أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلۡاَعۡرَابُ اَشَدُّ كُفۡرًا وَّ نِفَاقًا وَّاَجۡدَرُ اَلَّا يَعۡلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

مدینہ کے (گرد رہنے والے) دیہاتی کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں وہ اسی لائق ہیں کہ ان احکام شرعیہ سے جاہل رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیے ہیں اور اللہ بہت علم والا، بےحد حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مدینہ کے (گرد رہنے والے) دیہاتی کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں وہ اسی لائق ہیں کہ ان احکامِ شرعیہ سے جاہل رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیے ہیں اور اللہ بہت علم والا بےحد حکمت والا ہے (التوبہ : ٩٧)

العرب اور الاعراب کا معنی :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : الاعراب کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں۔ الاعراب، الاعرابی کی جمع ہے۔ العرب اور الاعراب کے معنی حسب ذیل ہیں : علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : العرب، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں، اور الاعراب اصل میں اس کی جمع ہے۔ پھر یہ گائوں اور دیہات میں راہنے والوں کے لیے اسم بن گیا۔ عرف میں جنگلوں اور صحراء میں رہنے والوں کو الاعرابی کہا جاتا ہے۔ اور الاعراب کا معنی ہے بیان۔ حدیث میں ہے :

الثیب تعرب عن نفسھا۔ (صحیح مسلم، النکاح : ٦٨ )

ترجمہ : بےنکاح عورت اپنے متعلق خود بیان کرے گی۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٢٦، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

علامہ نظام الدین الحسن بن محمد القمی نیشاپوری المتوفی ٧٢٨ ھ لکھتے ہیں : اہلِ لغت نے کہا ہے کہ جب کسی شخص کا نسب عرب کی طرف ثابت ہو تو اس کو عربی کہتے ہیں اور جب کوئی شخص جنگل یا صحراء کا رہنے والا ہو تو اس کو اعرابی کہتے ہیں۔ خواہ وہ عرب سے ہو یا عرب کے آزاد شدہ غلاموں میں سے ہو اور اس کی جمع اعراب ہے۔ جیسے مجوسی اور مجوس اور یہودی اور یہود۔ لہٰذا جب اعرابی سے کہا جائے یا اعرابی تو وہ خوش ہوتا ہے اور جب عربی سے کہا جائے یا اعرابی تو وہ غضب ناک ہوتا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جس نے عرب کے شہروں کو وطن بنایا وہ عربی ہے۔ اور جس نے جنگلوں اور صحراء میں رہنے کو اختیار کیا وہ اعرابی ہے۔ اسی وجہ سے مہاجرین اور انصار کو اعراب کہنا جائز نہیں ہے۔ وہ عرب ہیں۔ حدیث میں ہے :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو کوئی عورت مرد کی امام نہ بنے اور نہ کوئی اعرابی مہاجر کا امام بنے اور نہ کوئی فاجر مومن کا امام بنے۔ سوا اس کے کہ اس کو سلطان مجبور کرے۔ وہ اس کی تلوار اور کوڑوں سے ڈرتا ہو۔ الحدیث : (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٠٨١) ۔

ایک قول یہ ہے کہ عرب کو عرب اس لیے کہتے ہیں کہ وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ جن کی العربہ میں نشو و نما ہوئی۔ العربہ، تہامہ کا ایک حصہ ہے۔ ان کی اپنے شہر کی طرف نسبت کی گئی ہے اور ہر وہ شخص جو جزیرہ عرب میں رہتا ہو اور ان کی زبان بولتا ہو وہ ان میں سے ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی زبان ان کے مافی الضمیر کا بیان کرنے والی ہو کیونکہ ان کی زبان میں فصاحت اور بلاغت بہت زیادہ تھی (اور الاعراب کا معنی ہے بیان کرنا) اور بعض حکماء سے منقول ہے کہ روم کی حکمت ان کے دماغوں میں ہے اور ہند کی حکمت ان کے اوہام میں ہے اور یونان کی حکمت ان کے دلوں میں ہے۔ اور عرب کی حکمت ان کی زبانوں میں ہے اور یہ ان کے الفاظ اور ان کی عبارات کی مٹھاس کی وجہ سے ہے اور الاعراب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ کفر اور نفاق سے بہت سخت ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ وحشیوں کے مشابہ ہیں۔ کیونکہ ان پر گرم ہوا کا غلبہ ہوتا ہے جو کثرت طیش اور اعتدال سے خروج کا موجب ہوتی ہے اور جن لوگوں پر صبح و شام انوارِ نبوت کا فیضان ہوتا ہو اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مواعظ سنتے رہتے ہوں اور دن رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تربیت سے بہرہ مند ہوتے ہوں۔ ان کے برابر جنگل میں رہنے والے وہ لوگ کب ہوسکتے ہیں جن کی کوئی تربیت کرتا ہو نہ ادب سکھاتاہو اور اگر تم چاہو تو جنگلی اور پہاڑی پھلوں کا باغات کے پھلوں سے مقابلہ کرلو۔

