أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ جَآءَ الۡمُعَذِّرُوۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ وَقَعَدَ الَّذِيۡنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ ؕ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور بہانہ بناتے ہوئے دیہاتی آئے تاکہ ان کو (بھی جہاد سے) رخصت دی جائے اور جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی تھی وہ (گھروں میں) بیٹھ گئے، ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو عنقریب عذاب ہوگا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بہانہ بناتے ہوئے دیہاتی آئے تاکہ ان کو (بھی جہاد سے) رخصت دی جائے اور جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی تھی وہ (گھروں میں) بیٹھ گئے، ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو عنقریب عذاب ہوگا (التوبہ : ٩٠)

اس سے پہلی آیتوں میں مدینہ میں رہنے والے منافقوں کے احوال بیان فرمائے تھے۔ اب مدینہ کے اردگرد رہنے والے دیہاتیوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔

امام رازی نے لکھا ہے کہ المعذر (ذال پر تشدید کے بغیر) وہ شخص ہے جو کسی کام کی کوشش کرنا چاہے مگر اس کو عذر درپیش ہو، اور المعذّر (ذال پر تشدید کے ساتھ) وہ شخص ہے جو فی الواقع معذور نہ ہو اور جھوٹے عذر پیش کرے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٢٠، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

امام ابو محمد عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ الدینوری المتوفی ٢٧٦ ھ لکھتے ہیں : المعذرون : یہ وہ لوگ ہیں جو جدوجہد نہیں کرتے۔ یہ ان چیزوں کو پیش کرتے ہیں جن کو کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ جب کوئی شخص کسی کام میں تقصیر کرے تو کہا جاتا ہے عذّرت (ال پر زبر) اور جب کسی کام میں احتیاط کرے تو کہا جاتا ہے اعذرت۔ (تفسیر غریب القرآن ص ١٦٦، دارومکتبہ الہلال بیروت۔ ١٤١١ ھ) ۔

امام ابن اسحٰق نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : یہ بنو غفار کی ایک جماعت تھی۔ انہوں نے آ کر عذر پیش کیے لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں معذور قرار نہیں دیا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦، ص ١٨٦٠، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 90