أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ عَاهَدَ اللّٰهَ لَئِنۡ اٰتٰٮنَا مِنۡ فَضۡلِهٖ لَـنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ان میں بعض (منافقین) وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر ہم کو اللہ نے اپنے فضل سے (مال) دیا تو ہم ضرور بہ ضرور صدقہ کریں گے اور ضرور بہ ضرور نیکو کاروں میں سے ہوجائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان میں سے بعض (منافقین) وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر ہم کو اللہ نے اپنے فضل سے (مال) دیا تو ہم ضرور بہ ضرور صدقہ کریں گے اور ضرور بہ ضرور نیکوکاروں میں سے ہوجائیں گے پس جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے (مال) عطا کیا تو انہوں نے اس میں بخل کیا اور انہوں نے پیٹھ پھیرلی درآنحالیکہ وہ اعراض کرنے والے تھے سو اس کے بعد اللہ نے ان کے دلوں میں اس دن تک کے لیے نفاق ڈال دیا جس دن وہ اس کے حضور پیش ہوں گے، کیونکہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے بھی کہ وہ جھوٹ بولتے تھے کیا انہیں یہ نہیں معلوم کہ اللہ ان کے دل کے راز کو اور ان کی سرگوشیوں کو (بھی) جانتا ہے، اور بیشک اللہ تمام غیبوں کو بہت زیادہ جاننے والا ہے (التوبہ : ٧٨۔ ٧٥)

اللہ سے عہد کرکے اس کو توڑنے والا منافق :

عام کتب حدیث، کتب تفسیر اور کتب سیرت میں یہ مذکور ہے کہ قرآن مجید کی ان آیات میں جس منافق کی وعدہ خلافی کا ذکر کیا گیا ہے، اس کا نام ثعلبہ بن حاطب بن عمرو انصاری تھا۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اس کا نام ثعلبہ بن ابی حاطب تھا اور یہ واقعی منافق تھا۔ اور اول الذکر یعنی حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاری بدری صحابی تھے اور جنگ احد میں شہید ہوگئے تھے۔ پہلے ہم عام روایت کے مطابق اس واقعہ کا ذکر کریں گے۔ پھر یہ واضح کریں گے کہ یہ واقعہ ثعلبہ بن ابی حاطب کا ہے نہ کہ حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاری (رض) کا۔ امام ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی متوفی ٣٦٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے مال عا فرمائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پر افسوس ہے اے ثعلبہ کم مال ہو اور تم اس کا شکر ادا کرو یہ اس سے بہتر ہے کہ زیادہ مال ہو اور تم اس کا شکر نہ ادا کرسکو۔ وہ پھر دوبارہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کیجئے کہ اللہ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ثعلبہ ! افسوس ہے کیا تم یہ نہیں چاہتے ہو کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مثل ہو جائو ؟ اللہ کی قسم ! اگر میں سوال کروں کہ پہاڑ میرے لیے سونا اور چاندی بہائیں تو وہ ضرور بہائیں گے۔ وہ پھر آیا اور کہا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے مجھے مال دیا تو میں ہر حقدار کا حق ادا کروں گا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! ثعلبہ کو مال عطا فرما۔ اس نے بکریاں پالیں ان میں اس قدر افزائش ہوئی کہ مدینہ کی گلیاں ان سے تنگ ہونے لگیں۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھتا پھر بکریوں کی طرف چلا جاتا تھا۔ ان میں اور افزائش ہوئی تو اس نے نماز جمعہ اور باجماعت نماز پڑھنا ترک کردیا۔ اس کے پاس سے سوار گزرتے تو وہ ان سے حالات معلوم کرتا تھا حتیٰ کہ اللہ عزوجل نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل فرمائی :

خُذ من اموالھم صدقۃً تطھرھم وتزکیھم بھا۔ (التوبہ : ١٠٣)

ترجمہ : ان کے اموال سے زکوٰۃ لیجئے جو ان کو پاکیزہ کرے اور ان کے باطن کو اس کے سبب سے صاف کرے۔

تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوٰۃ کی وصول یابی پر دو شخص مقرر کیے۔ ایک شخص انصار میں سے تھا اور ایک شخص بنو سلیم سے۔ اور ان کے لیے زکوٰۃ کی مقدار اور جانوروں کی عمریں لکھ دیں اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں سے زکوٰۃ وصول کریں۔ اور ثعلبہ کے پاس جائیں اور اس سے بھی اس کے مال کی زکوٰۃ لیں۔ سو انہوں نے ایسا کیا۔ جب وہ ثعلبہ کے پاس گئے اور اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکتوب پڑھوایا، تب اس نے کہا پہلے اور لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرلو پھر میرے پاس آنا۔ جب وہ لوگوں سے فارغ ہو کر اس کے پاس گئے تو اس نے کہا خدا کی قسم ! یہ زکوٰۃ تو جزیہ کی بہن ہے۔ ان دونوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر یہ واقعہ عرض کیا۔ تب اللہ عزوجل نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیات نازل فرمائیں اور ان میں سے بعض (منافقین) وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر ہم کو اللہ نے اپنے فضل سے مال دیا تو ہم ضرور بہ ضرور صدقہ کریں گے۔ الایہ (التوبہ : ٧٧۔ ٧٥) پھر انصار کا ایک شخص جو ثعلبہ کے قریب رہتا تھا، وہ ثعلبہ کے پاس گیا، اس نے اپنے بالوں میں خاک ڈالی اور رونے لگا، اور کہنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یارسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے زکوٰۃ کو قبول نہیں فرمایا۔ حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد وہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس گیا اور کہا : اے ابوبکر ! آپ کو معلوم ہے کہ اپنی قوم میں میرا کیا مقام ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک میرا کیا مقام تھا۔ آپ مجھ سے زکوٰۃ قبول کرلیجئے۔ حضرت ابوبکر نے اس سے زکوٰۃ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ پھر حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں ان کے پاس گیا۔ انہوں نے بھی انکار کردیا۔ پھر حضرت عثمان (رض) کے دور میں ان کے پاس گیا۔ انہوں نے بھی انکار کردیا۔ پھر ثعلبہ حضرت عثمان کے دور خلافت میں مرگیا۔ (المعجم الکبیر ج ٨، ص ٢١٩۔ ٢١٨، رقم الحدیث : ٧٨٧٣، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٥، ص ٢٩٢۔ ٢٨٩، معرفتہ الصحابہ ج ١، ص ٤٩٤، رقم : ٤١٥، مطبوعہ دارالوطن بیروت، مجمع الزوائد ج ٧، ص ٣٢۔ ٣١، احیاء علوم الدین ج ٣، ص ٢٤٢۔ ٢٤١، جامع البیان جز ١٠، ص ٢٤٢۔ ٢٤١، ١٣٢٠٥، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٢، ص ١٨٤٩۔ ١٨٤٧، معالم التنزیل ج ٢، ص ٢٦٤۔ ٢٦٣، اسباب نزول القرآن ص ٢٥٩۔ ٢٥٧، تفسیر ابن کثیر ج ٢، ص ٤١٩، مطبوعہ دارالفکر، تفسیر کبیر ج ٦، ص ١٠٦۔ ١٠٥، تفسیر بیضاوی و خفاجی ج ٤ ص ٦٠٦۔ ٦٠٤، الدرالمنثور ج ٤، ص ٢٤٧۔ ٢٤٦، روح المعانی جز ١٠، ص ١٤٤۔ ١٤٣، خزائن العرفان، معارف القرآن، تفسیر عثمانی وغیرہ) ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت کتب تفسیر میں یہی لکھا ہے کہ اس منافق کا نام ثعلبہ بن حاطب تھا۔

یہ منافق حضرت ثعلبہ بن حاطب تھے یا کوئی اور شخص ؟ علامہ ابن الاثبر الجزری المتوفی ٦٣٠ ھ لکھتے ہیں : سب نے یہ قصہ اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ (اسد الغابہ ج ١، ص ٤٦٤۔ ٤٦٣) ابن الکلبی نے کہا کہ ثعلبہ بن حاطب بدری صحابی تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ اگر ثعلبہ بن حاطب وہی ہیں جن کے متعلق سورة توبہ کی مذکورہ آیات نازل ہوئیں تو یا تو ابن الکلبی کو ان کے جنگ احد میں شہید ہونے کے متعلق وہم ہوا ہے یا پھر ثعلبہ بن حاطب کے متعلق یہ قصہ صحیح نہیں ہے اور یا پھر اس قصہ میں ثعلبہ بن حاطب کے علاوہ کوئی اور شخص ہے۔ (اسد الغابہ ج ١، ص ٤٦٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت) ۔

