أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّلَا عَلَى الَّذِيۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡكَ لِتَحۡمِلَهُمۡ قُلۡتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُكُمۡ عَلَيۡهِۖ تَوَلَّوْا وَّاَعۡيُنُهُمۡ تَفِيۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوۡا مَا يُنۡفِقُوۡنَؕ‏ ۞

ترجمہ:

اور نہ ان لوگوں پر کوئی حرج ہے جو آپ کے پاس آئے تاکہ آپ انہیں جہاد کے لیے سواری مہیا کریں تو آپ نے فرمایا تمہارے لیے میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے، وہ اس حال میں واپس گئے کہ ان کی آنکھوں سے اس غم میں آنسو بہہ رہے تھے کہ ان کے پاس جہاد میں خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور نہ ان لوگوں پر کوئی حرج ہے جو آپ کے پاس آئے تاکہ آپ انہیں جہاد کے لیے سواری مہیاکریں تو آپ نے فرمایا تمہارے لیے میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے، وہ اس حال میں واپس گئے کہ ان کی آنکھوں سے اس غم میں آنسو بہہ رہے تھے کہ ان کے پاس جہاد میں خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے (التوبہ : ٩٢)

عبادت سے محروم ہونے کی بناء پر رونا :

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس الرازی ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد میں جائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کی ایک جماعت آئی جن میں حضرت عبدللہ بن مغفل (رض) بھی تھے۔ انہوں نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں کوئی سواری عطا کیجئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرے پاس کوئی سواری ہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ وہ روتے ہوئے واپس چلے گئے کیونکہ جہاد سے رہ جانا ان پر بہت شاق تھا۔ اور ان کے پاس زاد راہ تھا نہ سواری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت اور جہاد پر حرص کی وجہ سے ان کے عذر میں یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم : ج ٦ ص ١٨٦٤۔ ١٨٦٣، رقم الحدیث : ١٠٢٠٠، مطبوعہ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ) ۔

زہدم بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پاس بیٹھے تھے کہ مرغی کا ذکر چل پڑا۔ ان کے پاس بنو تیم اللہ کا ایک سرخ رنگ والا شخص تھا گویا کہ وہ آزاد شدہ غلاموں میں سے تھا۔ اس کو کھانے کے لیے بلایا۔ اس نے کہا : میں نے اس مرغی کو کوئی چیز کھاتے ہوئے دیکھا تھا۔ مجھے اس سے گھِن آئی اور میں نے اس کو نہ کھانے کی قسم کھائی ہے۔ حضرت ابوموسیٰ نے کہا : آئو میں تمہیں اس کے متعلق ایک حدیث سنائوں : میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سواری طلب کر رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تم کو سوار نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس کوئی سواری ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مال غنیمت سے اونٹ آگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے متعلق پوچھا اور فرمایا : اشعریوں کی جماعت کہاں ہے ؟ پھر ہمارے لیے پانچ اونٹوں کا حکم دیا جو سفید کوہان والے اور فربہ تھے۔ جب ہم چل پڑے تو ہم نے آپس میں کہا : یہ ہم نے کیا کیا ؟ ہ میں برکت نہ دی جائے، ہم دوبارہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے۔ ہم نے عرض کیا : ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سواری کا سوال کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھائی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو سواری نہیں دیں گے۔ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھول گئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تم کو سواری نہیں دی تھی۔ یہ سواری تم کو اللہ نے دی تھی۔ اور اللہ کی قسم ! میں جس کسی کام کے نہ کرنے کی قسم کھائوں پھر اس کام کے کرنے میں خیر دیکھوں تو میں اس کام کو کروں گا اور اس قسم کا کفارہ دوں گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٣٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٤٩ ) ۔

اس آیت میں اور اس کے شان نزول میں جو حدیث ذکر کی گئی ہے اس میں مذکور ہے کہ جہاد میں شرکت سے محروم ہونے کی وجہ سے صحابہ شدت غم سے رو رہے تھے۔ ہم لوگ جان، مال اور اولاد کے نقصان کے غم میں روتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوا ہے نماز قضاء ہونے پر ہم روئے ہوں یا حج سے یا جہاد سے محروم ہونے پر ہم روئے ہوں !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 92