أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ ؕ اِنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَمَاتُوۡا وَهُمۡ فٰسِقُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور جو ان میں سے مرجائے تو آپ ان میں سے کبھی بھی کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں، بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور یہ نافرمانی کی حالت میں مرے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو ان میں سے مرجائے تو آپ ان میں سے کبھی بھی کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں، بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور یہ نافرمانی کی حالت میں مرے۔ (التوبہ : ٨٤)

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی اہانت اور ان کی مذمت کرنے کا حکم دیا تھا اور اس آیت میں ان کی مزید اہانت کرنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے بھی منع فرما دیا اور اس سے بڑی اور کیا مذمت ہوگی ؟

منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت کا شان نزول :

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی فوت ہوگیا تو اس کے فرزند حضرت عبداللہ بن عبداللہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اپنی قمیص دے کر یہ فرمایا کہ اس میں اس کو کفن دیا جائے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ حضرت عمر بن الخطاب نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دامن پکڑ کر کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی نماز پڑھا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ منافق تھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے لیے استغفار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے : استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم۔ (التوبہ : ٨٠) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار استغفار کریں تب بھی اللہ ان کو نہیں بخشے گا۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں ستر بارے سے زیادہ استغفار کروں گا۔ “ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی :

ولا تصل علیٰٓ احدٍ منھم مات ابداً ولا تقم علیٰ قبرہٖ ط انھم کفروا باللہ ورسولہٖ وماتوا وھم فاسقون۔ (التوبہ : ٨٤)

ترجمہ : اور آپ ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھیں، اور نہ (کبھی) ان میں سے کسی کی قبر پر کھڑے ہوں، بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نافرمان ہونے کی حالت میں مرگئے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٦٧٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٧٤)

عبداللہ بن ابی کے نفاق کے باوجود اس کی نماز جنازہ پڑھانے کی توجیہات :

