أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوۡا ؕ وَلَقَدۡ قَالُوۡا كَلِمَةَ الۡـكُفۡرِ وَكَفَرُوۡا بَعۡدَ اِسۡلَامِهِمۡ وَهَمُّوۡا بِمَا لَمۡ يَنَالُوۡا‌ ۚ وَمَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰٮهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ ۚ فَاِنۡ يَّتُوۡبُوۡا يَكُ خَيۡرًا لَّهُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ يَّتَوَلَّوۡا يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا ۙ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ‌ ۚ وَمَا لَهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ‏ ۞

ترجمہ:

وہ (منافق) اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حالانکہ بیشک انہوں نے کلمہ کفریہ کہا ہے اور وہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے اور انہوں نے اس کام کا قصد کیا جو ان کو حاصل نہ ہوسکا، اور ان کو صرف یہ ناگوار گزرا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا، پس اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا، اور اگر وہ اعراض کریں تو اللہ دنیا اور آخرت میں ان کو دردناک عذاب دے گا، اور ان کے لیے زمین میں کوئی کارساز اور مددگار نہیں ہوگا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ (منافق) اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا حالانکہ بیشک انہوں نے کلمہ کفریہ کہا ہے اور وہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے اور انہوں نے اس کام کا قصد کیا جو ان کو حاصل نہ ہوسکا اور ان کو صرف یہ ناگوار گزرا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا پس اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا اور اگر وہ اعراض کریں تو اللہ دنیا اور آخرت میں ان کو دردناک عذاب دے گا اور ان کے لیے زمین میں کوئی کارساز اور مددگار نہیں ہوگا (التوبہ : ٧٤)

منافقین نے جو کلمہ کفر کہا تھا اس کے متعلق مفسرین کے اقوال :

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ منافقین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے خلاف توہین پر مبنی کلمہ کہا جس کو اللہ تعالیٰ نے کلمہ کفریہ قرار دیا۔ وہ کلمہ کفریہ کیا تھا اس کے متعلق مفسرین کے کئی اقوال ہیں :

(١) امام ابوجعفر بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : عروہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت جلاس بن سوید بن الصامت کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ اس نے کہا تھا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو پیغام لے کر آئے ہیں اگر وہ پیغام برحق ہے تو ہم لوگ گدھے سے بھی بدتر ہیں۔ یہ سن کر اس کی بیوی کے بیٹے نے کہا : اے اللہ کے دشمن ! تو نے جو کچھ کہا ہے میں ضرور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر پہنچائوں گا۔ اگر میں نے ایسا نہیں کیا تو ضرور مجھ پر کوئی آفت آپڑے گی، ورنہ تیری گرفت کی جائے گی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جلاس کو بلا کر پوچھا : اے جلاس ! کیا تم نے ایسا ایسا کہا تھا، تو جلاس نے قسم کھالی کہ اس نے یہ نہیں کہا تھا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی : وہ منافق اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا۔ حالانکہ بیشک انہوں نے کلمہ کفریہ کہا ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٣١٩٠) ۔ امام ابن ابی حاتم نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور لکھا ہے کہ پھر جلاس نے توبہ کرلی تھی اور توبہ کے بعد اس نے اسلام میں نیک کام کیے۔

(٢) نیز اما عبدالرحمن بن محمد بن ادریس الرازی ابن ابی حاتم المتوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : قتادہ اس آیت کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں : دو آدمیوں نے آپس میں قتال کیا۔ ان میں سے ایک جہینہ میں سے تھا اور دوسرا غفار سے تھا۔ اور جہینہ انصار کے حلیف تھے۔ غفاری جہنی پر غالب آگیا۔ تب عبداللہ بن ابی نے ندا کی اے بنو اوس ! اپنے بھائی کی مدد کرو اور کہا خدا کی قسم ہماری اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مثال صرف ایسی ہے جیسا کہ کسی نے کہا اپنے کتے کو خوب موٹا کرو۔ وہ تمہیں کھاجائے گا اور کہا اگر ہم مدینہ کی طرف واپس آگئے تو ضرور عزت والے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ ایک مسلمان شخص نے یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچا دی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا، اور اس سے پوچھا : اس نے قسم کھالی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٠١١٠) ۔

