أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلۡيَـضۡحَكُوۡا قَلِيۡلاً وَّلۡيَبۡكُوۡا كَثِيۡرًا‌ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

پس ان کو چاہیے کہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ یہ ان کاموں کی سزا ہے جو وہ کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس ان کو چاہیے کہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ، یہ ان کاموں کی سزا ہے جو وہ کرتے تھے۔ (التوبہ : ٨٢)

امام رازی نے فرمایا اس آیت میں اگرچہ امر کے صیغے میں لیکن ان کا معنی خبر ہے۔ یعنی عنقریب ان منافقین کو یہ حالت حاصل ہوگی۔ یعنی دنیا کی عمر کم ہے اس لیے ان کے ہنسنے کے مواقع کم ہوں گے اور آخرت غیر متناہی ہے اور اس میں ان کو درد اور عذاب کی وجہ سے رونا پڑے گا۔ سو یہ غیر متناہی زمانہ تک روتے رہیں گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ ان کاموں کی یعنی ان کے کفر اور نفاق کی سزا ہے جو یہ دنیا میں کرتے تھے۔ (تفسیر کبیر ج ٦، ص ١١٤) ۔ حافظ ابن کثیر نے حضرت ابن عباس (رض) کی یہ روایت ذکر کی ہے کہ دنیا قلیل ہے۔ یہ منافق اس میں جتنا چاہیں، ہنس لیں اور جب یہ دنیا منقطع ہوجائے گی اور یہ اللہ عزوجل کی طرف جائیں گے تو پھر یہ روئیں گے اور یہ رونا کبھی ختم نہیں ہوگا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢، ص ٤٢٣، مطبوعہ ١٤١٨ ھ)

کم ہنسنے اور زیادہ رونے کی تلقین :

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ان چیزوں کو دیکھ رہا ہوں جن کو تم نہیں دیکھ سکتے۔ اور میں ان چیزوں کو سنتا ہوں جن کو تم نہیں سن سکتے۔ آسمان چرچرارہا ہے اور اس کو چرچرانے کا حق ہے۔ اس میں ہر چار انگشت پر ایک فرشتہ اپنی پیشانی کو اللہ کے لیے سجدہ میں رکھے ہوئے ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر تم ان چیزوں کو جان لو جن کو میں جانتا ہوں تم کم ہنسو اور روئو زیادہ اور تم بستروں پر عورتوں سے لذت لینا چھوڑ دو ۔ اور تم اللہ سے فریاد کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جائو۔ حضرت ابوذر نے کہا : کاش میں ایک درخت ہوتا جس کو کاٹ دیا جاتا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٢٢٣، مسند احمد ج ٥، ص ١٧٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٩٠، حلیتہ الاولیاء ج ٢، ص ٢٣٦، ج ٦، ص ٢٦٩، شرح السنہ رقم الحدیث : ٤١٧٢) ۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ اے لوگو ! روئو اگر تم کو رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرکے رو وء۔ کیونکہ دوزخی دوزخ میں روئیں گے حتیٰ کہ ان کے آنسو ان کے چہروں پر اس طرح بہیں گے گویا کہ وہ نہریں ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے آنسو ختم ہوجائیں گے۔ پھر ان کا خون بہنے لگے گا اور وہ خون اتنا زیادہ بہہ رہا ہوگا کہ اگر اس میں کشتی چلائی جائے تو وہ چل پڑے گی۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٩٦، مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ٤١٣٤، مجمع الزوائد ج ١٠، ص ٣٩١، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٤٦٧٣) ۔

سالم بن ابی الجعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اس شخص کے لیے خوشی ہو جس نے اپنی زبان کی حفاظت کی اور اپنے گھر میں وسعت رکھی اور اپنے گناہ پر رویا۔ (کتاب الزہد لابن المبارک رقم الحدیث : ١٢٤ ) ۔

عبداللہ تیمی نے کہا جس کو ایسا علم دیا گیا جس کی وجہ سے وہ رویا نہیں، وہ اس لائق ہے کہ اس کو نفق آور علم دیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رونے والے علماء کی تعریف کی ہے۔ وہ فرماتا ہے : بیشک اس سے پہلے جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا، جب ان پر اس قرآن کی تلاوت کی جاتی تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرجاتے اور کہتے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہمارے رب کا وعدہ ضرور پورا ہونا تھا اور وہ روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہیں اور یہ قرآن ان کے خشوع کو اور بڑھاتا ہے (بنو اسرائیل : ١٠٩۔ ١٠٧) (کتاب الزہد رقم الحدیث : ١٢٥، حلیتہ الاولیاء ج ٥، ص ٨٨)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 82