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے یقین سے کہا کہ ابن ابی منافق ہے۔ اس کا یہ یقین ابن ابی کے ظاہر احوال پر مبنی تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اس یقین پر عمل نہیں کیا کیونکہ وہ بظاہر مسلمانوں کے حکم میں تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطور استصحاب اسی ظاہری حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے بیٹے کی عزت افزائی منظور تھی۔ جو نہایت مخلص اور صالح مومن تھے۔ اور اس کی قوم کی تالیف قلوب میں مصلحت ہے۔ اور ایک شر کو دور کرنا مقصود تھا اور ابتداء میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کی دی ہوئی اذیتوں پر صبر کرتے تھے اور ان کو معاف اور درگزر کرتے تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشرکین سے قتال کا حکم دیا گیا اور جو لوگ اسلام کو ظاہر کرتے تھے، خواہ باطن میں اسلام کے مخالف ہوں۔ ان کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درگزر کرنے کا معاملہ بدستور جاری رہا۔ اور ان کو متنفر نہ کرنے اور ان کی تالیف قلوب کرنے میں مصلحت تھی۔ اسی لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا ” کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کو قتل کر ہے ہیں۔ “ اور جب مکہ فتح ہوگیا اور مشرکین اسلام میں داخل ہوگئے اور کفار بہت کم اور پست ہوگئے، تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منافقین کو ظاہر کردیں اور خاص طور پر ابن ابی کی نماز جنازہ پڑھانے کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے کی صراحتاً ممانعت نہیں کی گئی تھی۔ اس تقریر سے ابن ابی کی نماز جنازہ پڑھانے پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق جو اشکال ہے، وہ دور ہوجاتا ہے۔ علامہ خطابی نے کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ابی کے ساتھ جو حسن سلوک کیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ جس شخص کا دین کے ساتھ معمولی سا بھی تعلق ہو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر نہایت شفقت فرماتے تھے۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بیٹے کی دل جوئی کرنا چاہتے تھے، جو نیک صحابی تھے۔ اور اس کی قوم خزرج کی تالیف قلوب کرنا چاہتے تھے۔ جن کا وہ رئیس تھا۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بیٹے کی درخواست قبول نہ فرماتے اور اللہ تعالیٰ کے صراحتاً منع فرمانے سے پہلے اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار فرما دیتے تو اس کے بیٹے کی دل شکنی ہوتی اور اس کی قوم کے لیے باعث عار ہوتا۔ اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صراحتاً ممانعت کے وارد ہونے سے پہلے انتہائی مستحسن امر کو اختیار فرمایا۔ بعض محدثین نے یہ جواب دیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھائی اس میں دلیل ہے کہ اس کا ایمان صحیح تھا۔ لیکن یہ جواب صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ان آیات اور احادیث کے خلاف ہے جن میں اس کے ایمان نہ ہونے کی صراحت ہے۔ امام ابن جریر طبری نے اس قصہ میں اپنی سند کے ساتھ حضرت قتادہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری قمیص اس سے اللہ کو عذاب کو دور نہیں کرسکتی لیکن مجھے امید ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی مسلمان ہوجائیں گے۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٣٣٦، مطبوعہ لاہور، عمدۃ القاری ج ١٨، ص ٢٧٣، مطبوعہ مصر، ارشاد الساری ج ٧، ص ١٤٨، مطبوعہ مصر، فیض الباری ج ٢، ص ٤٥٢، مطبوعہ لاہور) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے امام ابن جریر طبری کی جس روایت کا حوالہ دیا ہے، اس کو امام ابن جریر کے علاوہ دیگر ائمہ نے بھی روایت کیا ہے اور متعدد مفسرین نے اس روایت کا ذکر کیا ہے : امام ابن جریر نے دو سندوں کے ساتھ اس کو قتادہ سے روایت کیا ہے : جامع البیان رقم الحدیث : ١٣٢٦١، ١٣٢٦٢، اسباب النزول للواحدی ص ٢٦٢، تفسیر خازن ج ٢، ص ٢٦٩، الدرالمنثور ج ٤، ص ٢٥٩، روح المعانی ج ١٠، ص ١٥٤، حاشتیہ الشیخ زادہ علی البیضاوی ج ٤، ص ٤٩٧، مطبوعہ بیروت، ١٤١٩ ھ)

مشرکین کے لیے استغفار کی ممانعت کے باوجود عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھانے کی توجیہات :

حافظ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھانے پر ایک اشکال یہ ہوتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے استغفار کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور یہ فرمایا کہ میں ستر بار سے زیادہ استغفار کروں گا۔ حالانکہ عبداللہ بن ابی کی وفات ٩ ھ میں ہوئی ہے اور ہجرت سے پہلے جب ابوطالب کی وفات ہوئی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک مجھے منع نہ کیا جائے، میں تمہارے لیے استغفار کرتا رہوں گا۔ اس وقت قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی :

ماکان للنبی والذین اٰمنوآ ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوآ اولی قربیٰ من بعد ما تبین لھم انھم اصحٰب الجحیم۔ (التوبہ : ١١٣)

ترجمہ : نبی اور ایمان والوں کی شان کے یہ لائق نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں، خواہ وہ ان کے قرابت دار ہوں، جب کہ ان پر یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔

تو جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت سے پہلے مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع کردیا تھا تو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے نو سال بعد عبداللہ بن ابی کے لیے استغفار کیوں کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس استغفار سے منع کیا گیا ہے جس میں حصول مغفرت اور قبولیت دعا کی توقع کی جائے جیسا کہ ابوطالب کے لیے استغفار کے معاملہ میں تھا۔ اس کے برخلاف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ابی کے لیے جو استغفار کیا تھا اس سے غرض اس کی مغفرت کا حصول نہیں تھا، بلکہ اس سے غرض یہ تھی کہ اس کے بیٹے کی دلجوئی کی جائے اور اس کی قوم کی تالیف قلوب کی جائے۔ علامہ زمحشری نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا تھا کہ ” اگر آپ ستر مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو نہیں بخشے گا “۔ زبان وبیان کے اسلوب کے مطابق ستر بار کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بکثرت استغفار کیا پھر بھی اللہ تعالیٰ ان کو نہیں معاف کرے گا۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو تمام مخلوق سے زیادہ فصیح ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ معنی کیسے مخفی رہاحتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو عدد کی خصوصیت پر محمول کیا اور فرمایا میں اکہتر مرتبہ استغفار کروں گا۔ اسی طرح دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ” آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہکریں۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ استغفار سے ان کو نفع نہیں ہوگا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کو اس پر محمول کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار دیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) استغفار کریں یا نہ کریں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر معنی مخفی نہیں تھے۔ ان آیتوں کے قریب اور متبادر معنی یہی تھے۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطور توریہ کے بعید معنی مراد لیے تاکہ امت پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نہایت شفقت اور غایب رحمت کا اظہار ہو۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا :

ومن عصانی فانک غفورٌ رحیمٌ۔ (ابراہیم : ٣٦)

ترجمہ : اور جس نے میری معصیت کی تو یقینا تو بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس آیت میں معصیت سے مراد اللہ کی معصیت یعنی بت پرستی کو مراد نہیں لیا بلکہ اپنی معصیت مراد لی۔ جبکہ سیاق وسباق سے یہاں اللہ تعالیٰ کی معصیت مراد ہے اور یہ اپنی امت پر رحمت اور شفقت کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا توریہ ہے۔ اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت پر رحمت اور شفقت کے غلبہ کی وجہ سے بعید معنی مراد لیا۔ بعض علماء نے یہ جواب دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے استغفار کرنے سے منع کیا ہے جس کا خاتمہ شرک پر ہوا ہو۔ اور یہ ممانعت اس کے لیے استغفار کرنے سے ممانعت کو مستلزم نہیں ہے جو دین اسلام کا اظہار کرتے ہوئے مرا ہو۔ اور یہ بہت اچھا جواب ہے۔ (فتح الباری ج ٨، ص ٣٣٩۔ ٣٣٨، مطبوعہ لاہور) ۔ ہمارے نزدیک بہترین جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس استغفار سے منع کیا ہے جس سے مقصود مغفرت کا حصول ہو۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن ابی کے لیے جو استغفار کیا تھا، اس سے مراد اس کے بیٹے کی دلجوئی اور اس کی قوم کے ایک ہزار آدمیوں کا اسلام تھا۔ جیسا کہ خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری قمیص اور میری نماز اس سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور نہیں کرسکتی لیکن مجھے امید ہے کہ اس وجہ سے اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اس روایت کو امام جریر طبری نے روایت کیا ہے۔

کیا ابن ابی کے حق میں مغفرت کی دعا کا قبول نہ ہونا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبوبیت کے منافی ہے ؟ اگر یہ سوال کیا جائے کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن ابی کی مغفرت کے لیے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول نہیں فرمایا، اور یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان محبوبیت کے خلاف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض دفعہ کسی لفظ سے اس کا صریح معنی مراد ہوتا ہے اور کبھی اس لفظ سے متکلم کا خاص منشاء مراد ہوتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو ابن ابی کے لیے مغفرت کی تھی اس سے مراد اس کے لیے مغفرت کا حصول نہیں تھا، بلکہ اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منشاء اس کی قوم کے لیے ایمان کا حصول تھا۔ اور جو اس دعا سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منشاء تھا وہ اللہ تعالیٰ نے پورا کردیا۔ اس کی نظیر قرآن مجید کی یہ آیت ہے :

وقل الحق من ربکم فمن شآء فلیومن ومن شآء فلیکفر انآ اعتدنا للظالمین ناراً احاط بھم سرادقھا۔ (کہف : ٢٩ )

