عَفَا اللّٰهُ عَنْكَۚ-لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ(۴۳)

اللہ تمہیں معاف کرے (ف۱۰۵) تم نے انہیں کیوں اِذن(اجازت) دے دیا جب تک نہ کھلے تھے تم پر سچے اور ظاہر نہ ہوئے تھے جھوٹے

(ف105)

عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ سے ابتدائے کلام و افتتاحِ خِطاب مخاطَب کی تعظیم و توقیر میں مبالَغہ کے لئے ہے اور زبانِ عرب میں یہ عُرفِ شائع ہے کہ مخاطَب کی تعظیم کے موقع پر ایسے کلمے استعمال کئے جاتے ہیں ۔ قاضی عیاض رضی اللہ عنہ نے شفا میں فرمایا جس کسی نے اس سوال کو عتاب قرار دیا اس نے غلطی کی کیونکہ غزوۂ تبوک میں حاضر نہ ہونے اور گھر رہ جانے کی اجازت مانگنے والوں کو اجازت دینا نہ دینا دونوں حضرت کے اختیار میں تھے اور آپ اس میں مختار تھے چنانچہ اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا ” فَاْذَنْ لِمَنْ شِئتَ مِنھُمْ” آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دیجئے تو ” لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ ” فرمانا عتاب کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ اظہار ہے کہ اگر آپ انہیں اجازت نہ دیتے تو بھی وہ جہاد میں جانے والے نہ تھے اور ” عَفَا اللّٰہ ُ عَنْکَ ” کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی تمہیں معاف کرے ، گناہ سے تو تمہیں واسطہ ہی نہیں ۔ اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمال تکریم و توقیر اور تسکین و تسلی ہے کہ قلبِ مبارک پر ” لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ ” فرمانے سے کوئی بار نہ ہو ۔

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ(۴۴)

وہ جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم سے چھٹی نہ مانگیں گے اس سے کہ اپنے مال اور جان سے جہاد کریں اور اللہ خوب جانتا ہے پرہیزگاروں کو

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ(۴۵)

تم سے یہ چھٹی وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے (ف۱۰۶) اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہیں (ف۱۰۷)

(ف106)

یعنی منافقین ۔

(ف107)

نہ اِدھر کے ہوئے نہ اُدھر کے ہوئے ، نہ کُفّار کے ساتھ رہ سکے نہ مؤمنین کا ساتھ دے سکے ۔

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ(۴۶)

انہیں نکلنا منظور ہوتا (ف۱۰۸) تو اس کا سامان کرتے مگر خدا ہی کو ان کا اٹھنا ناپسند ہوا تو ان میں کاہلی بھردی اور(ف۱۰۹) فرمایا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھ رہنے والے کے ساتھ (ف۱۱۰)

(ف108)

اور جہاد کا ارادہ رکھتے ۔

(ف109)

ان کے اجازت چاہنے پر ۔

(ف110)

بیٹھ رہنے والوں سے عورتیں ، بچے ، بیمار اور اپاہج لوگ مراد ہیں ۔

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَۚ-وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ(۴۷)

اگر وہ تم میں نکلتے تو ان سے سوا نقصان کے تمہیں کچھ نہ بڑھتااور تم میں فتنہ ڈالنے کو تمہارے بیچ میں غرابیں دوڑاتے(فساد پھیلاتے)(ف۱۱۱) اور تم میں ان کے جاسوس موجود ہیں (ف۱۱۲) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو

(ف111)

اور جھوٹی جھوٹی باتیں بنا کر فساد انگیزیاں کرتے ۔

(ف112)

جو تمہاری باتیں ان تک پہنچائیں ۔

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ(۴۸)

بےشک انہوں نے پہلے ہی فتنہ چاہا تھا (ف۱۱۳) اور اے محبوب تمہارے لیے تدبیریں الٹی پلٹیں (ف۱۱۴) یہاں تک کہ حق آیا (ف۱۱۵) اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا (ف۱۱۶) اور انہیں ناگوار تھا

