قبر میں شعلے

بعض صالحین سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی مردہ بہن کو دفن کیا تو اس کی تھیلی بے خبری میں قبر میں گر گئی جب سب لوگ اسے دفن کر کے چلے گئے تو اسے اپنی تھیلی یاد آئی چنانچہ وہ آدمی لوگوں کے چلے جانے کے بعد قبر پرپہونچا اور اسے کھودا تاکہ تھیلی نکال لے اس نے دیکھا کہ اس کی قبر میں شعلے بھڑک رہے ہیں چنانچہ اس نے قبر پر مٹی ڈالی اور انتہا ئی غمگین اور روتا ہوا ماں کے پاس آیا اور پوچھا ماں! یہ بتائو کہ میری بہن کیا کرتی تھی ؟ ماں نے پوچھا کہ تم کیوں پوچھ رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں اپنی بہن کی قبر میں آگ کے شعلے بھڑکتے دیکھا ہے، اس کی ماں رونے لگی اور کہا تیری بہن نماز میں سستی کرتی تھی اور نمازوں کو تاخیر سے پڑھتی تھی۔ (مکاشفۃ القلوب )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! نماز میں سستی کے عوض میں قبر میں آگ کے شعلوں کا عذاب دیا جائے گا جو مذکو رہ واقعہ سے پتہ چلاکہ قبر ایسی جگہ ہے جہاں کوئی رشتہ دار ہماری مدد کے لئے نہیں آئے گا لہٰذا ہمیں چاہئیے کہ ہم نماز کی پابندی بھی کریں اور سستی کے ساتھ اور بے وقت نہ پڑھیں بلکہ وقت پر اور سارے ارکان کو خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کریں۔ اللہد ہم سب کو قبر کے عذاب سے بچائے اور قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے۔

آ مین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم۔