حافظ شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق نے ثعلبہ بن حاطب انصاری کا بدری صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح ابن الکلبی نے ذکر کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ وہ غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے۔ اس کے بعد حافظ ابن حجر نے اس قصہ کا خلاصہ ذکر کیا ہے۔ پھر کہتے ہیں : ثعلبہ بن حاطب کے متعلق یہ قصہ ہو میرے گمان میں یہ صحیح نہیں ہے۔ حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاری (رض) بدری صحابی تھے اور وہ جنگ احد میں شہید ہوئے اور اس قصہ میں جس شخص کا ذکر ہے وہ حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں مرا تھا۔ اور اس کی تقویت اس بات سے ہوتی ہے کہ امام ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس سے سورة توبہ کی اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ ایک شخص تھا جس کا نام ثعلبہ بن ابی حاطب انصاری تھا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور پھر پورا قصہ بیان کیا اور کہا کہ یہ شخص ثعلبہ بن ابی حاطب تھا۔ اور جو بدری صحابی ہیں۔ ان سے متعلق اتفاق ہے کہ وہ ثعلبہ بن حاطب تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص غزوہ بدر یا حدیبیہ میں حاضر ہوا وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے متعلق فرمایا : تم جو چاہو، عمل کرو، میں نے تم کو بخش دیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٠٠٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤٩٤) پس جس بدری صحابی کی یہ شان ہو، وہ ان آیات کا کیسے مصداق ہوسکتا ہے جن میں مذکور ہے کہ قیامت تک ان کے دل میں نفاق رہے گا۔ پس ظاہر ہے کہ اس قصہ میں جس شخص کا ذکر ہے وہ حضرت ثعلبہ بن حاطب (رض) کا غیر تھا اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق وہ شخص ثعلبہ بن ابی حاطب تھا۔ (الاصابہ ج ١، ص ٥١٧۔ ٥١٦، رقم : ٩٣١۔ ٩٣٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

علامہ محمد بن یوسف الصالحی الشامی المتوفی ٩٤٢ ھ اور علامہ السید محمد بن محمد الزبیدی المتوفی ١٢٠٥ ھ نے بھی حافظ ابن حجر عسقلانی کی اس تحقیق سے اتفاق کیا ہے۔ (سبل الہدیٰ والرشاد ج ٤، ص ٩٥۔ ٩٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٤ ھ، اتحاف السادۃ المتقین ج ٨، ص ٢٢٧، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٤ ھ) ۔ میں بھی حافظ ابن حجر عسقلانی کی تحقیق پر اعتماد ہے۔

حضرت ثعلبہ بن حاطب کے بدری صحابی ہونے پر تصریحات :

امام ابن ہشام متوفی ٢١٨ ھ لکھتے ہیں : غزوہ بدر میں بنو امیہ سے جو صحابہ شریک ہوئے ان میں حضرت ثعلبہ بن حاطب بھی ہیں۔ (سیرت ابن ہشام ج ٢، ص ٣٠٠، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

امام محمد بن عمرو واقد المتوفی ٢٠٧ ھ لکھتے ہیں : بنو امیہ میں سے غزوہ بدر میں جو صحابہ شریک ہوئے، ان میں حضرت ثعلبہ بن حاطب بھی ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مقام روحاء سے واپس کردیا تھا اور ان کو مدینہ پر عامل مقرر کیا تھا اور مال غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا تھا۔ (کتاب المغازی ج ١، ص ١٥٩، مطبوعہ عالم الکتب بیروت، ١٤٠٤ ھ) ۔

امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ لکھتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ثعلبہ بن حاطب اور حضرت معتب بن الحمراء خزاعی کے درمیان مواخات کرائی تھی اور حضرت ثعلبہ بن حاطب غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے۔ (الطبقات الکبریٰ ج ٣، ص ٤٦٠، مطبوعہ دار صادر بیروت، ١٣٨٧ ھ) ۔

امام یوسف بن عبدالبرالقرطبی المالکی المتوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں : حضرت ثعلبہ بن حاطب اور حضرت معتب بن عوف بن الحمراء کے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مواخات قائم کی تھی اور حضرت ثعلبہ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے۔ (الاستیعاب ج ١، ص ٢٨٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

یہ معتمد اور مستند تصریحات ہیں جن سے واضح ہوگیا کہ حضرت ثعلبہ بن حاطب (رض) بدری صحابی ہیں اور بدریوں کے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ وہ سب نجات یافتہ اور جنتی ہیں۔ تو ان کو ایک منافق کے متعلق نازل شدہ آیات کا مصداق قرار دینا کس طرح درست ہوسکتا ہے۔

حضرت ثعلبہ بن حاطب کو منافق قرار دینے والی روایت کا شدید ضعف :

