أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنَ الۡاَعۡرَابِ مَنۡ يَّتَّخِذُ مَا يُنۡفِقُ مَغۡرَمًا وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ‌ؕ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ السَّوۡءِ‌ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‏ ۞

ترجمہ:

اور بعض دیہاتی وہ ہیں جو (راہ حق میں) اپنے خرچ کرنے کو جرمانہ قرار دیتے ہیں اور وہ تم پر گردش ایام کے منتظر ہیں حالانکہ بری گردش ان ہی پر مسلط ہے اور اللہ خوب سننے والا بہت جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بعض دیہاتی وہ ہیں جو (راہِ حق میں) اپنے خرچ کرنے کو جرمانہ قرار دیتے ہیں اور وہ تم پر گردش ایام کے منتظر ہیں حالانکہ بری گردش ان ہی پر مسلط ہے اور اللہ خوب سننے والا بہت جاننے والا ہے (التوبہ : ٩٨)

اعراب کی سنگ دلی اور شقاوت :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص جنگلوں میں رہتا ہے وہ سخت دل ہوتا ہے اور جو شخص شکار کے پیچھے جاتا ہے وہ غافل ہوجاتا ہے اور جو شخص سلطان کے دروازوں پر جاتا ہے وہ فتنوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٥٦، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٨٥٩، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٣٢٠، مسند احمد ج ١ ص ٣٥٧، اتحاف السادۃ المتقین ج ١ ص ٣٨٧، حلیتہ الاولیاء ج ٤ ص ٧٢، کنزالعمال رقم الحدیث : ٤١٥٨٨، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٣٧٠١) ۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا۔ اس نے پوچھا : کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچوں کو بوسہ دیتے ہیں۔ ہم تو ان کو بوسہ نہیں دیتے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحمت نکال لی ہے تو کیا میں اس کا مالک ہوں ؟ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٩٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣١٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٦٥، مسند احمد ج ٦ ص ٧٠)

حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ چونکہ بادیہ نشینوں اور اعراب میں شقاوت اور سخت دلی غالب ہوتی ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بادیہ نشینوں میں سے کوئی رسول نہیں بھیجا بلکہ جو رسول بھیجے وہ شہر کے رہنے والوں میں سے بھیجے جیسا کہ اس آیت میں ہے :ومآ ارسلنا من قبلک الا رجالاً نوحیٓ الیھم من اہل القریٰ ۔ (یوسف : ١٠٩)

ترجمہ : ہم نے آپ سے پہلے مردوں کے سوا کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے جو بستیوں کے رہنے والے تھے۔(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٢٩، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ)

الدوائر اور دائرۃ السوء کے معانی :

الدوائر : دائرہ کی جمع ہے۔ نعمت سے مصیبت کی طرف پلٹنے والی حالت کو دائرہ کہتے ہیں۔ اصل میں دائرہ اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کا احاطہ کرے۔ اور دوائر الزمان، زمانہ کی گردش کو کہتے ہیں اور اس کا استعمال صرف ناپسندیدہ چیزوں اور مصائب میں ہوتا ہے۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ منافقین تم پر زمانہ کی گردش کا انتظار کر رہے ہیں۔ زمانہ کی گردش سے کبھی راحت آتی ہے اور کبھی مصیبت۔ وہ اس انتظار میں ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پاجائیں اور مشرکین کا غلبہ ہوجائے۔

علیھم دائرۃ السوء : سوء (سین پر زبر کے ساتھ) کا معنی فساد اور ردی ہونا ہے اور سوء (سین پر پیش کے ساتھ) کا معنی بلاء اور ضرر ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ دونوں اسم ہیں اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ دونوں مصدر ہوں۔ اور بعض نے کہا کہ سوء (زبر کے ساتھ) کا معنی مذمت ہے اور سوء (پیش کے ساتھ) کا معنی عذاب اور ضرر ہے اور سوء (زبر کے ساتھ) اسم ہے اور سوء (پیش کے ساتھ) مصدر ہے۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ منافقین، مسلمانوں پر بری گردش کے منتظر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ بری گردش صرف ان ہی پر ہوگی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 98