أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَرِحَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ بِمَقۡعَدِهِمۡ خِلٰفَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ وَكَرِهُوۡۤا اَنۡ يُّجَاهِدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَالُوۡا لَا تَنۡفِرُوۡا فِى الۡحَـرِّؕ قُلۡ نَارُ جَهَـنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا‌ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَفۡقَهُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جن کو (جنگ میں) رسول اللہ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت دی گئی تھی وہ اللہ کی راہ میں اپنے بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور انہوں نے اس کو ناپسند کیا کہ وہ اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور انہوں نے کہا گرمی میں نہ نکلو، آپ کہیے کہ جہنم کی آگ اس سے بہت زیادہ گرم ہے اگر وہ سمجھتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن کو (جنگ میں) رسول اللہ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت دی گئی تھی وہ اللہ کی راہ میں اپنے بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور انہوں نے اس کو ناپسند کیا کہ وہ اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور انہوں نے کہا گرمی میں نہ نکلو، آپ کہیے کہ جہنم کی آگ اس سے بہت زیادہ گرم ہے اگر وہ سمجھتے (التوبہ : ٨١)

ربط آیات :

یہ آیت ان منافقین کی مذمت میں نازل ہوئی ہے جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور پیچھے بیٹھے رہ گئے تھے۔ اور ان کو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلنا ناگوار ہوا تھا اور بعض منافقین نے بعض سے کہا اس گرمی میں نہ نکلو۔ کیونکہ غزوہ تبوک کی طرف روانگی سخت گرمی میں ہوئی تھی۔ اس وقت پھل پک چکے تھے اور درختوں کا سایہ اور اپھل اچھے لگتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ ان سے کہئے کہ جہاد سے پیچھے رہنے کی وجہ سے تم جس جہنم میں جانے والے ہو، وہ اس گرمی سے بہت زیادہ گرم ہے۔

دوزخ کی گرمی :

جہنم کی گرمی اور تپش کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنو آدم جس آگ کو جلاتے ہیں، وہ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ الحدیث۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث : ٨٣٩، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٦٥، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٨٤٣ ) ۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکایا گیا۔ حتیٰ کہ وہ سرخ ہوگئی۔ پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا حتیٰ کہ وہ سفید ہوگئی۔ پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا حتیٰ کہ وہ سیاہ ہوگی۔ پس وہ سیاہ تاریک ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥٩١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٢٠ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 81