أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَعۡتَذِرُوۡنَ اِلَيۡكُمۡ اِذَا رَجَعۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ‌ ؕ قُلْ لَّا تَعۡتَذِرُوۡا لَنۡ نُّـؤۡمِنَ لَـكُمۡ قَدۡ نَـبَّاَنَا اللّٰهُ مِنۡ اَخۡبَارِكُمۡ‌ ؕ وَ سَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَـكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوۡنَ اِلٰى عٰلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

(اے مسلمانو ! ) جب تم ان (منافقین) کی طرف لوٹ کر جائو گے تو وہ تمہارے سامنے بہانے بنائیں گے، (اے رسول مکرم ! ) آپ کہیے کہ تم بہانے نہ بنائو ہم ہرگز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے، اللہ نے ہم کو تمہارے حالات سے مطلع کردیا ہے اور اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے (طرز) عمل کو دیکھے گا، پھر تم اس ذات کی طرف لوٹائے جائو گے جو ہر غیب اور ہر ظاہر کو جاننے والا ہے، پس وہ تم کو ان کاموں کی خبر دے گا جو تم کرتے رہے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے مسلمانو ! ) جب تم ان (منافقین) کی طرف لوٹ کر جائو گے تو وہ تمہارے سامنے بہانے بنائیں گے، (اے رسول مکرم ! ) آپ کہیے کہ تم بہانے نہ بنائو ہم ہرگز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے، اللہ نے ہم کو تمہارے حالات سے مطلع کردیا ہے اور اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے (طرز) عمل کو دیکھے گا، پھر تم اس ذات کی طرف لوٹائے جائو گے جو ہر غیب اور ہر ظاہر کو جاننے والا ہے، پس وہ تم کو ان کاموں کی خبر دے گا جو تم کرتے رہے تھے (التوبہ : ٩٤)

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منافقوں کے بہانوں کو اس لیے قبول نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطلع فرما دیا تھا کہ منافق جھوٹ بول رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ مستقبل میں منافقوں کی کیا روش ہوگی۔ آیا جس صدق اور اخلاص کا وہ اظہار کر رہے ہیں وہ اس پر قائم رہیں گے یا نہیں۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے اعمال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا عالم الغیب ہونا :

اس کے بعد فرمایا : وہ (اللہ تعالی) ہر غیب اور ہر ظاہر کو جاننے والا ہے، اور ہر غیب اور ہر ظاہر کو جاننا اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ الغیب میں لام استغراق کا ہے اس لیے مخلوق کو عالم الغیب کہنا جائز نہیں ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ فرماتے ہیں : علمِ غیب بالذات اللہ عزوجل کے لیے خاص ہے۔ کفار اپنے معبودانِ باطل وغیرہم کے لیے مانتے تھے۔ لہٰذا مخلوق کا عالم الغیب کہنا مکروہ اور یوں کوئی حرج نہیں کہ اللہ کے بتائے سے امور غیب پر انہیں اطلاع ہے۔ (الامن والعلیٰ ص ١٨٨، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر) ۔

اس آیت میں اللہ تعالیی نے اپنی صفت عالم الغیب کو اس لیے بیان فرمایا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو کہ اللہ ان کے باطن میں چھپی ہوئی خباثتوں کو اور ان کے دلوں میں جو مکر و فریب اور سازشیں ہیں ان سب کو جاننے والا ہے۔ اس آیت میں ان کو ڈرایا گیا ہے اور ان کو ڈانٹ ڈپٹ کی گئی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 94