أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ جَاهِدِ الۡـكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡ‌ؕ وَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ۞

ترجمہ:

اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے (التوبہ : ٧٣)

منافقوں کے خلاف جہاد کی توجیہ :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی قبیح صفات بیان کیں اور مسلمانوں کے خلاف ان کی سازشوں کا بیان فرمایا اور آخرت میں ان کی سزا کا ذکر فرمایا پھر اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی نیک صفات اور آخرت میں ان کے اجر وثواب کا ذکر فرمایا۔ اب پھر دوبارہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور کافروں کا ذکر فرمایا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو کفار اور منافقین سے جہاد کرنے اور ان کے ساتھ سختی کرنے کا حکم دیا۔

اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ منافق اپنے کفر کو خفیہ رکھتا ہے اور زبان سے کفر کا انکار کرتا ہے اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا معاملہ کیا جاتا ہے اور منافق کا قصہ تو الگ رہا کسی شخص کے بھی باطن پر حکم نہیں لگایا جاتا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں صرف ظاہر پر حکم لگاتا ہوں اور باطن کا حال اللہ کے سپرد ہے۔ (احیاء علوم الدین ج ٤ ص ١٨٦، مطبوعہ ١٤١٩ ھ) ۔

نیز امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ تبوک سے واپس آئے تو اسی (٨٠) سے زیادہ لوگوں نے قسم کھا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہ جانے کے متعلق عذر پیش کیے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظاہر کا اعتبار کرکے ان کے عذر قبول کیے اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧١٩) ۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ منافقین کے ساتھ ان کے ظاہر کے مطابق معاملہ کیا جاتا ہے تو پھر ان کے خلاف جہاد کرنے کی کیا توجیہ ہوگی ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجئے اور ان دونوں سے الگ الگ نوعیت کا جہاد مطلوب ہے۔ کافروں کے ساتھ تلوار کے ساتھ جہاد مطلوب ہے اور منافقوں کے ساتھ جہاد کا معنی یہ ہے کہ ان کے سامنے اسلام کی حقانیت پر دلائل پیش کیے جائیں اور اب ان کے ساتھ نرم رویہ کو ترک کردیا جائے اور ان کو زجروتوبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ کی جائے۔

اس حدیث کی تحقیق کہ میں صرف ظاہر پر حکم کرتا ہوں (الحدیث): ہم نے مذکورہ الصدر پیراگراف میں احیاء العلوم کے حواہ سے یہ حدیث ذکر کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں صرف ظاہر پر حکم کرتا ہوں اور باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔

قاضی شوکانی متوفی ١٢٥٠ ھ نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے : اہل اصول اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں اور کی کوئی اصل نہیں ہے۔ (الفوائد المجموعہ فی الاحادیث الموضوعہ ص ٢٠٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ) ۔ اور

حافظ زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی المتوفی ٨٠٦ ھ نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے : مجھے اس حدیث کی اصل نہیں ملی اور جب مزی سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا۔ (المغنی عن حمل الاسفار مع احیاء العلوم ج ٤ ص ١٨٦) ۔

میں کہتا ہوں کہ متعدد احادیث سے اس حدیث کا معنی ثابت ہے : حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں حتیٰ کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ جب وہ یہ کرلیں گے تو مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیں گے۔ ماسوا حق اسلام کے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢ ) ۔

نیز حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چند لوگوں کے مناقشہ کی آواز دروازہ کے باہر سے سنی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس گئے اور فرمایا : میں محض بشر ہوں اور میرے پاس ایک فریق (اپنا مقدمہ لے کر) آتا ہے۔ پو ہوسکتا ہے کہ بعض فریق بعض سے زیادہ چرب زبان ہو اور میں یہ گمان کروں کہ وہ سچا ہے اور میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ پس (اگر بالفرض) میں اس کو کسی مسلمان کا حق دے دوں تو وہ محض آگ کا ٹکڑا ہے۔ وہ خواہ اس کو لے یا ترک کر دے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٥٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧١٣) ۔