حضرت ابوامامہ باہلی کی طرف منسوب جس روایت میں حضرت ثعلبہ کو منافق قرار دیا ہے اس کو ائمہ حدیث نے بالاتفاق ضعیف قرار دیا ہے۔ علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی المتوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : امام ابن عبدالبر نے کہا ایک قول یہ ہے کہ ثعلبہ بن حاطب ہی وہ شخص ہے جس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی (منھم من عاہد اللہ۔ التوبہ : ٧٥) ۔ کیونکہ اس نے زکوٰۃ دینے سے منع کیا تھا اور ان کے متعلق یہ وارد ہے کہ وہ بدر میں حاضر ہوئے اور وہ اس آیت کے معارض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں حشر تک نفاق ڈال دیا۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت ثعلبہ بن حاطب (رض) بدری صحابی ہیں اور ان صحابہ میں سے ہیں جن کے ایمان کی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہادت دی ہے۔ جیسا کہ الممتحنہ کے شروع میں آئے گا۔ پس ان کے متعلق حضرت ابوامامہ باہلی اور حضرت ابن عباس کی طرف جو روایت منسوب ہے، وہ صحیح نہیں ہے اور امام ابن عبدالبر نے کہا کہ یہ قول صحیح نہیں ہے کہ حضرت ثعلبہ بن حاطب نے زکوٰۃ ادا کرنے سے منع کیا تھا اور ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی اور ضحاک نے کہا کہ یہ آیت چند منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں نبتل بن الحارث اور جد بن قیس اور معتب بن قشیر۔ (الجماع لاحکام القرآن جز ٨، ص ١٣٤۔ ١٣٣، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

حافظ شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : یہ روایت طبرانی نے اور بیہقی نے دلائل النبوۃ اور شعب الایمان میں اور ابن ابی حاتم اور طبری اور ابن مردویہ نے روایت کی ہے اور ان سب نے اس سند سے روایت کی ہے۔ علی بن یزید از قاسم بن عبدالرحمن از ابوامامہ اور یہ بہت زیادہ ضعیف سند ہے۔ سہیلی نے ابن اسحٰق سے روایت کیا ہے کہ حضرت ثعلبہ بدری صحابی ہیں اور ابن اسحٰق ہی سے یہ منقول ہے کہ یہ آیت ثعلبہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ پس یہ ثعلبہ بن حاطب کے نام کے دو الگ الگ شخص ہیں۔ (الکافی والشاف فی تخریج احادیث الکشاف علی تفسیر کشاف ج ٢، ص ٢٩٢، مطبوعہ من منشورات البلاغہ ایران) ۔

نیز حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : امام ابن اثیر متوفی ٦٣٠ ھ نے کہا ہے کہ ثعلبہ بن حاطب کے متعلق جو زکوٰۃ نہ دینے کی طویل حدیث مروی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ نوہجری میں فرض ہوئی ہے لیکن وہ حدیث ضعیف ہے۔ اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ (فتح الباری ج ٣، ص ٢٦٦، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ) ۔

واحدی نے نقل کیا ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری ہی وہ شخص ہے جس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی (منھم من عاھد اللہ التوبہ : ٧٥) ۔ اور انہوں نے اس پر کوئی دلیل ذکر نہیں کی اور نہ ہی یہ ذکر کیا کہ وہ بدری صحابی ہیں۔ ہاں امام ابن اسحٰق نے ان کا بدریین میں ذکر کیا ہے اور میرے نزدیک حضرت ثعلبہ بن حاطب اس شخص کے غیر ہیں جس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ کیونکہ وہ شخص حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں فوت ہوا تھا۔ اور حضرت ثعلبہ بن حاطب کے متعلق ابن الکلبی نے ذکر کیا ہے کہ وہ غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔ نیز واحدی اور اس کے شیخ ثعلبی اور المہدوی نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت حاطب بن ابی بلتعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ لیکن اس پر بھی اعتراض ہے کیونکہ حضرت حاطب بھی بدری صحابی ہیں اور مہاجرین میں سے ہیں۔ (فتح الباری ج ٦، ص ٣٥، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ) ۔

امام ابوبکر احمد بن حسن بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں : یہ حدیث مفسرین کے درمیان مشہور ہے اور وہ اس کو متعدد اسانید موصولہ کے ساتھ روایت کرتے ہیں اور وہ سب ضعیف اسانید ہیں۔ (دلائل النبوۃ ج ٥، ص ٢٩٢، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٠ ھ) ۔

امام عبدالرحیم بن الحسین العراقی المتوفی ٨٠٦ ھ لکھتے ہیں : اس حدیث کو امام طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (المغنی عن حمل الاسفارفی الاسفار مع احیاء العلوم ج ٣، ص ٢٤٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ) ۔

حافظ نور الدین الہیشمی متوفی ٨٠٧ ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں : اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں علی بن یزید الالہانی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٧، ص ٣٢، مطبوعہ دارالکتاب العربی، ١٤٠٢ ھ) ۔