ترجمہ : اور فرما دیجئے کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کی ہے جس کی چار دیواری ان کو (ہر طرف سے) گھیر لے گی۔

اس آیت کا منطوق صریح یہ ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے، یعنی انسان کو کفر کرنے کا بھی اختیار دیا ہے اور اس کا حکم دیا ہے لیکن اس آیت کا منشاء تہدید ہے اور کفر کرنے پر آگ کے عذاب کی وعید ہے۔ امام رازی لکھتے ہیں : یہ آیت پچھلی آیت سے اس طرح مربوط ہے کہ مال دار مشرکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہا تھا کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فقراء کو اپنے پاس سے بھگا دیں تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف التفات نہ کریں اور ان لوگوں سے یہ کہیں کہ دین حق اللہ کی طرف سے ہے۔ اگر تم نے اس کو قبول کرلیا تو تم کو نفع ہوگا اور اگر تم نے اس کو قبول نہیں کیا تو تم کو نقصان ہوگا اور یہ جو فرمایا ہے : ” جو چاہے کفر کرے “۔ تو قرآن مجید میں بہت جگہ امر کا لفظ فعل کی طلب کے لیے نہیں آیا۔ حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا : یہاں امر کا لفظ تہدید اور وعید کے لیے ہے۔ تخیر کے لیے نہیں ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٥، ص ٤٨٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٣٩٨ ھ) ۔ علامہ آلوسی، علامہ خفاجی کے حوالے سے لکھتے ہیں : یعنی اس آیت میں امر اور تخیر اپنی حقیقت پر محمول نہیں ہے بلکہ یہاں مجازاً یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان مالدار کافروں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اور کفر کا حکم دینا مراد نہیں ہے۔ بلکہ یہ ان کو رسوا کرنے سے کنایہ ہے۔ (روح المعانی ١٥، ص ٢٦٧ ) ۔ اسی طرح قرآن مجید میں ہے :

وان کنتم فی ریبٍ مما نزلنا علیٰ عبدنا فاتوا بسورۃٍ من مثلہٖ ۔ (البقرہ : ٢٣ )

ترجمہ : اگر تم کو اس کلام کے متعلق شک ہو، جس کو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کلام کی مثل کوئی سورت لے آئو۔

اس آیت کا منطوق صریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں شک کرنے والوں کو یہ حکم دیا کہ وہ قرآن مجید کی مثل ایک سورت بنا کر لائیں لیکن اس کا منشاء یہ ہے کہ وہ اس کی مثل سورت نہیں بنا سکتے اور اس سے مکمل عاجز ہیں۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں : علامہ خفاجی نے یہ کہا ہے کہ اس آیت سے مراد عرب کے بلغاء کو چیلنج دینا ہے اور ان کو قرآن مجید کی مثل سورت لانے سے عاجز کرنا ہے۔ (روح المعانی ج ١، ص ١٩٤) ۔ ہم نے دو مثالیں ذکر کی ہیں۔ ورنہ قرآن مجید میں بکثرت ایسی مثالیں ہیں، جہاں کسی لفظ سے اس کا منطوق اور مدلول صریح مراد نہیں ہوتا بلکہ اس سے کوئی خاص منشاء مراد ہوتا ہے۔ اسی طرح جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بظاہر ابن ابی کی مغفرت کے لیے دعا کی تو اس دعا سے اس کا منطوق اور مدلول صریح مراد نہیں تھا بلکہ اس لفظ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاص منشاء مراد تھا اور وہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حسن اخلاق کی وجہ سے اس کی قوم کے ایک ہزار لوگوں کو مسلمان کر دے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا قبول کرلی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ وللہ الحمد علی ذالک۔