(٣) امام ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ تیسری یہ روایت ذکر کی ہے : یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کسی گھاٹی سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سواری سے گرا دینے کا ارادہ کیا تھا۔ جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے وقت تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ حضرت حذیفہ (رض) نے ان کے منصوبہ کو سن لیا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری کے پیچھے تھے اور حضرت عمار بن یاسر سواری کے آگے تھے۔ حضرت حذیفہ نے اونٹوں کے چلنے کی آواز سنی۔ حضرت حذیفہ نے کہا اے اللہ کے دشمنو ! پرے ہٹو۔ انہیں ایک طرف ہٹایا گیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزر گئے۔ حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کے وقت اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئے۔ صبح کے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سب کو بلوایا اور فرمایا : تم نے اس طرح کا ارادہ کیا تھا ؟ انہوں نے اللہ کی قسم کھائی کہ انہوں نے اس طرح نہیں کیا تھا اور نہ اس کا ارادہ کیا تھا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٠١١١) ۔ اس آیت کے شان نزول میں پہلی دو حدیثیں جو بیان کی گئی ہیں، ان پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ پہلی حدیث میں صرف جلاس کے کلمہ کفر کے کہنے کا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں صرف عبداللہ بن ابی کے کلمہ کفر کہنے کا ذکر ہے۔ جبکہ قرآن مجید میں جمع کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے کہ منافقوں نے کلمہ کفر کہا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ باقی منافقین بھی اس کلمہ کفر کے ساتھ متفق تھے اس لیے قرآن مجید نے جمع کے صیغہ کے ساتھ فرمایا : انہوں نے کلمہ کفر کہا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ کلمہ کفریہ کے متعلق لکھتے ہیں : ایک اور روایت میں ہے کہ تبوک کے سفر میں ایک جگہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی گم ہوگئی۔ مسلمان اس کو تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ اس پر منافقوں کے ایک گروہ نے اپنی مجلس میں بیٹھ کر خوب مذاق اڑایا اور آپس میں کہا ” یہ حضرت آسمان کی خبریں تو خوب سناتے ہیں مگر ان کو اپنی اونٹنی کی کچھ خبر نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہے “۔ (تفہیم القرآن ج ٢، ص ٢١٦) ۔ اس روایت کا ذکر ان تفسیروں میں ان الفاظ سے ہے : مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ایک منافق نے کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ فلاں کی اونٹنی فلاں فلاں وادی میں فلاں فلاں دن تھی۔ ان کو غیب کی کیا خبر۔ یہ روایت التوبہ : ٦٥ کی تفسیر میں امام ابن جریر، امام ابن ابی حاتم اور امام ابن جوزی نے ذکر کی ہے۔ (جامع البیان جز ١٠ ص ٢٢١، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦، ص ١٨٣٠، زادالمسیر ج ٣، ص ٤٦٥ ) ۔ اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کے انکار کرنے کو یا اس پر اعتراض کرنے کو اللہ تعالیٰ نے کفر قرار دیا ہے اور یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کا انکار اور اس پر اعتراض منافقین کا طریقہ ہے۔

منافق جس مقصد کو حاصل نہ کرسکے اس کے متعلق مفسرین کے اقوال :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور انہوں نے اس کام کا قصد کیا جو ان کو حاصل نہ ہوسکا۔ امام ابن حاتم نے اس آیت کا ایک محمل یہ بیان کیا کہ عروہ نے کہا کہ جلاس نے ایک گھوڑا خریدا تھا تاکہ اس پر بیٹھ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرے۔ مگر وہ اپنے اس مقصد میں ناکام رہا (رقم الحدیث : ١٠٠٠٠) ۔ دوسرا محمل یہ بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اسود نام کے ایک منافق نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا اور وہ ناکام رہا۔ (جامع البیان : ١٣١٩٧، ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٠٠٠٢) ۔ تیسرا محمل یہ ہے کہ مجاہد نے کہا کہ جب جلاس نے کہا تھا کہ اگر (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ کہتے ہیں وہ برحق ہے تو ہم گدھے سے بھی بدتر ہیں، اس وقت ایک مسلمان شخص نے کہا : بیشک وہ حق کہتے ہیں اور تم ضرور گدھے سے بدتر ہو تو اس منافق نے اس مسلمان شخص کو قتل کرنے کا ارادہ کیا مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ (رقم الحدیث : ١٠٠٠٣، جامع الباین رقم الحدیث : ١٣١٩٢) ۔ چوتھا محمل یہ ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن ابی کے سر پر تاج رکھنے کا ارادہ کیا تھا مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ (رقم الحدیث : ١٠٠٠٤) ۔ مفسرین نے اس کا یہ معنی بھی بیان کیا ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی کے موقع پر منافقین نے یہ ارادہ کیا تھا کہ رات کے اندھیرے میں کسی بلند گھاٹی سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری سے نیچے گرا دیں گے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہلاک ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بروقت خبردار کردیا اور منافقین اپنی سازش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

منافقین کو غنی کرنے کی تفصیل :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور ان کو صرف یہ ناگوار گزرا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا۔ امام ابن ابی حاتم اپنی سند کے ساتھ اس کی تفسیر میں عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ بنو عدی بن کعب کے ایک شخص نے ایک انصاری کو قتل کردیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی دیت بارہ ہزاردرہم ادا کی۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی ان کو دیت کی یہ رقم لینی ناگوار ہوئی۔ (رقم الحدیث : ١٠٤٠٠، جامع البیان رقم الحدیث : ١٣٢٠١) اور عروہ نے اس کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ جلاس پر قرض تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا قرض ادا کردیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (رقم الحدیث : ١٠٤٠٢) ۔

جلاس بن سوید کی توبہ :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پس اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ امام ابو حاتم نے اس کی تفسیر میں عروہ سے روایت کیا ہے کہ جب جلاس نے وہ کفریہ کلمہ کہا کہ اگر (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برحق ہیں تو ہم گدھے سے بھی بدتر ہیں، تو ایک صحابی عمیر بن سعد نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتادیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جلاس کو بلا کر پوچھا تو اس نے انکار کیا اور قسم کھالی کہ اس نے یہ کلمہ کفر نہیں کہا۔ لیکن جب بعد میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا تو جلاس نے اعتراف کیا کہ اس نے یہ کلمہ کفر کہا تھا۔ اور اپنے اس قول سے صدق دل سے توبہ کرلی اور پھر نیک عمل کیے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمیر سے فرمایا : تمہارے رب نے تمہاری تصدیق کردی۔ (رقم الحدیث : ١٠٤٠٣، جامع البیان رقم الحدیث : ١٣١٩١)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 74