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : امام طبرانی، امام ابن مردویہ، امام ابن ابی حاتم اور امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اس حدیث کو سند ضعیف کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (اسباب النزول ص ٤٦، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) ۔

نیز حافظ سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : حافظ عسقلانی نے الاصابہ میں لکھا ہے کہ ابن الکلبی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ثعلبہ ب حاطب بدری صحابی ہیں اور وہ احد میں شہید ہوئے تھے اور اس قصہ میں جس ثعلبہ کا ذکر ہے وہ حضرت عثمان کی خلافت میں مرا تھا۔ پس ظاہر ہوگیا کہ یہ دونوں الگ الگ شخص ہیں۔ (ملخصاً (ہم الاصابہ کی مفصل عبارت نقل کرچکے ہیں) ۔ (الحاوی للفتاوی ج ٢، ص ٩٧۔ ٩٦، مطبوعہ المکتبہ النوریہ الرضویہ، لائل پور پاکستان) ۔

علامہ شمس الدین عبدالرئوف مناوی متوفی ١٠٠٣ ھ لکھتے ہیں : امام بیہقی نے کہا اس حدیث کی سند پر اعتراض ہے، اور یہ مفسرین کے درمیان مشہور ہے اور الاصابہ میں اشارہ ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے اور اس قصہ کا مصداق حضرت ثعلبہ کو بنانا درست نہیں۔ (فیض القدیر ج ٨، ص ٤٣٨٢، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ) 

اس روایت کے راویں پر جرح : حافظ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا کہ طبرانی، بیہقی، ابن ابی حاتم اور طبری نے یہ حدیث اس سند کے ساتھ روایت کی ہے : علی بن یزید الالہانی از قاسم بن عبدالرحمن از ابوامامہ باہلی۔ اب ہم اسماء رجال کی کتب سے علی بن یزید الالہانی اور قاسم بن عبدالرحمن کے احوال نقل کرتے ہیں۔ جس سے اس امر پر بصیرت حاصل ہوجائے گی کہ حضرت ثعلبہ بن حاطب کی طرف اس روایت کو منسوب کرنے والے کس درجہ ساقط الاعتبار ہیں۔

حافظ جمال الدین ابوالحجاج یوسف مزی متوفی ٧٤٢ ھ اس کے متعلق لکھتے ہیں : حافظ ابوزرعہ نے کہا یہ قوی نہیں ہے۔ عبدالرحمن بن ابی حاتم نے کہا : میں نے اپنے والد سے علی بن یزید کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا یہ ضعیف الحدیث ہے۔ اس کی احادیث منکرہ ہیں، اور جب علی بن یزید قاسم سے روایت کرے تو وہ قابل غور ہیں۔ محمد بن ابراہیم الکنانی نے کہا : میں نے ابوحاتم سے پوچھا آپ اس سند کے متعلق کیا کہتے ہیں : علی بن یزید از قاسم از ابو امامہ انہوں نے کہا یہ سند قوی نہیں ہے، ضعیف ہے۔ امام بخاری نے کہا یہ منکر الحدیث، ضعیف ہے۔ امام ترمذی نے کہا حسن بن علی بن نصرالطوسی اس کو حدیث میں ضعیف کہتے تھے۔ ایک اور جگہ پر کہا بعض اہل علم نے علی بن یزید میں کلام کیا ہے اور اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ امام نسائی نے کہا یہ ثقہ نہیں ہے۔ ایک اور جگہ کہا یہ متروک الحدیث ہے۔ ابوالحسن الدار قطنی نے اس کو متروک کیا۔ حاکم ابواحمد نے کہا یہ ذاہب الحدیث ہے۔ (تہذیب الکمال فی اسماء الرجال ج ١٣، ص ٤٢٦۔ ٤٢٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ) ۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے ان اقوال کو نقل کرنے کے بعد لکھا الساجی نے کہا کہ تمام اہل علم کا اس کے ضعف پر اتفاق ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٧، ص ٣٣٤، رقم : ٤٩٩٤، التقریب رقم : ٤٨٣٣، التاریخ الکبیر رقم : ٢٤٧٠، الجرح رقم : ١١٤٢، المیزان رقم : ٥٩٦٦ ) ۔ اور قاسم بن عبدالرحمن کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : امام احمد نے کہا یہ جعفر، بشیر بن نمیر اور مطرح سے منکر احادیث روایت کرتا ہے۔ نیز کہا یہ ثقات سے منکر احادیث روایت کرتا ہے۔ ابراہیم بن جنید نے کہا، یہ مشائخ ضعفاء سے ایسی احادیث روایت کرتا ہے جو ضعیف ہیں۔ العجلی نے کہا یہ قوی نہیں ہے۔ ابو حاتم نے کہا کہ اگر یہ ثقات سے روایت کرے تو اس کو احادیث میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی ان روایات پر انکار کیا جائے گا جو یہ ضعفاء سے روایت کرتا ہے۔ غلابی نے کہا یہ منکر الحدیث ہے۔ یعقوب بن شیبہ نے ایک بار کہا، یہ ثقہ ہے۔ دوسری بار کہا اس میں اختلاف ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٨، ص ٢٨١، رقم : ٥٦٨٦، تہذیب الکمال رقم : ٤٨٠٠، التاریخ الکبیر رقم : ٧١٢، الجرح رقم : ٦٤٩ )