ان دونوں حدیثوں سے یہ ثابت ہوا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف ظاہر کے مطابق فیصلہ فرماتے تھے اور باطن کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتے تھے۔ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دلوں کی چھان بین کروں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٣٥١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٦٤ ) ۔

علامہ نووی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے : اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ مجھے ظاہر پر حکم کرنے کا امر کیا گیا ہے اور باطن کے معاملات اللہ کے سپرد ہیں۔ نیز ایک حدیث میں ہے : حضرت اسامہ بن زید نے جہینہ کے ایک کافر پر حملہ کیا۔ اس نے کہا لا الہ الا اللہ، انہوں نے اس کو قتل کردیا۔ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے لا الہ الا اللہ کہا، تم نے اس کو قتل کردیا۔ حضرت اسامہ نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس نے ہتھیار کے ڈر سے کہا تھا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے کیوں نہ اس کا دل چیز کے دیکھ لیا کہ آیا اس نے ڈر سے کہا تھا یا نہیں ! (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٦، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٦٤٣، مسند احمد ج ٤ ص ٤٣٣) ۔

” مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دلوں کی چھان بین کروں “۔ اس کی شرح میں علامہ ابو العباس قرطبی متوفی ٦٥٦ ھ نے لکھا ہے : اس کا معنی یہ ہے کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ظواہر کا اعتبار کروں اور ان کے بواطن کو اللہ کے سپرد کر دوں۔ (المفہم ج ٣ ص ١١٣) ۔

علامہ ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ نے بھی یہی تقریر کی ہے۔ (کمال اکمال المعلم ج ٣، ص ٥٦٥ ) ۔ قاضی شوکانی متوفی ١٢٥٠ ھ نے بھی علامہ نووی کی تقریر نقل کی ہے۔ (نیل الاوطارج ٢، ص ١٠، مطبوعہ مکتبہ الکلیات الازہریہ مصر، ١٣٩٨ ھ) ۔

نیز قاضی شوکانی نے لکھا ہے کہ تمام امور میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظواہر احوال کا اعتبار کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جنگ بدر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا عباس نے یہ عذر پیش کیا کہ مجھ کو جبراً لایا گیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم پر تمہارا ظاہر حجت ہے۔ اور یہ حدیث کہ ہم صرف ظاہر پر حکم کرتے ہیں، ہرچند کہ اس کی عبارت کسی معتبر سند سے ثابت نہیں ہے لیکن اس پر ایسے شواہد ہیں جن کی صحت پر سب اتفاق ہے اور ظاہر کا اعتبار کرنے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منافقین کے ساتھ ان کے ظاہر کے اعتبار سے معاملہ کرتے تھے۔ (نیل الاوطارج ٢، ص ١٢، مطبوعہ مصر) ۔

اس مسئلہ میں بہت واضح دلیل یہ حدیث ہے : حضرت عمر (رض) نے یہ فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں لوگوں پر وحی سے مواخذہ (بھی) کیا جاتا تھا اور اب وحی منقطع ہوچکی ہے۔ اب ہم تمہارا ان چیزوں سے مواخذہ کریں گے جو تمہارے ظاہری اعمال ہیں۔ پس جو شخص ہمارے لیے خیر کو ظاہر کرے گا، اس کو ہم امن سے رکھیں گے اور اس کو اپنے قریب کریں گے اور اس کے باطنی امور سے کوئی چیز ہمارے ذمہ نہیں ہے۔ اس کے باطن کا اللہ حساب کرے گا، اور جس نے ہمارے لیے برائی کو ظاہر کیا، ہم اس کو امن سے رکھیں گے نہ اس کی تصدیق کریں گے خواہ وہ یہ کہے کہ اس کا باطن نیک ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٦٤١ ) ۔

اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے دیکھئے المقاصد الحسنہ ص ١١١۔ ١١٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، اور کشف الخفاء و مزیل الالباس ج ١، ص ١٩٤۔ ١٩٢، خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث ” میں ظاہر پر حکم کرتا ہوں اور باطن کو اللہ کے حوالے کرتا ہوں “۔ ہرچند کہ ان الفاظ کے ساتھ کسی معتبر سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے لیکن یہ احادیث صحیحہ اور آثار قویہ سے معناً ثابت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة  آیت نمبر 73