(ف113)

اور وہ آپ کے اصحاب کو دین سے روکنے کی کوشش کرتے جیسا کہ عبداللہ بن اُبَی بن سلول منافق نے روزِ اُحد کیا کہ مسلمانوں کو اغواء کرنے کے لئے اپنی جماعت لے کر واپس ہوا ۔

(ف114)

اور انہوں نے تمہارا کام بگاڑنے اور دین میں فساد ڈالنے کے لئے بہت مَکر و حیلے کئے ۔

(ف115)

یعنی اللہ تعالٰی کی طرف سے تائید و نصرت ۔

(ف116)

اور اس کا دین غالب ہوا ۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْؕ-اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْاؕ-وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ(۴۹)

اور ان میں کوئی تم سے یوں عرض کرتا ہے کہ مجھے رخصت دیجئے اور فتنہ میں نہ ڈالیے(ف۱۱۷) سن لو وہ فتنہ ہی میں پڑے(ف۱۱۸)اور بےشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو

(ف117)

شانِ نُزول : یہ آیت جد بن قیس منافق کے حق میں نازِل ہوئی جب نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے لئے تیاری فرمائی تو جد بن قیس نے کہا یارسولَ اللہ میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بڑا شیدائی ہوں مجھے اندیشہ ہے کہ میں رومی عورتوں کو دیکھوں گا تو مجھ سے صبر نہ ہوسکے گا اس لئے آپ مجھے یہیں ٹھہر جانے کی اجازت دیجئے اور ان عورتوں کے فتنہ میں نہ ڈالئے ، میں آپ کی اپنے مال سے مدد کروں گا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ اس کا حیلہ تھا اور اس میں سوائے نِفاق کے اور کوئی علّت نہ تھی ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف سے مُنہ پھیر لیا اور اسے اجازت دے دی ۔ اس کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔

(ف118)

کیونکہ جہاد سے رک رہنا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرنا بہت بڑا فتنہ ہے ۔

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْۚ-وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ(۵۰)

اگر تمہیں بھلائی پہنچے(ف۱۱۹) تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے(ف۱۲۰) تو کہیں (ف۱۲۱) ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے پھر جائیں

(ف119)

اور تم دشمن پر فتح یاب ہو اور غنیمت تمہارے ہاتھ آئے ۔

(ف120)

اور کسی طرح کی شدّت پیش آئے ۔

(ف121)

منافقین کہ چالاکی سے جہاد میں نہ جا کر ۔

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَاۚ-هُوَ مَوْلٰىنَاۚ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(۵۱)

تم فرماؤ ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا وہ ہمارا مولٰی ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِؕ-وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا ﳲ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ(۵۲)

تم فرماؤ تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو خوبیوں میں سے ایک کا (ف۱۲۲) اور ہم تم پر اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تم پر عذاب ڈالے اپنے پاس سے (ف۱۲۳) یا ہمارے ہاتھوں (ف۱۲۴) تو اب راہ دیکھو(انتظار کرو) ہم بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہے ہیں (ف۱۲۵)

(ف122)

یا تو فتح و غنیمت ملے گی یا شہادت و مغفرت کیونکہ مسلمان جب جہاد میں جاتا ہے تو وہ اگر غالب ہو جب تو فتح و غنیمت اور اجرِ عظیم پاتا ہے اور اگر راہِ خدا میں مارا جائے تو اس کو شہادت حاصل ہوتی ہے جو اس کی اعلٰی مراد ہے ۔

(ف123)

اور تمہیں عاد و ثمود وغیرہ کی طرح ہلاک کرے ۔

(ف124)

تم کو قتل و اسیری کے عذاب میں گرفتار کرے ۔

(ف125)

کہ تمہارا کیا انجام ہوتا ہے ۔

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْؕ-اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ(۵۳)

تم فرماؤ کہ دل سے خرچ کرو یا ناگواری سے تم سے ہر گز قبول نہ ہوگا (ف۱۲۶) بےشک تم بے حکم (نافرمان)لوگ ہو