اس روایت پر درایتاً جرح : ابو علی بن احمد بن سعید بن حزم الاندلسی المتوفی ٤٥٦ ھ لکھتے ہیں : ایک روایت میں ہے کہ یہ آیت (التوبہ : ٧٥) حضرت ثعلبہ بن حاطب کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ یہ روایت باطل ہے کیونکہ حضرت ثعلبہ معروف بدری صحابی ہیں۔ نیز از علی بن یزید از قاسم بن عبدالرحمن از ابوامامہ روایت ہے کہ ثعلبہ بن حاطب اپنا صدقہ لے کر حضرت عمر کے پاس گئے تو انہوں نے اس کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ اس صدقہ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبول نہیں کیا اور نہ حضرت ابوبکر نے اور نہ ہی میں اس کو قبول کروں گا۔ یہ روایت بلاشک باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی زکوٰۃ قبول کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی وفات کے وقت یہ حکم دیا کہ جزیرہ عرب میں دو دین باقی نہ رہیں۔ پس ثعلبہ مسلمان ہوں گئے یا کافر۔ اگر وہ مسلمان ہیں تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ ان سے زکوٰۃ قبول نہ کرتے اور اگر وہ کافر تھے تو اس مفروض کے خلاف ہے کہ جزیرہ عرب میں دو دین باقی نہ رہیں۔ پس بلاشک یہ روایت ساقط ہوگئی اور اس روایت کی سند میں معان بن رفاعہ، قاسم بن عبدالرحمن اور علی بن یزید ہیں اور یہ سب ضعیف ہیں۔ (المحلی ج ١١، ص ٢٠٨۔ ٢٠٧، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ، ١٣٥٢ ھ) ۔ شیخ محمد عبدہٗ لکھتے ہیں : اس حدیث میں کئی اشکالات ہیں جو ان آیات کے نزول سے متعلق ہیں : (١) قرآن مجید کے سیاق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک کے سفر کے موقع کا ہے۔ اور اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ زکوٰۃ کے فرض ہونے کے بعد پیش آیا اور مشہور یہ ہے کہ زکوٰۃ دو ہجری کو فرض ہوئی تھی اور غزوہ تبوک رجب نوہجری میں ہوا تھا اور یہ واضح تعارض ہے۔ (٢) اس حدیث میں ہے کہ ثعلبہ نے پہلی بار جو زکوٰۃ نہیں دی اور اس کو جزیہ کی بہن کہا تھا وہ اس پر نادم ہوئے اور روئے اور توبہ صادقہ کی پھر بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی توبہ قبول نہیں کی اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عام سیرت کے خلاف ہے۔ جبکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منافقین کے ساتھ ان کے ظاہر حال کے اعتبار سے معاملہ فرماتے تھے۔ (٣) اس حدیث میں مذکور ہے کہ ثعلبہ نے توبہ صادقہ کرلی تھی جب کہ ان آیات کے ظاہر کا یہ معنی ہے کہ ان کی موت نفاق پر ہوگی اور وہ اپنے بخل اور زکوٰۃ سے اعراض سے توبہ نہیں کریں گے حالانکہ اس حدیث میں صراحت ہے کہ وہ بخل سے توبہ کرچکے تھے۔ اور باربار زکوٰۃ پیش کرتے تھے۔ (٤) نیز اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے ان کی زکوٰۃ کو قبول نہیں کیا اور ظاہر شریعت پر عمل نہیں کیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کفر، نفاق اور معصیت سے توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ اور یہ ایسی چیز ہے کہ اس کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں اور اسلام میں کوئی نظیر نہیں ہے۔ (٥) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں حتیٰ کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی شہادت دیں اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ الحدیث۔ (صحیح البخاری : ٢٥ ) ۔ اس حدیث کا تقاض یہ ہے کہ جب ثعلبہ نے زکوٰۃ نہیں دی اور اس کو جزیہ کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے قتال کرتے نہ یہ کہ بعد میں جب وہ نادم ہو کر زکوٰۃ دینے آتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی زکوٰۃ کو رد کردیتے۔ سو اس حدیث میں صرف حضرت ثعلبہ پر افتراء نہیں ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی افتراء ہے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر بھی افتراء ہے۔ کیونکہ اس روایت کے مطابق انہوں نے بھی اس سے زکوٰۃ قبول نہیں کی۔ (المنارج ١٠، ص ٥٦١، موضحاً و مزید ١، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت)

