أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سَيَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ لَـكُمۡ اِذَا انْقَلَبۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ‌ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ‌ؕ اِنَّهُمۡ رِجۡسٌ‌ وَّمَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جب تم ان کی طرف لوٹ کر جائو گے تو وہ تمہارے سامنے عنقریب اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم (ان کے جھوٹے بہانوں سے) ان سے صرف نظر کرو، پس تم ان کی طرف توجہ نہ کرو، بیشک وہ ناپاک ہیں، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے (یہ) ان کے ان کاموں کی سزا ہے جو وہ کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب تم ان کی طرف لوٹ کر جائو گے تو وہ تمہارے سامنے عنقریب اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم (ان کے جھوٹے بہانوں سے) ان سے صرف نظر کرو، پس تم ان کی طرف توجہ نہ کرو، بیشک وہ ناپاک ہیں، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے (یہ) ان کے ان کاموں کی سزا ہے جو وہ کرتے تھے (التوبہ : ٩٥)

منافقین سے ترک تعلق کا حکم :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ منافقین غزوہ تبوک میں نہ جانے کے متعلق جھوٹے بہارنے بناتے تھے۔ اور اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے ان بہانوں کو جھوٹی قسموں کے ساتھ موکد کرتے ہیں۔ منافقین نے قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں جانے پر قادر نہ تھے۔ اور انہوں نے یہ قسمیں اس لیے کھائی تھیں تاکہ مسلمان ان سے درگزر کریں اور ان کی مذمت نہ کریں۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت کعب بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک سے لوٹے تو لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھ گئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملنے وہ لوگ آئے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں نہیں گئے تھے۔ وہ آ کر قسمیں کھا کھا کر جھوٹے عذر پیش کرتے رہے۔ وہ اسی (٨٠) سے کچھ زیادہ لوگ تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ظاہری عذر کو قبول کرکے انہیں بیعت کرلیا اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیا۔ حضرت کعب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی ہدایت دینے کے بعد مجھ پر جو سب سے بڑا احسان کیا وہ یہ تھا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کوئی جھوٹا عذر پیش نہیں کیا۔ (جامع البیان جز ١١ ص ٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان سے اعراض کرو یعنی ان کی طرف توجہ نہ کرو۔ امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس الرازی ابن ابن حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو اپنے بعد خلیفہ بنایا اور ان کو اپنے ساتھ نہیں لے گئے۔ منافقین نے کہا : آپ حضرت علی (رض) کو کسی ناراضگی کی بناء پر اپنے ساتھ نہیں لے گئے۔ پھر حضرت علی (رض) راستے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جا ملے اور منافقین کی باتوں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطلع کیا۔ تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے پاس گئے تو انہوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو خلیفہ بنایا تھا اور میں نے اپنے بعد تم کو خلیفہ بنایا ہے۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تھے۔ ہاں مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا : کیوں نہیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک سے واپس آئے تو حضرت علی (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا استقبال کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سواری پر اپنے ساتھ بٹھایا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ منافقین اور مخالفین پر لعنت فرمائے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مومنین سے فرمایا : ان کے ساتھ بات کرو نہ ان کے ساتھ بیٹھو اور ان سے اس طرح اعراض کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦ ص ١٨٦٥، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ) ۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیشک وہ ناپاک ہیں۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ان کا باطن خبیث اور نجس ہے اور ان کی روح ناپاک ہے۔ اور جس طرح جسمانی نجاستوں سے احتراز کرنا واجب ہے۔ اسی طرح روحانی نجاستوں سے بھی احتراز کرنا واجب ہے تاکہ ان کی نجاستیں انسان میں سرایت نہ کر جائیں اور تاکہ ان کے برے کاموں کی طرف انسان کی طبیعت راغب نہ ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 95