دفن کے بعد قبر پر کھڑے ہو کر اللہ کا ذکر کرنا، اور اس سے قبر پر اذان کا استدلال :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منافقین میں سے کسی کی قبر پر کھڑے نہ ہوں۔ (التوبہ : ٨٤) ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ مبارکہ یہ تھا کہ میت کے دفن کیے جانے کے بعد اس کی قبر پر کھڑے رہتے اور اس کے لیے دعا فرماتے کہ اللہ تعالیٰ ان کو منکر نکیر کے سوالوں کے جواب میں ثابت قدم رکھے۔ حضرت عثمان بن عفان (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو اس کی قبر پر ٹھہرتے اور فرماتے : اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو۔ کیونکہ اب اس سے سوال کیا جائے گا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٢٢١) اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس دن حضرت سعد بن معاذ (رض) فوت ہوئے، اس دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ان کو قبر میں اتارا۔ جب ان کی قبر کی مٹی برابر کردی گئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سبحان اللہ کہا اور ہم نے بہت دیر تک سبحان اللہ کہا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ اکبر کہا اور ہم نے بھی اللہ اکبر کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! نے سبحان اور اللہ اکبر کس وجہ سے کہا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نیک بندے پر قبر تنگ ہوگئی تھی، حتیٰ کہ اللہ نے اس پر کشادگی کردی۔ (مسند احمد ج ١، ص ٣٦٠، احمد شاکر نے کہا ہے اس حدیث کی سند صحیح ہے، مسند احمد ج ١٢، رقم الحدیث : ١٤٨٠٩، مطبوعہ دارالحدیث القاہرہ، ١٤١٦ ھ) ۔ حافظ جلال الدین سیوطی نے اس حدیث کو متعدد اسانید کے ساتھ ذکر کیا ہے : (اللآلی المصنوعہ ج ٢، ص ٣٦٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٧ ھ) ۔ علامہ ابوالحسن علی بن محمد عراق الکنانی المتوفی ٩٦٣ ھ نے بھی اس حدیث کو دار قطنی، ابن شاہین، نسائی، حاکم، بیہقی اور طبرانی کے حوالوں سے درج کیا ہے۔ (تنزیہ الشریعہ ج ٤، ص ٣٧٢۔ ٣٧١) ۔ تاہم تسبیح اور تکبیر کا ذکر صرف مسند احمد کی روایت میں ہے اور وہ روایت صحیح ہے اور ہمارے علماء نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ دفن کے بعد قبر پر اذان دینا جائز ہے کیونکہ اذان میں بھی اللہ کا ذکر ہے اور اس سے میت سے عذاب ساقط ہوتا ہے اور توحید اور رسالت کے ذکر سے میت کو سوالات کے جوابات کی تلقین ہوتی ہے۔ تاہم اس عمل کو کبھی کبھی کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ فرض اور واجب کا معاملہ نہیں کرنا چاہیے۔

سیدہ آمنہ (رض) کے ایمان پر استدلال :

علامہ سید آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی والدہ ماجدہ کی زیارت کے لیے اجازت طلب کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اجازت دے دی گئی اور اس اجازت سے یہ استدلال کی جاتا ہے کہ سیدتنا آمنہ (رض) موحدین میں سے تھیں، نہ کہ مشرکین میں سے اور یہی میرا مختار ہے۔ اور وجہ استدلال یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کافروں کی قبر پر کھڑے ہونے منع فرمایا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی والدہ کی قبر پر قیام کی اجازت دی گئی اور یہ اس کی دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی والدہ کافروں میں سے نہیں تھیں، ورنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ (رض) کی قبر پر کھڑے ہونے کی اجازت نہ دی جاتی۔ اور ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ علم ہو کہ زمانہ جاہلیت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی والدہ توحید پر تھیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی کے ذریعہ اس کی صحت پر اطلاع دیگئی۔ اس لیے اب یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجازت طلب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی والدہ مشرکین میں سے تھیں ورنہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بغیر اجازت کے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرلیتے۔ کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجازت طلب کرنا اپنے علم کو مقرر اور ثابت کرنے کے لیے تھا۔ (روح المعانی جز ١٠، ص ١٥٥، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 84