اس روایت کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مزاج کے خلاف ہونا :

یہ روایت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت اور مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ ابوسفیان نے متعدد بار مدینہ پر حملہ کیا لیکن جب وہ اسلام لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا اسلام قبول کرلیا۔ وحشی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے محبوب چچا حضرت حمزہ (رض) کو قتل کیا لیکن جب وہ اسلام لانے کے لیے آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا اسلام قبول کرلیا۔ ہند نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا کا کلیجہ دانتوں سے چبایا اس کا اسلام قبول کرلیا۔ عمیر بن وہب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کے ارادہ سے مدینہ آئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا اسلام قبول کرلیا۔ صفوان بن امیہ عمیر کو بھیجنے والے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا اسلام قبول کرلیا اور ایسی بہت سی مثالیں ہیں تو اگر ثعلبہ بن حاطب نے ایک بار زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، پھر بعد میں اس پر توبہ کرلی اور سخت نادم ہوا تو پھر یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی توبہ قبول نہ کرتے اور اس سے زکوٰۃ نہ لیتے۔ اس مسئلہ پر قیاس کرنے کے لیے ہم ایک اور حدیث پیش کر رہے ہیں : مصعب بن سعد اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار شخصوں اور دو عورتوں کے سوا سب کے لیے امن کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا ان کو قتل کردو خواہ تم ان کو کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا پائو۔ وہ چار شخص یہ تھے۔ عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ اور عبداللہ بن سعد بن ابی السرح، رہا عبداللہ بن خطل۔ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا پایا گیا۔ حضرت سعید بن حریث اور حضرت عمار بن یاسر نے اس کو پکڑا اور حضرت سعید نے حضرت عمار پر سبقت کرکے اس کو قتل کر ڈالا اور رہا مقیس بن صبابہ تو مسلمانوں نے اس کو بازار میں پکڑ کر قتل کردیا اور رہا عکرمہ تو وہ سمندر میں کشتی میں سوار ہوا اور تندو تیز آندھیوں کی وجہ سے وہ کشتی طوفان میں پھنس گئی، پھر کشتی والوں نے کہا اب اخلاص کے ساتھ اللہ سے دعا کرو۔ تمہارے خود ساختہ معبود یہاں تمہارے کسی کام نہیں آسکتے۔ تب عکرمہ نے دل سے کہا اللہ کی قسم ! اگر سمندر میں اخلاص کے سوا کوئی چیز نجات نہیں دے سکتی تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی چیز نجات نہیں دے سکتی۔ اے اللہ ! میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے اس طوفان سیمجھے عافیت میں رکھا تو میں سیدھا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا اور میں ان کو ضرور معاف کرنے والا اور کریم پائوں گا۔ پس وہ حاضر ہوئے اور اسلام لے آئے۔ اور رہے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تو وہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پس چھپ گئے تھے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو عام بیعت کے لیے بلایا تو حضرت عثمان نے ان کو لا کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا کردیا۔ اور کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عبداللہ کو بیعت کرلیجئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار سر اٹھا کر دیکھا اور ہر بار انکار کیا۔ پھر تین مرتبہ کے بعد اس کو بیعت کرلیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : کیا تم میں کوئی سمجھ دار شخص نہیں تھا جو اس کو قتل کردیتا جب اس نے یہ دیکھا کہ میں اس کو بیعت کرنے سے ہاتھ کھینچ رہا ہوں ! صحابہ نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں کیا پتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں کیا ہے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں آنکھ سے اشارہ کردیتے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نبی کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس کی خیانت کرنے والی آنکھ ہو۔ (سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٠٧٨، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٦٨٣) ۔ غور فرمائیے، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرما دیا تھا، اس کو قتل کردیا جائے خواہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لپٹا ہوا ہو لیکن وہ بھی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اسلام لانے کے لیے حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بیعت کرلیا۔ اب اگر بالفرض ثعلبہ بن حاطب نے پہلی بار زکوٰۃ نہیں دی اور اس کو جزیہ کی بہن کہا تو وہ زیادہ سے زیادہ اس جرم کی بناء پر قتل کا مستحق تھا لیکن جب وہ اس پر نادم ہوا اور توبہ کرکے روتا ہوا زکوٰۃ دینے کے لیے حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مزاج اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کا تقاضا یہی تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی توبہ قبول کرلیتے اور اس سے زکوٰۃ لے لیتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہیں زیادہ جرائم کے مرتکب اور معاصی میں ملوث لوگوں کو معاف فرما دیا تھا۔ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے متعلق ستر مرتبہ بھی استغفار کریں تو میں نہیں بخشوں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے علم ہوتا کہ ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرنے سے اللہ اس کو بخش دے گا تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ اس کے لیے استغفار کرتا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ١٣٦٦) اور کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ جب ماعز نے زنا کرلیا تو ان کے دوست ہزال نے انکو مشورہ دیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جا کر یہ بتائیں۔ اور جب ماعز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے چار مرتبہ (زنا کا) اقرار کرایا پھر ان کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اور ہزال سے فرمایا : اگر تم اس پر پردہ رکھ لیتے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوتا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٧٧، ٤٣٧٨) اور اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ ثعلبہ نے اپنے بالوں میں خاک ڈالی اور روتا ہوا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کہتا ہو ان زکوٰۃ لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے زکوٰۃ قبول نہیں فرمائی۔ ایسا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مزاج نہ تھا۔ 

