أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لٰـكِنِ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ جَاهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ‌ؕ وَاُولٰۤئِكَ لَهُمُ الۡخَيۡـرٰتُ‌ وَاُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

لیکن رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا، اور ان ہی کے لیے سب اچھائیاں ہیں اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیکن رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا اور ان ہی کے لیے سب اچھائیاں ہیں اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں اللہ نے ان کے لیے ان جنتوں کو تیار کر رکھا ہے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی بڑی کامیابی ہے (التوبہ : ٨٩۔ ٨٨)

ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے اور قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وہ کافروں اور منافقوں کی صفات بیان کرنے کے بعد مومنوں کی صفات کا ذکر فرماتا ہے اور کافروں اور منافقوں کی سزا کے بعد مومنوں کی جزا کا ذکر فرماتا ہے۔ پہلے بیان فرمایا تھا کہ منافق حیلے بہانے کرکے جہاد سے بھاگتے ہیں اور ان کی سزا دوزخ ہے۔ اب بیان فرمایا کہ مومن اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ جہاد کرتے ہیں اور ان کی جزا جنت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 88