حضرت ابو مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! شقاوت اور دلوں کی سختی فدادین (چرواہوں) میں ہے جو اونٹوں کی دموں کے پاس چیخ و پکار کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٠٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥١، مسند احمد ج ٢ ص ٢٥٨ ) ۔

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے الاعراب کو شقی اور سخت دل قرار دیا ہے۔ (غرائب القرآن ج ٣ ص ٥٢١۔ ٥٢٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ) ۔

علامہ ابو حفص عمر بن علی الدمشقی الحنبلی لامتوفی ٨٨٠ ھ لکھتے ہیں : عرب اور اعراب میں یہ فرق ہے کہ اعراب کی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مذمت فرمائی ہے، اور عرب کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدح فرمائی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین وجوہ سے عرب سے محبت رکھو : کیونکہ میں عربی ہوں، اور قرآن عربی میں ہے اور اہل جنت کی زبان عربی ہوگی۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١١٤٤١، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٥٥٧٩، اس کی سند میں العلاء بن عمرو الحنفی ضعیف ہے، مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٥٢ ) ۔

علامہ نیشاپوری نے عرب کی وجہ تسمیہ میں جو اقوال ذکر کیے ہیں علامہ ابو حفص حنبلی نے ان کا رد کیا ہے اور لکھا ہے کہ جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ حضرت ہاجرہ جرہم کے پاس رہیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے ان کے پاس نشو و نما پائی۔ وہ سب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے پہلے عرب تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے جرہم میں عربی سیکھی تھی۔ اور صحیح یہ ہے کہ عرب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے پہلے تھے۔ اور عاد، ثمود، طسم، جدیس، جرہم، عمالیق یہ سب عرب تھے اور نسابین نے کہا ہے کہ سام بن نوح ابوالعرب تھے۔ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عربی اور دوسری زبانوں میں کلام کیا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عربی زبان تمام زبانوں میں فصیح اور بلیغ زبان ہے۔ (اللباب فی علوم الکتاب ج ١٠، ص ١٨٠۔ ١٧٩، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ)

الاعراب سے مراد مدینہ کے گرد رہنے والے دیہاتی ہیں :

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : جب جمع کا صیغہ معرف باللام ہو تو اس میں اصل یہ ہے کہ اس سے مراد معہود سابق ہو، اور اگر مہمود سابق موجود نہ ہو تو اس کو ضرورتاً استغراق پر محمول کیا جائے گا۔ کیونکہ جمع کا صیغہ تین یا تین سے زیادہ افراد کے لیے ہوتا ہے اور الف، لام، تعریف کے لیے ہوتا ہے۔ پس اگر جمع کے معنی میں کوئی معہود سابق ہو تو اس کو مراد لینا واجب ہے اور اگر معہودموجود نہ ہو تو اس کو استغراق پر محمول کیا جائے گا اور جب یہ ثابت ہوگیا تو ہم یہ کہتے ہیں کہ یہاں الاعراب سے مراد منافقین اعراب کی ایک جماعتِ معینہ ہے۔ جو مدینہ کے منافقین سے دوستی رکھتی تھی۔ لہٰذا اس لفظ سے مدینہ کے گرد رہنے والے منافق دیہاتی مراد ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٦، ص ١٢٥، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 97