سورۃ التوبہ کی ان آیات کا صحیح مصداق :

صحیح بات یہ ہے کہ کچھ منافقوں نے یہ قسم کھائی تھی کہ اگر اللہ نے انہیں مال دیا تو وہ ضرور زکوٰۃ ادا کریں گے۔ پھر جب اللہ تالیٰ نے انہیں مال دیا تو انہوں نے بخل کیا اور زکوٰۃ نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی سزا میں ان کے دلوں میں تاحیات نفاق کو پختہ کردیا۔ وہ منافق کون تھے ؟ امام ابن مردویہ کی تفسیر کے مطابق جو حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ وہ ثعلبہ بن ابی حاطب تھے جیسا کہ حافظ عسقلانی کے حوالے سے گزر چکا ہے۔ اور امام ابن جوزی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے (دوسری روایت میں) فرمایا : وہ بنو عمرو بن عوف کا ایک شخص تھا۔ اس کا شام میں مال تھا۔ ایک بار اس مال کو پہنچنے میں دیر ہوگئی اور اس نے بہت تنگی اٹھائی۔ تب اس نے قسم کھائی کہ اگر اللہ نے اپنے فضل سے اس کو وہ مال عطا کردیا تو وہ ضرور صدقہ کرے گا اور نماز پڑھے گا۔ پھر جب اس کے پاس اس کا مال آگیا تو اس نے بخل کیا اور اپنی قسم پوری نہیں کی۔ ابن السائب نے کہا اس شخص کا نام حاطب بی ابی بلتعہ تھا۔ امام رازی نے بھی اس روایت کو اختیار کیا ہے۔ امام ابن جوزی نے ضحاک کی ایک اور روایت ذکر کی ہے کہ نبتل بن الحارث، جد بن قیس، ثعلبہ بن حاطب اور معتب بن قشیر نے یہ قسم کھائی تھی کہ اگر اللہ نے ہمیں مال دیا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور جب اللہ نے اپنے فضل سے انہیں مال دیا تو انہوں نے اس میں بخل کیا۔ (ہماری تحقیق کے مطابق اس روایت میں ثعلبہ بن حاطب کا شمار درست نہیں ہے یا پھر ہوسکتا ہے کہ وہ ثعلبہ بن ابی حاطب ہو) ۔ (زاد المسیر ج ٣، ص ٤٧٤، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

اس روایت کی تحقیق میں حرف آخر :

ہمارے زمانہ میں اردو کی عام دستیاب تفسیروں میں بھی حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاری (رض) کی طرف اس واقعہ کو منسوب کیا گیا ہے اور جو خطباء اور واعظین ان اردو کی تفاسیر پر اعتماد کرتے ہیں، وہ ایک عظیم بدری صحابی پر افتراء باندھتے ہیں۔ سو میں نے یہ چاہا کہ اس عظیم بدری صحابی سے اس افتراء کو دور کروں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی مغفرت فرمائے اور ہم کو تحقیق کرنے کی توفیق دے اور سنی سنائی اور بےسند باتوں سے ہم کو اجتناب کی توفیق عطا فرمائے۔ میں نے ان آیات کی تفسیر میں حضرت ثعلبہ (رض) کی نفاق اور بخل سے براءت میں بہت مفصل گفتگو کی ہے تاکہ حضرت ثعلبہ کی براءت ہر اعتبار سے مکمل ہوجائے اور اس کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 75