق اڑاتے رہو، بیشک اللہ اس چیز کو ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈر رہے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : منافقین اس سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر ایسی سورت نازل ہوجائے گی جو مسلمانوں کو منافقوں کے دل کی باتوں کی خبر دے دے گی، آپ کہیے تم مذاق اڑاتے رہو بیشک اللہ اس چیز کو ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈر رہے ہو (التوبہ : ٦٤ )

اس آیت کے شان نزول میں تین قول ہیں :

(١) منافقین آپس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برائی بیان کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ عنقریب اللہ ہماری باتوں سے ان کو مطلع کر دے گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔

(٢) ایک منافق نے کہا : میں یہ چاہتا ہوں کہ خواہ مجھے سو کوڑے مار دئیے جائیں لیکن ہمارے متعلق کوئی ایسی چیز نہ نازل ہو جس سے ہماری رسوائی ہو۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔

(٣) ابنِ کیسان نے کہا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک سے واپس آ رہے تے تو اندھیری رات میں منافقین کی ایک جماعت راستہ میں کھڑی ہوگئی تاکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ کرے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دے دی اور یہ آیت نازل ہوئی۔ (زادالمسیر ج ٣ ص ٤٦٣، مطبوعہ الکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منافقین کا علم عطا کیا جانا :

امام ابو محمد الحسین بن مسعود الفراء البغوی المتوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ستر منافقین کا نام بنام ذکر کیا اور ان کے آباء کا نام بھی ذکر کیا۔ پھر ان کے ناموں کا ذکر مٹا دیا تاکہ مومنین پر رحم ہو۔ اور بعض مسلمان دوسرے مسلمانوں کو عار نہ دلائیں کیونکہ ان کی اولاد مومن تھی۔ ابنِ کیسان نے کہا : یہ آیت بارہ منافقوں کے متعلق نازل ہوئی جو ایک گھاٹیکے اوپر کھڑے ہوئے تھے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک سے لوٹیں تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ کریں۔ ان کے ساتھ ایک مسلمان بھی تھا جس نے اپنا حال ان سے چھپایا ہوا تھا۔ وہ اندھیری رات میں بھیس بدل کر کھڑے ہوئے تھے۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے منصوبہ کی خبر دی اور یہ کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس ان لوگوں کو بھیجیں جو ان کی سواریوں پر ضرب لگائیں۔ حضرت عمار بن یاسر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری کے آگے تھے اور حضرت حذیفہ پیچھے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کی سواریوں کے اوپر ضرب لائو۔ حضرت حذیفہ نے ان کی سواریوں کو مار کر بھگا دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حذیفہ سے پوچھا : تم نے ان کو پہچانا ؟ حضرت حذیفہ نے کہا : میں ان میں سے کسی کو نہیں پہچانا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ فلاں اور فلاں تھے حتیٰ کہ ان سب کے نام بتا دیئے۔ حضرت حذیفہ نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کسی شخص کو بھیج کر ان کو قتل کیوں نہیں کرا دیتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ عرب یہ کہیں کہ جب (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اصحاب فتح یاب ہوتے ہیں تو وہ ان کو قتل کرنا شروع کردیتے ہیں۔ بلکہ ہمارا بدلہ اللہ ان سے لے گا۔ (معالم التنزیل ج ٢ ص ٢٦١، بیروت، ١٤١٤ ھ، الجامع لاحکام القرآن جز ٨ ص ١٢٢، مطبوعہ بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : حسن بیان کرتے ہیں کہ بارہ منافقین اپنے نفاق پر جمع ہوئے۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے نفاق کی خبر دے دی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگ اس اس بات پر جمع ہوئے ہیں۔ وہ کھڑے ہو کر اعتراف کریں اور اپنے رب سے استغفار کریں۔ حتیٰ کہ میں ان کی شفاعت کروں۔ جب وہ کھڑے نہیں ہوئے تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فلاں کھڑے ہو، اے فلاں کھڑے ہو، حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سب کے پاس گئے۔ پھر وہ کہنے لگے کہ ہم اعتراف کرتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب کہہ رہے ہو حالانکہ میں پہلے تمہاری شفاعت کرنے والا تھا۔ اور اللہ قبول فرما لیتا۔ میرے پاس سے نکل جائو۔ پھر ان سب کو نکال دیا۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٩٣، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب منافقین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑاتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرتے تھے تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس بات سے ڈرتے کہ کہیں اللہ ان کے احوال کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی سے خبر نہ کر دے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ وہ کافر تھے لیکن ان کو بارہا تجربہ ہوا تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے دل کی باتوں کو وحی کے ذریعہ سے خبر دی۔ سو وہ اپنے سابقہ تجربہ کی بناء پر ڈرتے تھے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ وہ اس بات کے معترف تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے نبی ہیں لیکن وہ حسد اور عناد کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کفر کرتے تھے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ ان کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صحت کے متعلق شک تھا اور شک کرنے والا ڈرتا رہتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 64