أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنۡ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنۡهُمۡ فَاسۡتَـاْذَنُوۡكَ لِلۡخُرُوۡجِ فَقُلْ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِىَ اَبَدًا وَّلَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِىَ عَدُوًّا‌ ؕ اِنَّكُمۡ رَضِيۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰلـِفِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو (اے رسول مکرم ! ) اگر اللہ آپ کو ان منافقوں کے کسی گروہ کی طرف واپس لائے اور یہ آپ سے جہاد میں جانے کی اجازت طلب کریں تو آپ ان سے کہیں کہ اب تم کبھی بھی میرے ساتھ نہ جا سکو گے، اور کبھی میرے ہمراہ دشمن سے قتال نہیں کرو گے، تم پہلی بار بیٹھے رہنے پر راضی ہوئے سو اب پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو (اے رسول مکرم ! ) اگر اللہ آپ کو ان منافقوں کے کسی گروہ کی طرف واپس لائے، اور یہ آپ سے جہاد میں جانے کی اجازت طلب کریں تو آپ ان سے کہیں کہ اب تم کبھی بھی میرے ساتھ نہ جا سکو گے، اور کبھی میرے ہمراہ دشمن سے قتال نہیں کرو گے، تم پہلی بار بیٹھے رہنے پر راضی ہوئے، سو اب پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو (التوبہ : ٨٣)

غزوہ تبوک کے بعد منافقوں کو کسی غزوہ میں شرکت سے ممانعت کی توجیہ :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے برے کاموں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے خلاف ان کی سازشوں کا بیان فرمایا تھا اور یہ بتایا تھا کہ مسلمانوں کی بھلائی اس میں ہے کہ منافق ان کے ساتھ کسی غزوہ میں نہ جائیں۔ کیونکہ ان کا کسی غزوہ میں شریک ہونا انواع و اقسام کے شر اور فساد کا موجب ہوتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر آپ کو اللہ تعالیٰ منافقین کے کسی گروہ کی طرف واپس لائے، منافقین کے ایک گروہ کی قید اس لیے لگائی کہ مدینہ میں مخلص مسلمان بھی موجود تھے، ج معذور تھے اور عذر کی وجہ سے غزوہ تبوک میں نہیں جاسکے تھے۔ سو جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ واپس آئیں ور یہ منافقین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پھر کسی غزوہ میں شریک ہونے کی اجازت طلب کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیں کہ تم اب کبھی بھی کسی غزوہ میں میرے ساتھ نہیں جا سکو گے۔ یہ ارشاد ان کے نفاق کے اظہار، ان کی اہانت اور مذمت اور ان پر لعنت کرنے کے قائم مقام ہے۔ کیونکہ جب انہوں نے جھوٹے حیلے بہانے کرکے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جہاد میں نہ شریک ہونے کی اجازت طلب کی تو ان کا چھپا ہوا کفر ظاہر ہوگیا۔ کیونکہ دین اسلام میں مسلمانوں کی جہاد کی طرف رغبت تو سب کو بداہتاً معلوم ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آئندہ ان کو جہاد میں شرکت سے منع فرمانا اس لیے تھا کہ مسلمان ان کے شر اور فساد اور ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہیں اور چونکہ یہ پہلی بار یعنی غزوہ تبوک میں اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مدینہ میں معذوروں کے ساتھ بیٹھے رہیں۔ سو وہ آئندہ بھی اسی کو پسند کریں۔ گویا جب ایک بار انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد میں جانا پسند نہیں کیا تو اس کی سزا ان کو یہ دی گئی کہ اب اگر آئندہ یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جانا چاہیں گے پھر بھی ان کو اجازت نہیں ملے گی۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ کوئی شخص اس کے خلاف سازشیں کرتا ہے تو وہ آئندہ اس کو اپنا رفیق اور مصاحب بنانے سے گریز کرے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 83