(ف126)

شانِ نُزول : یہ آیت جد بن قیس منافق کے جواب میں نازِل ہوئی جس نے جہاد میں نہ جانے کی اجازت طلب کرنے کے ساتھ یہ کہا تھا کہ میں اپنے مال سے مدد کروں گا ۔ اس پر حضرت حق تبارَک وتعالٰی نے اپنے حبیب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا کہ تم خوشی سے دو یا ناخوشی سے تمہارا مال قبول نہ کیا جائے گا یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو نہ لیں گے کیونکہ یہ دینا اللہ کے لئے نہیں ہے ۔

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ(۵۴)

اور وہ جو خرچ کرتے ہیں اس کا قبول ہونا بند نہ ہوا مگر اسی لیے کہ وہ اللہ ورسول سے منکر ہوئے اور نماز کو نہیں آتے مگر جی ہارے(سستی کی حالت میں) اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری سے (ف۱۲۷)

(ف127)

کیونکہ انہیں رضائے الٰہی مقصود نہیں ۔

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ(۵۵)

تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد کا تعجب نہ آئے اللہ یہی چاہتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان چیزوں سے ان پر وبال ڈالے اور کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے (ف۱۲۸)

(ف128)

تو وہ مال ان کے حق میں سببِ راحت نہ ہوا بلکہ وبال ہوا ۔

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْؕ-وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ(۵۶)

اور اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں (ف۱۲۹) کہ وہ تم میں سے ہیں (ف۱۳۰) اور تم میں سے ہیں نہیں (ف۱۳۱) ہاں وہ لوگ ڈرتے ہیں (ف۱۳۲)

(ف129)

منافقین اس پر ۔

(ف130)

یعنی تمہارے دین و ملّت پر ہیں ، مسلمان ہیں ۔

(ف131)

تمہیں دھوکا دیتے اور جھوٹ بولتے ہیں ۔

(ف132)

کہ اگر ان کا نِفاق ظاہر ہو جائے تو مسلمان ان کے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جو مشرکین کے ساتھ کرتے ہیں اس لئے وہ براہِ تَقیّہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ۔

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ(۵۷)

اگر پائیں کوئی پناہ یا غار یا سما جانے کی جگہ تو رسیاں تڑاتے(پوری کوشش کرتے) ادھرپھر جائیں گے (ف۱۳۳)

(ف133)

کیونکہ انہیں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں سے انتہا درجے کا بُغض ہے ۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِۚ-فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ(۵۸)

اور ان میں کوئی وہ ہے کہ صدقے بانٹنے میں تم پر طعن کرتا ہے (ف۱۳۴) تو اگر ان (ف۱۳۵) میں سے کچھ ملے تو راضی ہوجائیں اور نہ ملے تو جبھی وہ ناراض ہیں

(ف134)

شانِ نُزول : یہ آیت ذُوالخُوَیْصَرَہْ تمیمی کے حق میں نازِل ہوئی ، اس شخص کا نام حُرْقُوْص بن زُہَیْر ہے اور یہی خوارِج کی اصل وبنیاد ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو ذُوالخُوَیْصَرَہ نے کہا یارسولَ اللہ عدل کیجئے ! حضور نے فرمایا تجھے خرابی ہو میں نہ عدل کروں گا تو عدل کون کریگا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عر ض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن مار دوں ، حضور نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اس کے اور بھی ہمراہی ہیں کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر دیکھو گے ، وہ قرآن پڑھیں گے او ر ان کے گلوں سے نہ اترے گا ، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ۔

(ف135)

صدقات ۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۙ-وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤۙ-اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠(۵۹)

اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے اب دیتا ہے ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول ہمیں اللہ ہی کی طرف رغبت ہے (ف۱۳۶)

(ف136)

کہ ہم پر اپنا فضل وسیع کرے اور ہمیں خَلق کے اموال سے غنی اور بے نیاز کر دے ۔