شوہر کے اپنوں کا خیال کرو

آدمی کو جتنا غصہ اپنی مخالفت پر آتا ہے اس سے زیادہ غصہ اسکی مخالفت کا آتا ہے جسے وہ اپنے نزدیک سب سے بڑا سمجھتا ہے،رشتوں کی محبت ایک فطری چیز ہے،اور اسکا اظہار عام طور پر غیر کی مخالفت کے وقت ہوتا ہے،اس لئے شوہر کی ناراضگی سے بچنے کے لئے اس کے اپنوں کو اپنا سمجھنا ہوگا،شریعت نے کتنا ضروری کیا وہ ضرورت پر موقوف ہے اور کتنا اچھا بنانا ہے یہ اپنے خلوص پر موقوف ہے اسلام نے ضرورت پر ثابت رہ جانے کو نہیں کہا،آدمی کو یہ اجازت دی ہے کہ اچھائی میں وہ جتنا آگے نکلنا چاہے نکل جائے،حدیث پاک میں ہے اللہ فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ،اللہ بندے کی مدد میں ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہے،جب ایک عامی مسلم کی مدد میں اتنا بڑا بدلہ ہے تو شوہر کے گھر والے عامی مسلم نہیں ان کو شوہر سے رشتداری ہے،اور شوہر کی وجہ سے بیوی کے بھی رشتدار ہوئے تو ان کی خدمت میں اللہ کی رضا اور مدد کیوں نہ ملیگی؟کم از کم اس نظریہ سے اس میدان میں آگے بڑہا جائے تب کامیابی مل سکتی ہے اور اپنوں کے دلوں کی دنیا فتح کی جاسکتی ہے